عمرہ نامہ ! ....(تیسری قسط)
13 جون 2019 2019-06-13

گزشتہ کالم میں، میں اپنے پہلے عمرے کا احوال اُس کا پس منظر بیان کررہا تھا کہ کِس طرح اُس وقت کے صدر زرداری کے کچھ خاص لوگ ایک ”لفافہ“ لے کر میرے پاس آئے اور میں نے اُن کی ”خدمت“ قبول کرنے سے نہ صرف معذرت کرلی بلکہ اُس پر ”صدرزرداری کا پہلا سلام“ کے عنوان سے ایک کالم بھی لکھ دیا، نوائے وقت میں یہ کالم شائع ہوا تو صحافتی وصدارتی حلقوں میں اچھی خاصی بے چینی پیدا ہوگئی۔ گوکہ مجید نظامی صاحب نے اِس کالم کی کانٹ چھانٹ کرکے اِسے باقاعدہ ایک ”کالمی“ بنادیا تھا اِس کے باوجود اِس کالم کا یہ حصہ سلامت رہا کہ میں نے صدر زرداری کا لفافہ قبول نہیں کیا۔ اس کالم کی اشاعت کے بعد سب سے پہلے مجھے اُس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر مرحوم کا فون آیا، اُن کے ساتھ میری بڑی بے تکلفی تھی، وہ فرمانے لگے ”تم نے آج کا کالم لکھ کر اچھا نہیں کیا “ ....میں نے کہا ”آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں؟“۔وہ بولے ”دھمکی نہیں دے رہا یار، تمہیں سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں، ایک تو تم نے ”لفافہ“ نہیں لیا اُوپر سے ساری داستان لکھ دی جس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی، اب یاد رکھنا اِس کے بعد تمہیں کسی نے لفافہ نہیں دینا، اور یار زندگی میں کبھی نہ کبھی لفافے کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے“ ،....مجھے اُن کی بات سُن کر ہنسی آگئی، ....خیر شام کو ایوانِ صدر سے کال موصول ہوئی۔ آپریٹر نے بتایا صدر زرداری بات کریں گے“،....وہ فرمانے لگے ”میں تو اُردو کے کالم والم زیادہ پڑھتا نہیں ہوں، ابھی مجھے آپ کے ایک صحافی دوست نے بتایا آج آپ نے کوئی کالم لکھا ہے کہ میں نے آپ کو کوئی لفافہ بھجوایا ہے، یہ بالکل غلط ہے ،پہلے میں نے سوچا پریس سیکرٹری سے کہوں اِس کی تردید جاری کرے، پھر سوچا خود آپ سے بات کروں، میں نے اُنہیں تفصیل بتائی وہ کہنے لگے ” ہمارے کچھ دوست اپنے طورپر کچھ صحافی بھائیوں کی تھوڑی بہت خدمت کردیتے ہیں اِس کا مطلب یہ نہیں اُس میں ہماری مرضی شامل ہوتی ہے، یا وہ یہ سب ہم سے پوچھ کر کرتے ہیں، میں نے آپ کی خدمت میں کچھ بھجوانا ہوتا تو آپ کے مزاج کے مطابق کوئی کتاب کوئی پھول کوئی خوشبو وغیرہ بھجواتا، آپ کو اِس طرح نہیں لکھنا چاہیے تھا، اِس سے صرف ہمارا نہیں آپ کی اپنی برادری بھی بدنام ہوئی ہے“۔ میں نے عرض کیا ”جب میں نے آپ کے دوستوں کی جانب سے دیا جانے والا لفافہ قبول ہی نہیں کیا تو میری برادری اس سے بدنام کیسے ہوگئی ؟۔ وہ فرمانے لگے اِس پر کسی روز مل کر بات کریں گے، آپ سے جلد ملاقات ہوگی۔ یہ کہہ کر اُنہوں نے فون بند کردیا، اگلے ہی روز مجھے ایوان صدر سے کسی خاتون فرح ناز اصفحانی (جن کے بارے میں بعد میں پتہ چلا وہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی بیوی، اور ایم این اے ہیں) کی کال موصول ہوئی، اُنہوں نے کہا ”صدر زرداری آپ سے مِلنا چاہتے ہیں۔ آپ پرسوں گیارہ بجے صبح اسلام آباد تشریف لائیں، اُس کے کچھ ہی دیر بعد پہلے شیخ احمد ریاض اور پھر زرداری صاحب کے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر قیوم سومرو کی کالز موصول ہوئیں، اُنہوں نے بھی یہی فرمایا کہ صدر زرداری آپ سے ملنا چاہتے ہیں، ہم اِس سلسلے میں آپ کے ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور قیام وغیرہ کا بندوبست کرکے آج ہی آپ کو آگاہ کردیں گے “ ،....میں نے اِس ضمن میں فوری طورپر مجیدنظامی صاحب سے بات کی، اُن سے بات کرنا اِس لیے بھی ضروری تھا یہ وہ وقت تھا جب نوائے وقت میں لکھنے والے نظامی صاحب کی مرضی کے بغیر کھانسی یا چھینک بھی نہیں مارسکتے تھے، خیر اُنہوں نے فرمایا ”چلے جاﺅ، ملنے میں کوئی حرج نہیں، میرا بھی اُن سے سلام کہہ دینا “، ....اُس کے بعد میں نے جناب احمد ریاض شیخ کو کال کی۔ اُن سے کہا ”میں حاضر ہوجاﺅں گا مگر مجھے ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور دیگر سہولیات کی ضرورت نہیں، اِ س کا انتظام میں خود ہی کرلوں گا۔ صدر زرداری سے ملاقات ہوئی، میں ایوان صدر پہنچا تو ڈاکٹر قیوم سومرو کے کمرے میں جناب عرفان صدیقی بھی بیٹھے تھے، میں اُنہیں دیکھ کر بہت حیران ہوا، وہ

مجھے دیکھ کر یقیناً حیران اِس لیے نہیں ہوئے ہوں گے کہ مجھ پر شریف برادران کے کالم نگار ہونے کی کوئی چھاپ نہیں تھی، بہرحال ڈاکٹر قیوم سومرو بڑی محبت سے ملے اور کچھ ہی دیر بعد وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر ایوانِ صدر کے اُس کمرے میں چلے گئے جہاں صدر زرداری تشریف فرما تھے، وہ وہاں کسی خاتون کو کچھ ہدایات دے رہے تھے، وہ مجھے اُٹھ کر ملے، گلے لگایا اور اُس خاتون سے میرا تعارف کروایا کہ یہ ہماری ایم این اے فرح ناز اصفحانی ہیں، میں نے عرض کیا ” اِن سے میری فون پر بات ہوچکی ہے اور آپ کے ساتھ ملاقات کا پیغام انہوں نے ہی مجھے دیا تھا“ ....چند منٹوں کے بعد وہ کمرے سے نکل گئیں، میں زرداری سے ذرا دور ایک صوفے پر بیٹھا تھا، اُنہوں نے مجھے قریب آنے کے لیے کہا ”میں اپنی نشست سے اُٹھا اور اُن کے ساتھ والے صوفے پر جاکر بیٹھ گیا ، ہمارے آگے ڈرائی فروٹ پڑا تھا، کچھ ہی دیر بعد چائے بھی آگئی، اُس کے بعد وہ ایک ضروری کال سننے میں مصروف ہوگئے جو میرے خیال میں کسی غیرملکی سفیر کی تھی، فون بند ہوا وہ مجھ سے کہنے لگے ”شہید بی بی کے مقابلے میں ہماری کوئی سیاسی حیثیت نہ تھی، مگر ہم نے سوچا ہم بی بی صاحبہ کے ساتھ شادی کریں گے، قدرت نے ہماری مدد کی، دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ، اور ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی سے ہماری شادی ہوگئی، ....پھر ہم جیل میں تھے ایک بار ایک پولیس افسر نے وہاں ہم سے بدتمیزی کی، ہم نے اُس سے کہا ایک وقت آئے گا میں اِس ملک کا سربراہ ہوں گا اور تم یہاں سے فرار ہو چکے ہوگے، وہ وقت بھی آگیا، میں اِس وقت صدر ہوں اور وہ پولیس افسر پاکستان سے فرار ہوچکا ہے، ....پھر ہم جیل میں تھے ہم نے ارادہ کیا بی بی صاحبہ کو تیسری بار وزیراعظم بنوائیں گے، اللہ کو منظور نہیں تھا، بی بی صاحبہ شہید ہوگئیں، ورنہ وہ ضرور وزیراعظم ہوتیں، مگر یوسف رضا گیلانی شہید بی بی کا ہی وزیراعظم ہے، ہم جیل میں تھے ہم نے ارادہ کیا ”جنرل مشرف کو اُس کے عہدے پر نہیں رہنے دیں گے، تو پہلے ہم نے اُس کے ”دوستوں“ کو اپنا دوست بنایا اور پھرایسے حالات پیدا کیے وہ عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوگیا، اب ہمارے کچھ نادان دوست ہم سے کہتے ہیں وہ شہید بی بی کا قاتل ہے اُس سے بدلہ لیں ”میں اُن سے کہتا ہوں بدلہ تو ہم نے اُسے اقتدار سے ہٹا کر اُس سے لے لیا ہے “۔.... (جاری ہے)


ای پیپر