ہما ری عید
13 جون 2019 2019-06-13

وہ جو انگر یز ی میں کہتے Eventfulتو یہ ہفتہ ہم سب کے سا منے ہے یعنی ا نتہا کاEventfu۔ آ صف زر داری کی گرفتاری، حمز ہ شر یف کی گر فتا ری اور پھر لند ن میں الطا ف حسین کی گر فتا ری ۔ پھر اس سب کے بعد بجٹ کا ہنگا مہ۔ مگر یہ سب ہما رے آ ج کے کا لم کا عنو ا ن نہیں۔ آ ج میں با ت کر نا چا ہارہا ہوں مسلما نو ں کی خو شی کے اعلیٰ تر ین تہو ا ر یعنی عید الفطر کی۔ عید کے معنی ہیں ،با ر با ر لو ٹ کر آ نا۔ عید کیو نکہ ہر سا ل لو ٹ کر آ تی ہے،لہذا اس کا نا م عید پڑ گیا۔ عید کا تصو ر ا تنا ہی قد یم ہے جتنی انسا نی تا ر یخ۔تا ریخ کا کو ئی ایسا دور نہیں جو عید کے تصو ر سے نا آ شنا ہو۔ گو اس بار عید پر سوج آگ برساتا رہا، قیامت خیز گرمی کی لہر نے عوام کو کافی مشکلات سے دور چار کیاتا ہم پاکستانی قوم عید کے موقعے پر خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوئی۔ مجموعی طور پر ملک میں امن و امان کی صورتحال پرامن رہی۔ اس بات کا کریڈٹ بلاشبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جاتا ہے جنہوں نے فول پروف سیکورٹی انتظامات کیے تھے۔ صد شکر کہ کوئی افسوسناک سانحہ رونما نہیں ہوا۔ مسلمان رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے مستفید ہوکر عید کا تہوار مناتے ہیں۔ گو کہ دنیا کی تقریباً سبھی قوموں میں تہوار منانے کا رواج ہے اور ہر مذہب کے لوگ اپنی روایت کے مطابق تہوار مناتے ہیں، اسلامی تہوار دوسرے مذاہب کے تہواروں سے بالکل مختلف اور جداگانہ نوعیت کے حامل ہیں اور ہمارے نبی کریم ﷺ، جب مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو وہاں کے لوگ مختلف تہوار مناتے تھے۔ حضورؐ نے ان باتوں کو سخت ناپسند فرمایا اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے دعا فرمائی اور دو عیدیں مسلمانوں کے لیے مقرر کروالیں۔ جب پہلی بار مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے تو تاریخ اسلام کے اس پہلے رمضان المبارک میں حضورؐ نے مدینہ کے انصار کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’ہر قوم کے لیے عید ہوتی ہے، تم بھی عید مناتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری عیدوں کو ان دو عیدوں سے بدل دیا ہے۔ اب تم ہر سال شان سے عید الفطر اور عیدالاضحی منایا کرو۔‘‘ چنانچہ مسلمانوں نے اپنے پیارے رسول ﷺ کے اس ارشاد کے تعمیل میں یکم شوال دو ہجری کو پہلی بار عید منائی۔ عیدالفطر حقیقت میں مسلمانوں کی خوشی اور مسرت کا وہ محبوب دن ہے جو سال بھر میں صرف ایک مرتبہ انہیں نصیب ہوتا ہے۔ ایک ماہ مسلسل اللہ کی عبادت کا فریضہ ادا کرکے مسلمان اپنے دل میں مسرت اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے قلب میں ایمان کی روشنی پیدا ہوتی ہے اور ان کے دل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ روزے رکھ کر انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرلی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ہر سال مسلمان چھوٹا، بڑا، امیر، غریب، مرد، عورت غرض ہر شخص رمضان المبارک کے اختتام پر بڑے تزک و احتشام سے عید الفطر مناتے ہیں۔

دراصل تو عید رنگوں کا نام ہے۔ بچوں کا میٹھی سویوں اور عید کی نماز پر اپنے بڑوں کے ساتھ جانے اور رنگ برنگ غباروں سے کھیلنے کا موسم ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک عرصے سے دو عیدیں کرنے کا رواج بھی چلا آرہا ہے۔ اس بار بھی ایک روز قبل خیبرپختونخواہ میں عید منانے کی روایت برقرار رکھی گئی ہے۔ بہرحال چاند رات منانے اور عید کی خوشیوں پر سبھی کا حق ہے۔ روزہ دار کے لیے تو عید ایک انعام اور تحفے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس وقت دنیا ایک گلوبل ویلیج کی حیثیت اختیار کرگئی ہے لیکن انسانوں کے رویوں نے انہیں ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ لوگ پھر سے ایک دوسرے کے قریب آجائیں۔ عید کی خوشیوں میں ایک دوسرے کو اپنے ساتھ شریک کریں، جس طرح کبھی ماضی میں ایسے مناظر دکھائی دیتے تھے۔ عید کی خوشیوں کے رنگ اسی وقت دل و نظر کو بھلے لگتے ہیں جب وہ سب کے سنگ ہوں۔ یتیموں، مسکینوں، بیوائوں اور لاوارثوں اور معذوروں کو بھی اس دن کی خوشیوں میں شامل کرنے کا نام عید ہے۔ یہی عید کا حقیقی پیغام ہے، کیا ہم عید کے اس پیغام پر پورا اترے؟ یہی مرحلہ سوچنے اور اپنے احتساب کا ہے۔ کہنے کی با ت یہ ہے کہ چاند دیکھنے کی طرح ایک دوسرے کو اپنے دلی جذبات کے اظہار کے لیے عید کارڈ بھیجنے کی روایت بھی دم توڑ رہی ہے اور بہت سی روایتوں کی طرح اس رسم اور روایت کو بھی جاری رکھنا ضروری ہے۔ اب تو لوگ بس موبائل کے ایک میسج کے ذریعے مشینی انداز میں ایڈوانس عید مبارک دینے لگے ہیں۔ دراصل مذہبی تہوار موسم اور معاشرت سے ہم آہنگ ہوکر ہمارے مزاج اور عادات کے عکاس بن جاتے ہیں۔ ہم ان سے خوشیاں کشید کرکے نئے قوت حاصل کرتے ہیں۔ جب میڈیا اور انٹرٹینمنٹ چینلز وجود میں نہیں آئے تھے تو سال بھر میں جشن منانے اور خاندانوں کے مل بیٹھنے کو یہ سب سے بڑا مذہبی تہوار ہوتا تھا۔ رشتے دار اور روزگار کے سلسلے میں دور دراز حتی کہ پردیس میں بسنے والے اپنے پیاروں کی دید سے عید کو خوشگوار اور یادگار بنانے کے لیے لمبے سفر طے کرکے آتے تھے۔د وستوں، عزیزوں، چاہنے والوں، ماں باپ اور بچوں کے لیے عید کی آمد پردیسی پیاروں سے ملاقات کا وسیلہ بن کر آتی تھی۔ اس عید کی اصل روح فطرانہ اور زکوٰۃ ہے جو معاشرے کے ضرورت مند اور نادار افراد کو ساتھ لے کر چلنے اور خوشیاں بانٹنے کا وسیلہ ہے۔ رمضان کا آغاز زکوٰۃ اور اختتام فطرانے سے ہوتا ہے۔ اس طرح یہ عید خدمت خلق کا تہوار ہے جو ایثار اور اخوت سے لبریز ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ ہم نے اس عید پر اپنے سفید پوش رشتہ داروں اور غربا کی ضرورت کو کس حد تک محسوس کیا۔ کچھ پل، بچھڑ جانے والے دوستوں کی اولاد اور خاندان کے ساتھ بتا کر انہیں اپنائیت کا احساس دلائیں۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام میں سے اکثریت کی زندگی مشکل کردی ہے۔ اس بار مہنگائی اور اشیا کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے نے عوام کے لیے مسائل پیدا کیے جس سے کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کی رفتار بھی قدرے متاثر ہوئی۔ کاروبار میں اس طرح کی تیزی اور سرعت دیکھنے میں نہیں آئی جو ہر سال نظر آتی رہی۔ ہم کو چاہیے خاص طور پر ان مسلمانوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں جن کو ایک وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی۔ ماضی قریب میں عید کے موقعے پر روٹھے ہوئوں کو منانے کا رواج تھا۔ غلطی کرنے والا جب صلح کی غرض سے جاتا تو چل کر آنے والے کی قدر کی جاتی اور پشیمانی اور روایتی معافی کی بجائے کھلے بازوئوں سے آئو بھگت کی جاتی۔ اس ساری پریکٹس کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن زمانہ بہت جلدی بدل گیا ہے یا شاید ہم ہی تیز رفتار وقت کے ساتھ الجھ کر اپنی ثقافتی قدروں اور روایات کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ لیکن کچھ بھی ہو انسان اپنے اصل کی طرف لوٹ کر ضرور آتا ہے کیوں کہ اسی صورت میں وہ سچی خوشی حاصل کرتا ہے۔ کا لم کا اختتا م اس د عا پر کر تا ہو ں کہ خدا کرے کہ ہمارے ملک کے عوام ایک دوسرے کی خوشیوں کو اسی طرح دوبالا کرتے رہیں۔ ملک کو دہشت گردی اور دیگر خرافات سے نجات ملے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی اپنے عوام میں رہ کر ان خوشیوں کا تحفظ کریں۔


ای پیپر