’’منہ کے فائر ۔۔‘‘
13 جون 2019 2019-06-13

دوستو،ہمارے یہاں کراچی میں جب کوئی دوران گفتگو لمبی لمبی چھوڑتا ہے تولوگ ایک دوسرے کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں کہتے ہیں کہ۔۔یہ دیکھو منہ کے فائر ۔۔ ہم چونکہ قطعی غیرسیاسی کالم لکھتے ہیں تو ہمارے اس کالم کو وزیراعظم کے خطاب کے تناظر میں ہرگزہرگز نہ سمجھا جائے۔۔ہماری کوشش ہوگی کہ فی الحال ہم منہ کے فائر نہ کریں بلکہ اپنی روایتی اوٹ پٹانگ باتوں سے آپ کو محظوظ کریں۔۔اسی پر ایک واقعہ سن لیجئے۔۔ایک صاحب اپنے دوست کو بتارہے تھے کہ جب ان کے دادا حضور بات کرتے تھے تو اڑتے ہوئے پرندے زمین پر گرجاتے تھے۔۔دوست نے حیرانی سے ان صاحب کو دیکھا پھر برجستہ پوچھ ہی لیا۔۔کیا تمہارے دادا منہ میں ’’چھرے‘‘ رکھ کر بات کرتے تھے؟؟ ہمارا خیال ہے اسی واقعہ سے یہ مثل’’ منہ کے فائر ‘‘ وجود میں آئی۔۔

منہ کے فائر کے حوالے سے ہمارے پیارے دوست نے ایک زبردست قسم کی تحریر ہمیں واٹس ایپ کی، اگر آپ نے اس تحریر کواچھی طرح سمجھ لیا تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری محنت وصول ہوگئی۔تحریر کچھ یوں ہے کہ ۔۔ایک شخص ڈاؤلینس ائرکنڈیشنڈ کی ٹھنڈک میں سورہا تھا کہ اچانک ’’سیکوفائیو‘‘ گھڑی کے الارم سے اس کی آنکھ کھلی، اس نے کولگیٹ سے برش کیا، جیلیٹ سے شیو، لکس صابن اورDove شیمپو سے نہایا، اور نہانے کے بعد "Levis" کی پینٹ "POLO" شرٹ اور "GUCCI" کے شوز "Jocky" کے socks پہن لیتا ہے چہرے پر "Nevia" کریم لگا کر نیسلے فوڈ سے ناشتہ کرنے کے بعد "Rayban" کا چشمہ لگا کر "HONDA" کی گاڑی میں بیٹھ کر کام پر چلا جاتا ہے۔راستے میں ایک جگہ سگنل بند ہوتا ہے وہ جیب سے آئی فون ایکس نکالتا ہے اور زونگ کا فورجی انٹرنیٹ چلانا شروع کردیتا ہے۔۔اتنے میں سبز بتی جلتی ہے تو وہ آفس پہنچ کر ایپل کے لیپ ٹاپ میں کام میں مشغول ہوجاتا ہے۔۔ کافی دیر کام کرنے کے بعد اسے بھوک محسوس ہوتی ہے تومیکڈونلڈ سے کھانا اور ساتھ میں نیسلے کا پانی منگواتا ہے۔۔کھانے کے بعدNescaffeکی کافی پیتا ہے اور پھر کچھ دیر قیلولہ کرتا ہے، قیلولے کے بعد ریڈبل پیتا ہے اور دوبارہ سے کام میں مصروف ہوجاتا ہے،تھوڑی دیر بعد ہی بوریت محسوس ہونے پر جیب سے ایپل کا آئی پوڈ نکال کر بالی وڈ کے گانے سنتا ہے،ساتھ ہی ’’لیپرڈ‘‘ سے ایک پارسل بیرون ملک بھجواتا ہے اور پیناسونک کی لینڈلائن سے اطلاع کرتا ہے۔۔پھر ’’پارکر‘‘ کے پین سے ایک نوٹ لکھتا ہے، کچھ دیر بعد اپنی رولیکس گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اب واپسی کا وقت ہوگیا ہے تو وہ دوبارہ ہنڈا کی گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے اور گھر کے لئے روانہ ہوجاتا ہے، راستے میں اچانک اسے خیال آتا ہے کہ گاڑی میں فیول کم ہے تو وہ ’’شیل‘‘ کے پیٹرول پمپ جاتا ہے اور گاڑی کی ٹنکی فل کراتا ہے اور پھر قریب ہی ہائپر اسٹار شاپنگ مال کا رخ کرتا ہے،جہاں سے بچوں کے لئے ’’ میگی اور کنور‘‘ کے نوڈلز اور ساتھ ہی کیڈبری، کٹ کیٹ، اسنیکرز اور نیسلے کے مہنگے جوس وغیرہ بھی خرید لیتا ہے، سپر اسٹور کے ساتھ ہی پیزاہٹ ہوتا ہے جہاں سے وہ پوری فیملی کے لئے پیزا اورساتھ میں کے ایف سی سے برگرز کی ڈیل بھی لے لیتا ہے۔۔گھر جاکر کھانا کھانے کے بعد سب گھر والے سونی کی ایل ای ڈی پر ’’ایچ بی او‘‘ پر ہالی وڈ کی نئی مووی دیکھ رہے ہوتے ہیں جب کہ ہاتھوں میں کوک کے گلاس اور ٹن پکڑے ہوتے ہیں۔۔اچانک ہی ان صاحب نے گھڑی دیکھی تو خبروں کا ٹائم ہوتا ہے وہ جلدی سے ’’نیونیوز‘‘ لگاتا ہے جہاں خبر چل رہی ہوتی ہے کہ ۔۔ پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید گر گیا ۔۔یہ سن کر وہ آگ بگولہ ہو جاتا ہے اور اونچی آواز میں بولتا ہے آخر کیوں پاکستانی کرنسی دن بدن گرتی جا رہی ہے۔آخر کیوں پاکستانی معیشت ٹھیک ہونے کی بجائے بدتر ہوتی جارہی ہے آخر کیوں۔؟؟

یہ صرف ایک پاکستانی کی کہانی تھی ،ایسے نجانے کتنے لوگ ہوں گے؟ پورے سال فراڈ، ذخیرہ اندوزی، دونمبری سے پیسہ بناتے ہیں اور اسی پیسے سے عمرہ اور حج کرکے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اللہ نے ان کے سارے گناہ دھوڈالے۔۔ملین ڈالر سوال تو یہ ہے کہ آخر کیوں ہم پورا دن غیرملکی اشیا استعمال کرکے پاکستانی کرنسی کی قدر گرنے اور معیشت خراب ہونے پر حیران ہوتے ہیں؟ آخر کیوں ہم لوگ پاکستانی اشیا کو ترجیح نہیں دیتے ،یہ بات اپنی جگہ حقیقت پر مبنی ہے کہ پاکستانی اشیا معیاری یا بہترین نہیں ہوتی لیکن ہمیں کوشش تو کرنی چاہیئے کہ ہم اپنے ملک کی مصنوعات کو استعمال کرنا سیکھیں ، حکیم سعیدشہید کا بڑا مشہور قول ہے کہ ۔۔پاکستان سے محبت کرو،پاکستان کی تعمیر کرو۔۔

باباجی فرماتے ہیں کہ ۔۔کچھ لوگوں دیکھنے میں ڈالر جیسے لگتے ہیں پر اندر سے اوقات روپے جیسی ہوتی ہے۔۔۔تاج محل کو دیکھ کر شاہ جہاں کا پوتا کہنے لگا، آج ہمارا بھی بینک بیلنس ہوتا اگر ہمارا دادا عاشق نہ ہوتا۔ کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا کہ مشہور زمانہ مہنگے ریسٹورینٹس میں لائٹ کیوں دھیمی رکھی جاتی ہے؟ بھئی وہ اس لئے کہ اندھیرے میں پتہ نہ چلے کہ کس جانور کی بوٹی کھائی جارہی ہے۔۔معروف مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ۔۔بدصورت کی جو حرکت بدتمیزی کہلاتی ہے وہی حرکت اگر خوب صورت کرے تو ’’ادا‘‘ کہلاتی ہے۔۔ساری رات بچے کے رونے سے بیوی کو اتنا غصہ نہیں آتا جتنا شوہر کو مزے سے سوتے ہوئے دیکھ کر آتا ہے۔۔ایک فیصل آبادی کی شوگر جب چھ سو تیس آگئی تو فیصل آبادی نے بڑے معصومانہ انداز میں ڈاکٹر سے سوال کیا۔۔ڈاکٹر صاحب کہیں پچھلے مہینے کی بھی ساتھ لگ کر نہیں آگئی؟ ہمارے ایک دوست بڑی بڑی ہانکنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، ان سے آپ کوئی بات کریں آگے سے ان کا ایک ہی ردعمل دیکھنے کو ملے گا، یہ تو مجھے پہلے سے ہی معلوم تھا۔۔ ہم نے وزیراعظم کے خطاب میں گڑبڑ کا جب اسے بتایا تو اس کا بھی انہیں پہلے ہی سے پتہ تھا، جب ہم نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم کا خطاب تین بار رکا، کئی بار آواز غائب ہوئی تو وہ کہنے لگے۔۔ مجھے سب معلوم ہے، اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔۔ ہم نے کافی منتیں ترلے کئے کہ وہ دو وجوہات کیا ہیں پلیز بتادیں، ایک گھنٹے کی مسلسل خوشامد کے بعد کہنے لگے۔۔ایک کا مجھے ابھی پتہ نہیں ، دوسرا وقت آنے پر بتاؤں گا۔۔اب آپ خود بتائیں یہ انسان منہ کے فائر کرتا ہے یا نہیں؟؟

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو جمعہ کے رو زمسجد جائے اور اپنی اپنی جوتی پہن کر واپس آئے۔۔


ای پیپر