سلام اس سوچ کو!
13 جون 2020 2020-06-13

سچ پوچھیں اب تو مجھے اس حکومت کے پاگل پن پر کوئی شبہ ہی نہیں رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے جب کرونا پاکستان میں ابھی داخل ہی ہوا تھا، ابھی صرف چند لوگ ہی اس میں مبتلا ہوئے تھے، اموات بھی بہت کم تھیں، تب پورے ملک کو ”لاک ڈاﺅن“ کردیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان تو تب بھی لاک ڈاﺅن کے حق میں نہیں تھے۔ اس حوالے سے ایک روز پہلے انہوں نے لمبی چوڑی تقریر بھی فرما دی تھی، پر پھر یہ ہوا ان کے آقاﺅں نے لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کرکے خود ہی اسے اناﺅنس بھی کردیا اور بے چارے وزیراعظم یہ سوچتے ہی رہ گئے، یہی فیصلہ کرنا تھا کم از کم مجھے بتا تو دیتے۔ میں ایک روز پہلے یہ تقریر تو نہ کرتا ”ہم کسی صورت لاک ڈاﺅن نہیں کریں گے“۔ کوئی مانے نہ مانے اس لاک ڈاﺅن کے ملکی معیشت پر بھی اتنے برے اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے جس کی توقع کی جارہی تھی یا جس سے غیر ضروری طور پر وزیراعظم ہمیں ڈرا رہے تھے۔ البتہ اس عمل کا فائدہ یہ ہوا انسانی صحت مکمل طور پر بربادی کی جانب بڑھتے بڑھتے اچانک رک سی گئی تھی۔ ابتداءمیں حکومت کی لاک ڈاﺅن پالیسی سے لوگوں نے بھی اس وباءکو بہت سیریس لیا اور احتیاطی تدابیر اس لئے اپنانے پر مجبور ہوئے کہ لاک ڈاﺅن کا مطلب ہی یہی تھا حالات بہت خراب ہیں، مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے میرے پیارے بھائی ندیم افضل چن کے ایک آڈیو کلپ نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا جس میں وہ اپنے ایک عزیز ”مختارے“ کو صورتحال کی سنگینی کا احساس اپنے مخصوص انداز میں دلا رہے ہیں۔ مختارا تو ندیم افضل چن کے دباﺅ میں آ کر شاید گھر بیٹھ گیا ہوگا، پر ندیم افضل چن کے اندر لوگوں کی خدمت کا جو کیڑا ہے اس نے ٹک کر اسے گھر نہیں بیٹھنے دیا جس کے نتیجے میں اب سنا ہے وہ خود کرونا میں مبتلا ہوگیا ہے۔ اللہ اسے صحت و سلامتی عطا فرمائے۔ صرف یہی چند لوگ ہیں جن کی وجہ سے سیاست کو آج بھی لوگ عبادت ہی سمجھتے ہیں۔ یہ درست ہے لاک ڈاﺅن کی صورت میں انفرادی سطح پر کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بے روزگاری میں کچھ مزید اضافہ ہوگیا۔ غربت بھی مزید بڑھ گئی۔ لوگوں کو ایک شہر سے دوسرے میں جانے کیلئے کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا، پر مذکورہ بالا تمام مسائل کو کسی نہ کسی صورت میں لوگوں نے مینیج کرلیا۔ یہ پاکستان ہے اور پاکستان میں ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل لوگ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں کیونکہ پاکستان کا مطلب اب پہلے والا نہیں رہا۔ پاکستان کا مطلب اب یہ ہے ”پاکستان کا مطلب کیا.... پیسے ساڈے ہتھ پھڑا.... جیہڑا مرضی کام کرا....“ سو لاک ڈاﺅن میں بھی سارے کام ماشاءاللہ پولیس اور انتظامیہ کی جیبیں گرم کرنے کی صورت میں چلتے رہے۔ پولیس کیلئے کسی نہ کسی ”رزق حرام“ کا بندوبست ہو ہی جاتا ہے۔ کوئی خانوں یعنی ”گیسٹ ہاﺅسز“ کی منتھلیاں بند ہوئیں تو دو چار گھنٹے کیلئے دکانیں وغیرہ کھلوانے اور ڈبل سواری وغیرہ کے نذرانوں سے ان کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہوگیا۔ گویا لاک ڈاﺅن کی صورت میں حرام یا حلال طور پر مکمل رزق کسی پر بھی بند نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں کرونا کی ابتداءہوتے ہی سب سے پہلے سب سے بہترین ”کارکردگی“ یہ دکھائی فوری طور پر اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندہ مانگنا شروع کردیا۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے وزیراعظم کرونا ریلیف فنڈ قائم کردیا۔ ان کی اس بار اس اپیل کو بہت زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی خود اس وباءکے نتیجے میں بے شمار مالی و سماجی مسائل کا شکار ہوئے۔ دوسرے خان صاحب کی ہر معاملے میں چندہ مانگنے کی عادت سے بھی کچھ لوگ اب بیزار سے ہونے لگے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے جب نئے نئے وہ اقتدار میں آئے اپنی پہلی ہی تقریر میں اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کر ڈالی کہ ایک ایک ہزار ڈالر چندہ دیں تاکہ ملکی معیشت کو سنبھالا مل سکے۔ ان کی اس اپیل کو بھی رد کردیا گیا تھا۔ اصل میں اندرون ملک و بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانی اقتدار میں آنے سے پہلے خان صاحب پر جو اعتماد کرتے تھے، خان صاحب مانیں نہ مانیں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت میں آنے کے بعد مختلف شعبوں میں ان کی مسلسل ناکامیاں و نااہلیاں ہیں جو رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ لوگ ان کی باتوں کو اب سیریس نہیں لیتے۔ ایک اور اہم بات لوگ یہ محسوس کرتے ہیں۔ دوسرے سے بار بار چندوں کی اپیلیں کرنے سے پہلے خان صاحب اور ان کے اربوں کھربوں پتی دوست ان کے سیاسی ساتھی، ان کے ارکان پارلیمنٹ، ان کے وزراءاور مشیران وغیرہ اپنی ذاتی جیبوں سے کیا دیتے ہیں؟ عام آدمی پہلے ہی بے پناہ مالی مسائل کا شکار ہے، خصوصاً جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے اس کی کچھ غلط پالیسیوں اور ناقص حکمت عملیوں سے لوگوں کو جن معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کے اثرات اللہ جانے کتنے برسوں تک انفرادی و اجتماعی سطح پر انہیں جھیلنے پڑیں گے۔ ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت یا حکمرانوں نے بھی بدترین معاشی حالات کی ذمہ داری سابقہ حکمرانوں پر ڈال دی۔ ممکن ہے ان کا موقف درست ہو، مگر موجودہ حکومت نے بار بار اپنی معاشی ٹیم تبدیل کرکے خصوصاً اپنے پی ٹی آئی کے ”دماغ“ بلکہ ”بددماغ“ اسد عمر کو تبدیل کرکے لوگوں کو بڑا واضح پیغام دیا کہ ملکی معیشت کی تباہی کے ذمہ داران سابقہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ موجودہ حکمران بھی ہیں۔ سابقہ حکمران کرپٹ تھے، موجودہ حکمران نااہل ہیں، کرپٹ بھی ہیں، کم از کم شوگر کمیشن رپورٹ تو یہی ظاہر کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ پڑے گا اس ملک کو چالیس پچاس برسوں کی کرپشن نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے یا دو برسوں کی نااہلیوں نے؟۔ بہرحال میں یہ عرض کررہا تھا جب حکومت نے پاکستان میں کرونا کے ابتدائی دنوں میں لاک ڈاﺅن لگایا کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑی تھی۔ لوگوں نے اپنے مستحق بھائیوں کی دل کھول کر مدد کی۔ مجھے یقین ہے اللہ کے اس وعدے کے تحت تب بھی پاکستان میں ایک شخص بھوکا نہیں سویا ہوگا یا بھوک سے نہیں مرا ہوگا کہ رزق اللہ کے ذمے ہے۔ وہ پتھروں میں کیڑوں کو رزق مہیا کرسکتا ہے تو ہمارا ایمان یہ ہونا چاہئے کوئی انسان کم از کم بھوک سے نہیں مرے گا۔ وزیراعظم کی اس حوالے سے فکر غیر ضروری ہے۔ کس قدر احمقانہ ضد ہے جب کرونا ابتدائی سٹیج پر تھا پورا ملک لاک ڈاﺅن کردیا گیا۔ اب جبکہ کرونا پورے ملک میں پوری طرح پنجے گاڑ رہا ہے وزیراعظم فرما رہے ہیں ”ہم لاک ڈاﺅن نہیں کریں گے“۔ سلام اس سوچ کو !!


ای پیپر