گر ٹوٹ گیا
13 جون 2018 2018-06-13

مجھے نہیں معلوم کہ خلائی مخلوق جس کا ان دنوں سابق وزیراعظم نواز شریف کی زبان پر ذکر آجانے کے بعد بہت چرچا ہے کس کو کہتے ہیں کہیں پائی بھی جاتی ہے یا نہیں اگر اس کا واقعی وجود ہے تو کونسے عرش معلی پر بیٹھ کر فرمان شاہی جاری کرتی ہے۔۔۔ میں روحانی علوم میں درک نہیں رکھتا کہ اگر کوئی مخفی قوت ہے تو اس کی پہچان حاصل کر لوں۔۔۔ نہ تین مرتبہ برطرف کیا جانے والا عوام کا منتخب کردہ وزیراعظم ہوں کہ قومی اور ریاستی امور پر اپنی خاص بصیرت اور تجربے کی بنیاد پر اسے دیکھ پاؤں۔۔۔ لیکن اپنے ملک کی ستر سالہ تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہوں کہ کوئی تو ہے جو اس ملک کے نظام ’ہستی‘ کو چلا رہا ہے اور جس نے گزشتہ پون صدی کے دوران تیرہ کے تیرہ سول اور منتخب وزرائے اعظم کو ان کی جائز آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی نہ اس پارلیمانی و جمہوری نظام حکومت کے تجربے کو کامیاب ہونے دیا ہے جو بانیان پاکستان کی خواہش تھی اور جس کی توثیق پاکستانی قوم نے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے 1956ء اور 1973ء کے دساتیر کے ذریعے کی۔ یہاں تک کہ سویلین بالادستی کا وہ تصور جس پر بابائے قوم نے اصرار کیا تھا بری طرح پامال کر کے رکھ دیا گیا ہے۔۔۔ نواز شریف جو آج واویلا مچا رہا ہے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا۔۔۔ کسی کو فیصلہ کرنے کی جلدی ہے چاہے عدل و قانون کے تقاضے پورے نہ ہوں۔۔۔ اسے اپنے بھرپور دفاع کا حق نہیں دیا جا رہا ۔۔۔ اس کے وکیل کو تمام عدالتی روایات سے ہٹ کر اور زبانی حکم دیا گیا ہے ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں میں بھی پیش ہوا کرو۔۔۔ مقدمے کی مکمل تیار ی کا وقت ملے یا نہ ملے چھ کی بجائے چار ہفتوں کے اندر اس کا اختتام کرو۔۔۔ نواز شریف کہتا ہے حکم صادر کرنے والوں کو کونسی مجبوری لاحق ہے کیا 25 جولائی کو عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے اسے سزا دینا مقصود ہے۔ اگر ایسا ہے تو سپریم کورٹ ابھی مقدمہ ہاتھ میں لے کر فیصلہ سنا دے۔۔۔ قضیے کو مہینہ بھر کے لیے لٹکانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ وکیل جس نے نو ماہ تک شب و روز کی محنت ، پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور قانونی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مؤکل کا دفاع کیا وکالت نامہ واپس لینے پر مصر ہے کہ شدید دباؤ کی حالت میں میں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا نہیں ہو سکتا۔۔۔ نواز شریف اپنی بیٹی اور داماد سمیت سو کے قریب پیشیاں بھگت چکا ہے۔۔۔ زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے فیصلہ کہیں ہو چکا ہے۔۔۔ بس رسمی کارروائی باقی ہے۔۔۔ اتنی جلدی ہے تو ابھی پھانسی دے دیجیے۔۔۔ دیر کس بات کی۔۔۔میں نے لندن میں بیمار اہلیہ کی تیمار داری کے لیے رحم کی کوئی درخواست نہیں دی اس کے باوجود یہ کہہ کر مجھے دکھ دیا گیا ہے کہ اپنی تشہیر کر رہا ہوں۔۔۔ میرے خلاف کرپشن کا ایک پیسہ ثابت نہ ہوا تو گزشتہ 28 جولائی کو برطرفی کی خاطر اقاما کا بہانہ ڈھونڈا گیا۔۔۔ اب بھی تکلّف روا نہ رکھیے۔۔۔

مان بھی لیا جائے کہ نواز شریف اپنے دعووں کے برعکس کرپٹ ہے اور بھٹو نے واقعی قتل کیا تھا۔۔۔ مگر محمد خان جونیجو سے کیا قصور سرزد ہوا تھا۔۔۔ وہ کرپٹ تھا نہ قاتل نہ کوئی اورجرم اس کے سرپر مونڈھا گیا۔۔۔ خالصتاً آپ کی مرضی کا آدمی تھا۔۔۔ عوام نے اسے وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے منتخب نہیں کیا تھا۔۔۔ ’بڑے گھر‘ کے قابل اعتماد سیاستدان پیر آف پگاڑا کی سفارش پر اس کی نامزدگی عمل میں آئی تھی۔۔۔ مگر شاید وزیراعظم کی گدی میں ایسا کوئی خمار پایا جاتا ہے کہ اس پر بیٹھتے ہی بغاوت کے بیچ پھلنا پھولنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ جونیجو آپ کا عطا فرمودہ عہدہ سنبھالتے ہی مارشل لاء اٹھانے پر بضد ہوا ۔۔۔ پھر مسئلہ افغانستان کے پر امن اور پائیدار حل کے لیے معاہدہ جنیوا کر ڈالا۔۔۔ اسی پر

اکتفا نہیں اوجھڑی کیمپ کی جہاں اسلحے کے ذخائر چھپا کر رکھے گئے تھے تباہی کے واقعے کی تحقیقات پر اتر آیا۔۔۔ اسمبلی میں کھڑے ہو کر ہمارے Blue eyed boys کو حکم دینے لگا سوزوکی کاروں میں بیٹھا اور چلایا کرو۔۔۔ پس انہی جرائم کی پاداش میں وہ 29مئی 1988ء کو غیر جماعتی اسمبلی سمیت گھر کی راہ لینے پر مجبور ہوا۔ تین ماہ گزرنے نہ پائے تھے کہ18 اگست کو طیارے کے حادثے میں جنرل ضیاء الحق راہی ملک عدم ہوئے۔۔۔ ایک بڑا خلا وجود میں آگیا۔۔۔ محمد خان جونیجو اپنی برطرفی کو آئینی لحاظ سے ناجائز سمجھتے ہوئے شیروانی زیب تن کر کے خلا پر کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی جناب میں حاضر ہو گیا ۔۔۔ عدالت عظمیٰ اسے اپنے منصب پر بحال کیا چاہتی تھی کہ جناب وسیم سجاد کہ سینیٹ کے چیئرمین تھے اوپر والوں کی ’’ہدایت‘‘ لے کر آن وارد ہوئے ہمیں اس وزیراعظم کی بحالی منظور نہیں۔۔۔ ا س کے بغیر نئے انتخابات کرائے جائیں ۔۔۔ وقت کے ججوں نے تعمیل ارشاد میں دیر نہ کی۔۔۔ یہی ریت آج تک چلی آ رہی ہے۔۔۔ ہم صرف جسٹس منیر کا رونا روتے ہیں۔۔۔ اس قصے کو چھوڑئیے۔۔۔ ملک فیروز خان نون جس بیچارے کی حکومت پہلے مارشل لاء کی نذر ہو گئی اس کا کیا جرم تھا۔۔۔ کرپٹ اور قاتل تو تھا نہیں۔۔۔ کوئی اور جرم ماسوائے اس کے کہ ملک ہمارے کو گوادر کی بندرگاہ لے کر دی تھی جو آج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، اس سے سرزد نہ ہواتھا۔۔۔ اس کا بھی نام نہ لیجیے۔۔۔ ما قبل اور قیام پاکستان کے پہلے دس سالوں میں جو وزرائے اعظم ہوئے، حسین شہید سہروردی، چودھری محمد علی ، خواجہ ناظم الدین اور لیاقت علی خان ان سب کا شمار بانیان مملکت اور قائداعظم کے معتمد ساتھیوں میں ہوتا ہے۔۔۔ شفاف کردار کے مالک تھے۔۔۔ انہیں بھی خلائی مخلوق تھی یا کوئی اور ڈکار لیے بغیر ہضم کر گئی۔۔۔ نواز شریف کس باغ کی مولی ہے۔

یہ سب آپ نے ٹھیک کیا اور اب بھی ایسا کچھ غلط نہیں کر رہے ہوں گے۔۔۔ مگر اس ملک کا کیا کیجیے گا۔۔۔ جسے آپ نے مکمل گرگرفت میں لے رکھا ہے۔۔۔ جو اپنی ستر سالہ تاریخ کے ہر موڑ پر حکومتوں کے معطل یا برطرف ہو جانے کی وجہ سے پائیدار ترقی نہیں کر رہا۔۔۔ آزاد قوموں کی صف میں مقام نہیں منوا رہا ۔۔۔ مسلسل لڑکھڑا رہا ہے۔۔۔ کوئی متبادل نظام ہے کیا آپ کے پاس۔۔۔ چار مارشل لا لگالیے ۔۔۔ ان کے سائے تلے مرضی کے صدارتی نظام متعارف کرائے گئے۔۔۔ ایک بھی نہ چل پایا۔۔۔ قوم کے دس، اڑھائی گیارہ اور پھر آٹھ سال اسی کام کی نذر ہو گئے۔۔۔ فیلڈ مارشل ایوب کا عہد سب سے زیادہ چمک دمک اور کروفر والا تھا۔۔۔ بظاہر بہت ترقی ہوئی۔۔۔ چونکہ امریکہ کو خفیہ فوجی اڈے دے دیے گئے تھے اس لیے وہاں سے ڈالر چھن چھن آتے تھے۔۔۔ اسی امریکہ اور عالمی بینک کی نگرانی میں سندھ طاس معاہدہ کیا جو آج تک جان کا روگ بنا ہوا ہے۔۔۔ اگلتے بنتی ہے نہ نگلتے۔۔۔ آپریشن جبرالٹر ہوا اور اس کے مابعد جن مشہور واقعات نے جنم لیا۔۔۔ حاصل ان کا صرف یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان کے اندر احساس تنہائی پیدا ہوا۔۔۔ اس نے شیخ مجیب اور اس کے چھ نکات کو جنم دیا۔۔۔ پھر ایوب خان کے تعمیر کردہ ’مضبوط مرکز‘ والے سیاسی قلعے کو مسمار ہوتے دیر نہ لگی کہ بنیادیں اس کی روز اول سے کھوکھلی تھیں۔۔۔ کسی قسم کے آئینی جواز سے محروم تھیں۔۔۔ ایک امریکہ کا سہارا تھا جو آخری ایک دو سالوں میں باقی نہ رہا اور نام نہاد صدارتی نظام کی عمارت دھڑام سے نیچے آن گری۔۔۔ جنرل یحییٰ نے تو خیر لٹیا ہی ڈبو دی اس کا کیا مذکور۔۔۔ جنرل ضیاء الحق کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔۔۔ اس کا پیش کردہ صدارتی نظام کمزور و ناتواں محمد خان جونیجو کا بوجھ برداشت نہ کر سکا۔۔۔ پھر جنرل مشرف کی باری آتی ہے آٹھ سال اس نے بھی لے لیے۔۔۔ امریکہ سے آنے والی ایک فون کال پر ڈھیر ہو گیا اور ملک کے تمام وسائل اس کی جنگ کے نذر کر ڈالے ۔۔۔ حاصل مگر ملک کے اندر دہشت گردی کے فروغ کے کچھ نہ ہوا دو مرتبہ آئین کو پامال کیا ، ایمرجنسی لگائی اور اعلیٰ عدالتوں کے ساٹھ کو ساٹھ ججوں کو اٹھا باہر پھینکا۔۔۔ آج کل مفرور ہے۔۔۔ بھگوڑا ہے۔۔۔ مگر اس کی بلائیں لی جا رہی ہیں۔۔۔ واپس آجاؤ۔۔۔ گرفتار کیے جاؤ گے نہ کاغذات نامزدگی داخل کرانے پر پابندی ہو گی۔۔۔ بس تھوڑی سی بہادری دکھاؤ کہ ہمارا بھرم رہ جائے۔۔۔ مقدموں کا کیا ہے چلتے رہتے ہیں۔۔۔ اٹارنی جنرل عرض کناں ہوا حضور یہ شخص قانون کی نگاہ میں بھگوڑا ہے۔۔۔ اس وت تک کوئی رعایت (Relief) نہیں دی جا سکتی جب تک خود کو عدالت کی جناب میں پیش نہ کر دے مگر اس کی بات کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔۔۔ یہ ہے متبادل صدارتی نظاموں اور ان کو لانے والے بہادر سپوتوں کی داستان۔۔۔ اب نیا نسخہ کیمیا دریافت کیا جا رہا ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ چوکھا آئے۔۔۔ مارشل لاء بھی نہ ہو اور اقتدار ہمارے پر بھی حرف نہ آئے۔۔۔ ابتدائی تجربے کے طور پر سینیٹ کے چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی کو تلاش گیا ۔۔۔ انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر اسی کا از سر نو ایڈیشن متمکن کر دیا جائے گا ۔۔۔ عمران خان کا لباس حریرہ کچھ لوٹا کریسی اور کچھ ریحام کی آنے والی کتاب کے مندرجات کی وجہ سے تار تار ہوا جا رہا ہے۔۔۔ نیا صادق سنجرانی ہاتھ کا کھلونا ہو گا ۔۔۔ اس کے ساتھ دل بہلایا جائے گا پھر جب چاہے توڑ کر پھینک دیا جائے گا۔۔۔

اور بازار سے لے آئے، اگر ٹوٹ گیا

ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال، اچھا ہے


ای پیپر