پی ٹی آئی کے امیدوار
13 جون 2018 2018-06-13

تحریک انصاف نے پورے ملک سے قومی اسمبلی کے 178 حلقوں کے انتخابی امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کے زیادہ تر امیدوار و نگڑے اور طاقتور افراد ہیں جو حالیہ چند ماہ میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) سے تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔

ٹکٹوں کی تقسیم اور امیدواروں کے چناؤ سے دو باتیں تو بہت واضح ہوگئیں۔ ایک تو ان لوگوں کی ہی غلط فہمی دور ہوگئی جو سمجھتے تھے کہ تحریک انصاف تبدیلی، انقلاب اور نئے پاکستان کی جدوجہد کرنے والی جماعت ہے۔ جن امیدواروں کو انتخابی ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے موجودہ نظام سے مفید ہو رہے ہیں۔ وہ سٹیٹس کو کے حامی اور اس کے محافظ ہیں۔ تحریک انصاف کے انتخابی امیدواروں کی غالب اکثریت انہیں طبقات سے تعلق رکھتی ہے جو 71 سالوں سے پاکستان پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ جب 22 برس قبل تحریک انصاف بنائی گئی تھی تو اس کا ایک مقصد موجودہ نظام کی تبدیلی اور بدعنوانی کے خاتمے تھا مگر انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف اپنے مقصد اور نصیب العین سے بٹ چکی ہے اور اقتدار کے حصول کیلئے انہی لوگوں کا سہارا اور مدد لے رہی ہے جن کے خلاف یہ جماعت بنی تھی۔ تحریک انصاف اب ایک روایتی سیاسی جماعت ہے جو مکمل طور پر اور کھل کر طاقت کی سیاست کر رہی ہے۔ تحریک انصاف اب پنجاب کی ایسی روایتی حکمران طبقات کی نمائندہ جماعت ہے جو کئی دہائیوں سے مسلم لیگ (ن) اور (ق) کے پلیٹ فارم سے سیاست کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی میں بھی ان لوگوں کی معقول تعداد موجود تھی جو کہ اب تحریک انصاف میں جا چکے ہیں۔ یہی لوگ اب تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کیلئے کوشاں ہیں۔

دوسری یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ تحریک انصاف میں بھی کارکنوں کی وہی حیثیت ہے جو کہ دوسری بڑی سیاسی جماعتوں میں ہے۔ جس طرح حزب اختلاف کی پیپلز پارٹی اور ہوتی ہے اور اقتدار کی پیپلز پارٹی اور ہوتی ہے۔ حزب اختلاف میں ان جماعتوں کو ایسے کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کڑکتی دھوپ اور خون جما دینے والی سردی میں نعرے لگائیں۔ لیڈروں کی گاڑیوں کے آس پاس ان کے ساتھ چلیں۔ پولیس سے ڈنڈے کھائیں۔ آنسو گیس برداشت کریں۔

لیڈروں کی تعریف اور توصیف میں زمین وآسمان کے قلابے ملائیں۔ اپنے گلیوں ، محلوں اور علاقوں میں مخالفین کا سامنا کریں؟؟ جب پارٹی اقتدار کے قریب پہنچے تو پھر اقتدار کے ایوانوں میں وہی روایتی سیاستدان بیٹھے نظر آئیں جن کے خلاف ان کارکنوں نے سالہا سال جدوجہد کی ہوئی ہے۔ جب پارٹی حزب مخالف میں ہو تو

کارکن پارٹی کا اثاثہ ہوتے ہیں اور جب اقتدار کی منزل قریب ہو اور انتخابی امیدواروں کے چناؤ کا مرحلہ آجائے تو پھر قیادت کی نگاہ ان لوگوں کو ڈھونڈتی ہے جن کے خلاف جدوجہد کرنے کا وہ دعویٰ کرتی رہی ہوتی ہے۔

دوسری غلطی فہمی تحریک انصاف کی قیادت نے یہ دور کر دی کہ یہ موروثی سیاست کے خلاف ہے اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں موروثی سیاست کرنے والی جماعتیں ہیں جبکہ تحریک انصاف اس موروثیت کے خلاف ہے ۔ مگر انتخابی امیدواروں کے چناؤ میں تحریک انصاف نے اپنے اس دعوے کی نفی کر دی اور ایک ہی خاندان کو کئی حلقوں سے نواز دیا۔ تحریک انصاف اب تک ہمیشہ یہ دلیل دیتی رہی ہے کہ دیکھیں عمران خان کا کوئی قریبی رشتے دار یا اولاد تحریک انصاف کی قیادت کی دعویدار نہیں ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دوسری اور تیسری نسل اب قیادت پر براجمان ہے۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ عمران خان کا خاندان اور ان کے بچے تحریک انصاف کی قیادت کا حصہ نہیں ہیں۔ مگر تحریک انصاف میں بحیثیت مجموعی وہی موروثی سیاست کا غلبہ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ عمران خان صاحب کے صاحبزادے پاکستان میں سیاست نہ کریں مگر دوسری طرف عمران خان خود 22 سال سے اپنی جماعت کے چیئرمین ہیں اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرح ان کی جماعت بھی ان کی ذات کے گرد گھومتی ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کے دیگر رہنما دیگر دونوں بڑی جماعتوں پر اس حوالے سے تنقید کرتے ہیں کہ ان دونوں جماعتوں میں خاندانی حکمرانی ہے جبکہ تحریک انصاف اس برائی سے پاک ہے۔

مگر تحریک انصاف کے انتخابی امیدواروں کی فہرست پر نظر دوڑانے سے اس دعوے کی نفی ہو جاتی ہے۔ مثلاً نوشہرہ سے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے خاندان کو ضلع کی دونوں قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ دی گئی ہیں۔ ایک نشست پر پرویز خٹک خود اور دوسری پر ان کے داماد عمران خٹک الیکشن لڑیں گے۔

اسی طرح شاہ محمود قریشی کے خاندان کو بھی 4 نشستیں دی گئی ہیں۔ وہ خود ایک قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے امیدوار ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے بھی قومی اسمبلی کی نشست سے امیدوار ہیں۔ ڈیرہ غازی خان سے کھوسہ خاندان کو بھی ایک نشست سے زائد پر الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں۔ بہاولنگر سے طاہر بشیر چیمہ خاندان کو بھی ایک سے زائد ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح بہاولپور کے دو حلقوں سے مخدوم احمد عالم اور ان کے صاحبزادے کو ٹکٹ دیتے گئے ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کو بھی دو حلقوں سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ مظفر گڑھ سے بخاری خاندان اور گو پانگ کو بھی ایک سے زائد نشستوں پر ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔ راجن پور سے سردار نصر اللہ دریشک کے خاندان کو بھی ایک سے زائد نشستوں پر اپنا امیدوار بنایا گیا ہے وہاڑی سے نذیر جٹ خاندان کو تین ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔ جبکہ داؤد ضلع کی تقریباً تمام نشستوں پر لیاقت جتوئی کا خاندان الیکشن لڑ رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے حامی اسی بات پر بھی بہت زور دو دے رہے ہیں کہ دیکھیں ہم نے کتنے ٹکٹ نوجوانوں کو دیئے ہیں مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ نوجوان کن خاندانوں اور پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی بڑی تعداد اور اپنی سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ مثلاً سرگودھا سے غیاث احمد میلہ مرحوم کے فرزند اسامہ میلہ کو ٹکٹ دیا گی اہے۔ غیاث میلہ اپنے حلقے سے متعدد بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے ، اسی چوہدری انور چیمہ مرحوم کے پوتے کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ جبکہ ان کے والد عامر سلطان چیمہ قومی اسمبلی کا الیکشن اور بیٹے کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اس طرح شاہ محمود قریشی کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ نوجوان امیدوار کا تعلق پنجاب کی روایتی سیاسی اشرافیہ سے ہے۔ جو موروثی سیاست کے روشن ستارے ہیں۔

تحریک انصاف نے ٹکٹوں کے اجراء سے صاف بتا دیا ہے کہ وہ جاگیر داروں‘ قبائلی سرداروں ، سرمایہ داروں اور نودولتیوں کی نمائندہ جماعت ہے جو تبدیلی کے نام پر پاکستان کی اور روایتی سیاسی اشرافیہ کے غلبے اور تسلط کو قائم رکھنا چاہتی ہے۔


ای پیپر