قومی سیاست میں متوقع گرما گرمی…!
13 جون 2019 2019-06-13

یوں تو گزشتہ نو، دس ماہ جب سے جناب عمران خان صاحب کی زیر قیادت وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے قومی سیاست میںبحیثیت مجموعی گرما گرمی، ضد، ہٹ دھرمی، مخالفین پر الزام تراشی، حقائق سے چشم پوشی اور ملکی و قومی مسائل و مشکلات کے حل میں حکومت کی ناکامی کے پہلو نمایا ں رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اگر چہ قومی اسمبلی میں چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے اور اسے گرانا یا قومی اسمبلی میں شکست دینا چنداں مشکل نہیں لیکن مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیت علمائے اسلام ف پر مشتمل بھاری بھر کم اپوزیشن اس آپشن کو استعمال کرنے سے بوجوہ گریزاں ہے۔ شاید اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنی نااہلی ، نالائقی اور مسائل و مشکلات کے حل میں ناکامی کی بنا پر عوام کی اُمیدوں بالخصوص اپنے حامیوں اور اپنے متعلقین اور متوسلین کی اُمیدوں پر پورا نہ اُترنے کی وجہ سے خود ہی اپنے ملبے میں دب جائیگی اور آئندہ اس کے اقتدار میں آنے کی راہ مسدود ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ جیسا کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ تحریک انصاف کو بر سر اقتدار لانے میں مقتدر حلقوں کی حمایت اور تائید حاصل رہی ہے اور اب بھی حاصل ہے لہذا اس حمایت اور تائید کے ہوتے ہوئے اس کے خلاف کسی طرح کی کاروائی یا اس کو اقتدار سے ہٹانے کی کوئی بھی مساعی یا منصوبہ بندی آسانی سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بنابریں اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کے گرانے کے معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہیں اور نہ ہی انھوں نے اس ضمن میں کوئی واضع لائحہ عمل اختیار کیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آئندہ بھی یہ منظر نامہ قائم رہے گا یا اس میں اس بنا پر تبدیلی آئے گی کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کا علان موجود ہے اور اپوزیشن جماعتیں جلد ہی (جون کے وسط یا اس سے قبل) اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرس کے انعقاد کا فیصلہ بھی کر چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ۱۱ جون کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جا چکا ہے جس میں عوام پر بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کا مزید بوجھ ہی نہیں ڈالا گیا ہے بلکہ IMF سے متوقع پیکج لینے کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں مزید اضافے ، عوام کو دی جانے والی سبسڈیز کے خاتمے اور اس طرح کے دوسرے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اس کے ساتھ ایک اور افسوس ناک پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین ، سابق صدر مملکت اور ممبر قومی اسمبلی جناب آصف علی زرداری کو نیب نے گرفتار کر لیا ہے ۔ اس ساری صورت حال کو سامنے رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ حالات و واقعات اب ویسے نہیں رہیں گے جیسے پہلے تھے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخی اور اختلافات میں اضافہ کھل کر سامنے آئے گا۔ اس کا مظاہر ہ پیر کی شام کو قومی اسمبلی میں دیکھنے میں آچکا ہے جب اپوزیشن محترم آصف علی زرداری کی گرفتاری کے معاملے کو زیر بحث لانا چاہتی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے ذاتی وضاحت کے لیے مائیک وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے حوالے کر دیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے سیپکر کے ڈائس کا گھیراو کر لیا۔ شیخ رشید یہ دھمکیاں دیتے رہے کہ مجھے اگر نہ بولنے دیا گیا تو وہ اس ایوان میں کسی کو بولنے نہیں دیں گے مگر اپوزیشن کی نعر ہ بازی اور احتجاج میں کمی نہ آئی اور بلاخر ڈپٹی سپیکر کو اجلاس اگلے دن کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

پیر کی شام کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے احتجاج کا جو منظر نامہ سامنے آیا اس کے بارے میں اگر کہا جائے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے لیے اس میں کوئی نیا پن نہیں تھا تو یہ کہنا کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن ارکان کی تند وتیز تنقیدی تقاریر اور حکومتی بے حسی اور معاملات کو سنجیدگی سے نہ لینے کے حکومتی رویے کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا قومی اسبملی اور سینٹ کے اجلاسوں سے واک آوٹ اور پریس کانفرسوں میں اپوزیشن رہنماوں کی سخت مخالفانہ بیان بازی اور حکومت کی نااہلی اور ملکی مسائل و مشکلات کے حل کرنے میں ناکامی کے تذکرے اگر ایک عام معمول رہے ہیں تو حکومتی ارکان کی طرف سے بھی اپنی تقاریر میں اپوزیشن جماعتوں اور اُن کے قائدین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے ، سخت سست کہنے اور ساری خرابیوں کی جڑ قرار دینے کا سلسلہ بھی چلتا آ رہا ہے ۔ اب اس تناظر اور سیاق و سباق میں آگے معاملات کیسے چلتے ہیں اس کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی ۔ تاہم اب تک کی معروضی صورت حال کو سامنے رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کی صفوں میں اگر چہ و ہ اتحاد، یک جہتی اور یک سوئی نظر نہیں آتی جو حکومت کو مشکلات سے دو چار کرنے یا ٹف ٹائم دینے کے لیے ہونی چاہیے لیکن پھر بھی حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے بہرکیف اب سخت رویے اور ردِ عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کسی انجانے خوف اور ڈر کا شکار ہیں کہ اگر اس حد سے آگے بڑھیں تو مشکل صورت حال کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے یا پھر وہ کسی این آر او یا مفاہمت کی آس میں مصلحت پسند ی کا شکار ہیں۔ تاہم حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ صورت حال اس طرح زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی اور اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن کو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ہی نہیں عوام کے سامنے بھی ایک واضح اور دو ٹوک موقف اور بیانیہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے الگ الگ بیانیوں کی تخصیص نہیں ہوگی بلکہ وہ مسلم لیگ ن کا متفقہ بیانیہ ہوگا ۔ بلاشبہ وہ میاں نواز شریف کی ہدایت پر محترمہ مریم نواز کا اپنے انتہائی قابلِ اعتماد ـ "بزرگوں اور آتالیقوں" کی رہنمائی میں تشکیل کردہ اور ترتیب دیا بیانیہ ہوگا۔

صورت حال کے اس اجمالی تجزیے اور جائزے کو سامنے رکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی کے جاری بجٹ اجلا س میں حکومتی بنچوں اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان خوب گرما گرمی رہیگی۔ اپوزیشن ارکان حکومت کے لتے لیں گے اور حکومتی نااہلی اور ملکی مسائل و مشکلات کے حل کرنے میں ناکامی کے تذکرے کریں گے ۔ ملکی معیشت کی بد حالی ، مہنگائی میں اضافے، بجٹ میں لگائے جانے والے نئے ٹیکسوں اور عوام کو دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کو بُنیاد بنا کر حکومت کو خوب اپنی تنقید کا نشانہ بنائیں گے ۔ حکومتی ارکان حسب سابق الزام تراشی اور حقائق سے چشم پوشی کا وطیرہ اپناتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص ماضی میں بر سر اقتدار رہنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے قائدین کو ملک میں در آنے والی ساری خرابیوں کا ذمہ دار قرار دینگے۔ بجٹ اجلاس کا یہ متوقع منظر نامہ ایسا نہیں ہے جسے رد کیا جا سکے لیکن اسے حالات کی ستم ظریفی کہیئے یا کچھ اور نام دیجئے کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن باتوں کو ہم Taken for granted کہ ایسا ضرور ہونا چاہیے کے طور پر لیتے ہیں وہ پوری نہیں ہوتیں۔ دانستہ یا نادانستہ یا کسی مصلحت کی بنا پر حالات کو ایسا رخ دے دیا جاتا ہے کہ صورت حال یکسر تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ کچھ سامنے نہیں آتا جس کی توقع کی جارہی ہوتی ہے۔

یہاںتھوڑا سا تذکرہ قومی اسمبلی کے رمضان المبارک کے دوران منعقد ہونے والے اجلاس جو 31 مئی کو ملتوی کیا گیا کا کیا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں دو انتہائی اہم معاملات زیر بحث آئے ۔ ان میں ایک انتہائی نازک اور حساس معاملہ شمالی وزیرستان میں خارقمر کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھوڑانے کے لیے ہجوم کے ہلہ بولنے اور اس میں PTMسے تعلق رکھنے والے ارکان ِ قومی اسمبلی ، علی وزیر اور محسن داور کے ملوث ہونے کا تھا تو دوسرا معاملہ بھی کچھ کم اہم نہیں تھا یہ چیئر مین نیب کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی ویڈیو اور چیئر مین نیب کے ایک کالم نگار کو دیئے گئے انٹرویو کے مندرجات سے متعلق تھا ۔ بظاہر توقع تھی کہ ان دونوں معاملات کے بارے میں ایوان میں تند و تیز تقاریر ہی نہیں ہوںگی بلکہ ایوان ان معاملات کے بارے میں متفقہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے کسی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا بھی فیصلہ کرے گالیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا نہیں ہو ا ہے۔جہاں تک چیئر مین نیب کے ویڈیو ٹیپ کا معاملہ ہے اس کے بارے میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی قائد خواجہ آصف نے اگرچہ اپنے کلیدی خطاب میں مبینہ ویڈیو کی چھان بین کرنے اور حقائق کو سامنے لانے کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ ضرور کیا لیکن بعد میں مسلم لیگ ن کی طرف سے اس معاملے پر کوئی زیادہ زور نہیں دیا گیا۔خیر مسلم لیگ ن کے قائدین نے ایسا کیوں کیاوہ کسی مصلحت کا شکار ہوئے یا کچھ اور بات تھی چیئر مین نیب کا بہرکہف یہ فرض بنتا ہے کہ وہ واضح طور پر بتائیں کہ ویڈیو میں اظہار اُلفت یا اظہار محبت کے جو الفاظ اُن سے منسوب ہیں کیا انھوں نے وہ الفاظ کہے ہیں یا وہ الفاظ کسی اور کے ہیں۔چیئیر مین نیب کے بارے میں بعض غیر جانبدار ، موقر اور مستند حلقوں کی رائے ہے کہ وہ مضبوط کردار کے مالک نہیں اور کسی حد تک رنگین مزاج اور شوقین مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ چئیر مین نیب کوضروری وضاحت کرکے اپنے دامن پر لگے اس داغ کو ضروردھونا چاہیے۔


ای پیپر