طالبان۔۔۔افغانستان کی نئی سیاسی جماعت
13 جون 2018 2018-06-13

فوجی سپہ سالار پرانے زمانے میں صرف میدان جنگ اور لڑائی کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مگر جدید دور میں ان کا رول تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب جرنیل سیاسی اور سفارتی انداز میں بات کرتے ہیں۔ انڈیا کی پاکستان پر خیالی سرجیکل سٹرائیکس حالیہ برسوں میں اس کی مثال ہے جسے دنیا بھر کے فوجی حلقوں میں ایک لطیفہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج ہم آپ کو اس سے بھی بڑا لطیفہ سنانے جا رہے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل مائیک نکلسن نے اپنے بیان میں کہا کہ میں تھکے ماندے طالبان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ لڑائی چھوڑ کر امن قائم کرنے کی خاطر مذاکرات کریں ان کے اس بیان پربات کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا ادراک ضروری ہے۔ جب جنوری 2017 ء سے ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تو طالبان افغانستان کے 40 فیصد علاقے پر قابض تھے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جن لوگوں کو جنرل نکلسن تھکے ہارے قرار دیتے ہیں، انہوں نے گزشتہ دو سال کے عرصے میں افغانستان میں اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے مزید علاقوں پر اپنا اثرورسوخ بڑھایا ہے اور اس وقت وہ ملک کے 50 فیصد علاقے پر قابض ہیں کیونکہ وہ تھکے ہارے ہیں۔ جنرل نکلسن سے پہلے جو امریکی سربراہ افغانستان میں نہیں جیت رہے۔ یہ لفظوں کا ہیر پھیر تھا وہ یہ نہیں تسلیم کرنا چاہتے تھے کہ ہم وہاں شکست کھا گئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے دوسرے طریقے سے کہہ دیا کہ ہم نہیں جیتے جس کا مطلب تھا کہ ہمارے مخالفین جیت گئے ہیں۔

2001 ء میں امریکہ کے افغانستان پر حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کو 17 سال ہو چکے ہیں۔ دنیا کہ تاریخ میں جتنے امریکی افغانستان میں ہلاک ہوئے ہیں یہ ویتنام اور عراق میں بھی نہیں ہوئے امریکہ اس جنگ میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کی جیت کے امکان دور دور تک نظر نہیں آتے۔

امریکہ میں یہ رجحان ہے کہ جو بھی صدر نیا آتا ہے وہ افغانستان پر طاقت کا استعمال پہلے سے زیادہ بڑھا دیتا ہے تاکہ طالبان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔ باراک اوبامہ نے پہلے 4سال یہی کیا۔ دوسری دفعہ جیت کر انخلاء کا پروگرام دے دیا۔ طالبان کی اپنی پالیسی ہے جو ردعمل پر مبنی ہے جب امریکی جنگ تیز کرتے ہیں تو وہ بھی کارروائیاں بڑھا دیتے ہیں جب یہ سست ہو جاتے ہیں تو طالبان بھی رفتار دھیمی کر دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے آتے ہی یہ پالیسی اپنائی کہ طالبان کو میدان جنگ میں اتنا مارو کہ وہ مذاکرات پر مجبور ہو جائیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ قندوز میں ایک مدرسے سے حفاظ قرآن کو تقریب تقسیم اسناد پر بمباری کی گئی جس میں 15 اور 20 سال کی عمر کے درجنوں حافظ قرآن جو ڈگری لینے آئے تھے تقریباً سب شہید ہو گئے اس کے بعد طالبان نے ردعمل کے طور پر پے درپے حملوں سے کابل کی دھجیاں بکھیر دیں کابل کے محفوظ ترین علاقے میں انٹر نیشنل ہوٹل پر حملے میں 100 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

افغانستان میں جنگ کے دورانیے کو 17 سال کہنا غلط ہے۔ اصل میں تو افغانستان گزشتہ 40 سال یعنی 1979 ء سے حالت جنگ میں ہے۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا۔ معیشت تباہ حال ہے۔ تعلیم، صحت، سماجی انفراسٹرکچر سب کچھ جنگ کی نذر ہو چکا ہے۔ البتہ ہیروئن اور نارکوٹکس کی پیداوار ایک اندازے کے مطابق دس ہزار ٹن سالانہ ہے جس سے حاصل ہونے والی آمدنی قومی بجٹ کا 60 فیصد حصہ ہے کے برابر ہے۔ اس کمائی میں صرف طالبان نہیں جنگ کے سارے فریق اس سے پیسہ کھا رہے ہیں۔ طالبان کے دیگر ذرائع آمدنی میں تاوان بھتہ ملٹی نیشنل خصوصاً موبائل کمپنیوں سے ماہانہ وصولی اور زیر قبضہ علاقوں میں عوام سے تحفظ ٹیکس اور بیرونی ممالک سے چندہ وغیرہ شامل ہیں۔

اس سال کے شروع میں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دی اور غیر مشروط مذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ 17 سال میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ طالبان نے عید الفطر پر جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اشرف غنی کی آفر یہ ہے کہ طالبان نے شروع میں کہا تھا کہ ہم غیر ملکیوں کے غلاموں سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ اشرف غنی کی آفر یہ ہے کہ وہ قومی دھارے میں آ کر ملکی سیاست میں حصہ لیں اور انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کریں۔مگر طالبان نے افغانستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اشرف غنی نے عندیہ دے د یا ہے کہ آئین کے اندر ترمیم کی جا سکتی ہے۔ طالبان مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ انہیں سیاسی طور پر یہ بھی خدشہ ہے کہ صلح کے عمل میں ان کی اپنی صفوں میں انتشار پیدا ہوا تو یہ ان کے لیے تباہ کن ہو گا۔ جب طالبان کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس میں پاکستان کا اثرو رسوخ ا س لیے تھا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ افغانستان میں ایک ہی پیج پر تھے اور ابتدائی طالبان کی اکثریت پاکستانی مدرسوں سے فارغ التحصیل تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو روس کے قبضہ کے دوران بے گھر ہو کر پاکستان میں پناہ گزین کمپنیوں میں رہتے تھے۔ افغان خانہ جنگی کے دوران پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے امریکہ کے ساتھ مل کر وہاں مجاہدین کی مدد کرتے تھے۔ اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ افغان طالبان اب بھی پاکستان کے اثرورسوخ میں ہیں، اسی لیے امریکہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک اور طالبان کا حمایتی سمجھتا ہے۔

ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ اشرف غنی جو امریکی ایماء پر طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کر رہے ہیں، اس سارے عمل میں پاکستان شامل نہیں ہے کیونکہ امریکہ اور انڈیا نہیں چاہتے کہ مستقبل میں افغانستان میں پاکستان کا کوئی رول ہو۔ یہ اصل میں اس عالمی سیاست کا حصہ ہے جس میں چائنا پاکستان کے قریب آ چکا ہے۔ اور روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور انڈیا خطے میں چائنا کے مقابل ایک علاقائی بلاک بنانے میں مصروف ہیں جس میں افغانستان کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے گرد گھیرا مضبوط کیا جائے۔

ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان محض انڈیا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے علاقائی طور پر افغانستان سے لا تعلق قرار دے کر وہاں امن اور عمل کامیانی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ پہلے افغانستان اپنے30 لاکھ پناہ گزینوں کو تو واپس لے جائے جو ہماری معیشت کے لیے بوجھ بن کر سکیورٹی کے لیے بہت بڑا رسک بنے ہوئے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودہ مدت 2020 ء تک ہے بلکہ 2020 ء امریکہ میں الیکشن کا سال ہے امریکی صدر کی مجبوری ہے کہ اسے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی کچھ نہ کچھ کارکردگی دکھانی پڑتی ہے۔ ٹرمپ چاہتا ہے کہ وہ 2020 ء سے پہلے افغانستان کا مسئلہ حل کر کے عوام کے سامنے اپنی ساکھ بحال کروائے تاکہ اسے دوبارہ انتخاب جیتنے میں آسانی ہو۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ افغانستان کی گزشتہ 40 سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ عوام ہمیشہ غیر ملکیوں کے مقابلے میں مقامی قیادت کے حق میں ہوتے ہیں۔ اشرف غنی چونکہ امریکی شہری ہے اور اسے حامد کرزئی کی طرح بطور خاص وہاں پلانٹ کیا گیا ہے تاکہ امریکی مفادات کا تحفظ ہو سکے اس لیے طالبان اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر امریکہ عملاً آج وہاں سے انخلاء کرتا ہے تو اشرف غنی کو حکومت 24 گھنٹے بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔ صدر نکلسن نے کہا تھا کہ

"Afghanistan is the most difficult country to govern"

ان کا یہ جملہ آج بھی اتنا ہی Relevant ہے جتنا یہ آج سے نصف صدی پہلے تھا۔

امریکہ اور اشرف غنی طالبان کو بطور سیاسی جماعت ملکی دھارے میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ لیکن طالبان قیادت اس لیے تذبذب کا شکار ہے کہ کہیں وہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کر دیں جس سے ان کے فائٹرز ان سے بغاوت کر دیں۔ یہ طالبان جنگلوں اور غاروں میں رہنے والے طالبان نہیں ہیں یہ فیس بک، سوشل میڈیا، اخبارات اور مقامی سطح پر جدید ترین پراپیگنڈا مشینری سے لیس ہیں اور سفارتی طور پر اپنے مقابل سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ انہیں یہ بھی خبر ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات ہو رہی ہوتی ہے تو دوسری طرف دشمن ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوتا ہے جس وقت ملا منصور سابق طالبان رہنما کو ایران سے پاکستان داخل ہوتے ہی ڈرون حملے میں مارا گیا اس وقت بھی مذاکرات جاری تھے۔


ای پیپر