کراچی کے نام پر نہیں کراچی کیلئے سیاست کرنے کی ضرورت ہے!
13 جون 2018 2018-06-13

الیکشن کا دور ہے اور پاکستان بھر میں نامزدگی فارمز جمع کرائے جا رہے ہیں، الیکشن کو لے کر بہت سارے سوالات ہیں ، ابہام کی کیفیت ہے اور ایک عام شہری بھی اس عمل سے لاتعلق کہہ رہا ہے کہ الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ سابقہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017ء میں ایسے قوانین بنا دیے ہیں جس کیباعث ایک عام شہری کو انتخابی عمل سے فارغ کر چکے ہیں ، پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی کا کام اب الیکشن میں حصہ لینے کا مطلب صرف ووٹ دینا رہ گیا ہے ،غالبا اسی لیے ووٹ کو عزت دو کی بات کی جار ہی ہے ... ووٹر کو نہیں ، صوبائی نشست کیلئے زر ضمانت 20000 روپے اور قومی نشست کیلئے 30000 روپے، تصدیق شدہ کاپیاں ، پھر حلف نامہ ، نیا بینک اکاؤنٹ اور اگر ایک سے زیادہ سیٹ پر الیکشن لڑنا ہے تو ہر سیٹ پر علیحدہ بینک اکاؤنٹ وغیرہ ؛ جہاں کم سے کم اجرت 17ہزار روپے ہو وہاں 20 ہزار اور 30ہزار روپے جمع کروانے کی شرط غریب شہری کو اس عمل سے باہر کر دیتی ہے ۔ غریب اور متوسط طبقہ کی نمائندگی اور ان کی شمولیت کے بغیر تو یہ ایلیٹ کلب کے ممبران کا انتخاب رہ جائے گا۔الیکشن 2018 ء عوامی اشوز کا پر لڑا جائے گا تو تبدیلی آئے گی لیکن اگر اس الیکشن میں کسی کی معصومیت، کسی کا انتخابی نشان سیرومانس، کسی کی رحم کی اپیل، کسی کی شہادت، کسی کی خاندانی موروثی سیاست ، کسی کو کیوں نکالا، کسی کو کیوں رکھا وغیرہ جیسے کھوکھلے نعروں پر انتخابی مہم چلانی پڑے تو پھر آنے والی پارلیمنٹ اور اسمبلیاں پہلے کی طرح ایلیٹ کلاس کا سوشل کلب اور غریبوں اور محروموں کی دسترس سے دور رہیں گی۔

جن جماعتوں کو 2008 کے بعد صوبے اور وفاق میں حکومت کرنے کا موقع ملا انہوں نے عوام کو مایوس کیا، اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کروا ئے اور اس کے نتیجہ میں منتخب ہونے والی مقامی حکومتوں کو بھی حساب دینا ہو گا اور عوام کو ان کا کڑا احتساب کرنا بھی چاہئے۔پاکستان میں پینے کا صاف پانی، سیوریج کا نظام، صفائی ستھرائی ، کچرا اٹھانے کا انتظام، تعلیم، صحت ، روزگار، امن وامان، ملک کی معاشی صورتحال، لوڈ شیڈنگ کا عذاب، توانائی کا بحران، زرمبادلہ کے ذخائر میں تاریخ سطح پر سب سے کمی، درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن، بیرونی قرضے، گردشی قرضے، روپے کی قدر میں کمی، سمیت اہم ترین بنیادی ضروریات میں حکومتوں کی نااہلی کا حساب کتاب کرنا اور پھر کسی گمان میں رہے بغیر کے اچھائی، بھلائی اور اپنی اپنی زندگیوں میں بہتری کیلئے دوبارہ انہی جماعتوں کو منتخب کر کے تبدیلی کی توقع کرنا کسی طور پر بھی دانشمندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اگر صرف کراچی شہر کی مثال لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں نے پورے ملک کو چلانے والے اس میٹروپولیٹن شہر کے ساتھ زیادتی کی ، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیوا یم تینوں جماعتیں اس شہر کی بربادی میں برابر کی شریک ہیں۔ پیپلزپارٹی دس برسوں سے سندھ میں حکومت کرنے کے باوجود کراچی کو دانستہ نظرانداز کرتی آئی ہے جس کی مثال پچھلے سال کے 344 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں کراچی کیلئے صرف 12 ارب روپے اور پاکستان مسلم لیگ ن نے پچھلے سال 1001ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں کراچی کیلئے فقط 25 ارب روپے مختص کیئے؛ آبادی کے حساب سے وفاق کو بجٹ کا 10 فیصد اور صوبہ کو کم ازکم 40 فیصد مختص کرنا چاہئے تھا۔ اس شہر کو مردم شماری میں زبردست جھٹکا لگایا گیا اور ڈھائی کروڑ کی آبادی کو ایک کروڑ ساٹھ لاکھ پر لا کھڑا کیا گیا ہے یعنی ستر سے نوے لاکھ آبادی کم دکھائی

گئی ہے ۔اس دوران اس شہر کی نام نہاد نمائندہ جماعت ایم کیو ایم ساس اور بہو کے جھگڑوں میں مصروف رہی اور کئی کیمپوں یا گروپوں میں تقسیم ہونے کے بعد آپس میں الجھی رہی اور عوامی سیاست سے ہر گزرتے دن کے ساتھ دور ہوتی گئی، نتیجہ نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں شہر کو اس بے دردی سے کاٹاپیٹا گیا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں توازن، مطابقت اور مسابقت دونوں کہیں نظر نہیں آتے۔ ایم کیو ایم کی نااہل ، کمزور اور مفاد پرست قیادت کارکنوں اور عوام کے جذبات سے کھیلتی رہی، کبھی بہادرآباد سے رونے کی آوازیں اور کبھی پی آئی بی کالونی پر دکھ کے سائے، رات دیر گئے تک میڈیا پر ڈرامہ بازی، غمگین پریس کانفرنس، میڈیا پر براہ راست گھنٹوں موجودگی، لیکن مجال ہے کہ دونوں گروپوں نے عوامی مسائل کو لے کر ایک دوسرے سے ناراضگی کا اظہار تک کیا ہو ... ان کا مشغلہ تو قیادت کا حصول اور کنوینر شپ پر نظر تھی، بالآخر دونوں ہی اپنے مینڈیٹ کو رسوا کرنے پہلے الیکشن کمیشن میں ایک دوسرے کے آنے سامنے اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جا کھڑے ہوئے یہاں تک کے فیصلہ ایک فریق کے حق میں آ گیا۔ اس دوران کئی بار دونوں گروپوں کو ’’انجینئرنگ ‘‘ کر کے ایک ساتھ بٹھاکر میڈیاٹاک بھی کروائی گئی، یاد کریں سینٹ الیکشن سے پہلے اسلام آباد میں اور پھر پیپلزپارٹی کے تعصب اور لسانیت سے بھرپور لیاقت آباد جلسے کے بعددونوں طرف کے لوگ ایک ساتھ کراچی میں مجبورا کھڑے نظر آئے۔ شرم کی بات ہے کہ قوم کو جگانے کی بات کرنے یہ غافل لوگ اپنے مینڈیٹ کو عدالتوں میں رسوا کرتے رہے، کسی سیاسی عوامی جماعت کی قیادت میں شدت کے اختلافات ہوں کہ فیصلہ عدالت کو کرنا پڑے انتہائی شرم کی بات اور نام نہاد قیادت کی نااہلی کا ثبوت ہے ؛جو آپس میں بیٹھ کر مسائل حل نہیں کر سکتے وہ عوام کے مسائل کیا حل کریں گے۔ جمہوری عمل میں سیاسی جماعتوں کی قیادت کا فیصلہ عدالتوں میں نہیں صرف اور صرف عوامی پذیرائی اور انٹراپارٹی الیکشن کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام ووٹ کس کودیں ، کیا موجودہ ایم کیوا یم وہی 80 کی دہائی والی ایم کیو ایم ہے ؟ یقیناً نہیں ۔ کیا اس ایم کیو ایم کی قیادت عوام سے مخلص اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کیلئے قابلیت اور اہلیت رکھتی ہے ؟ یقیناً نہیں ۔ کیا اس جماعت کی قیادت میں تجربہ کار اور عوام الناس کی خدمت کرنے کا جذبہ ہے ؟ یقیناً نہیں ۔ ابھی بلدیاتی قیادت ان کے پاس ہے اور حال ہی میں قائد حذب اختلاف بھی ان کا ہی تھا تو کیا ووٹ کی طاقت کا درست استعمال کر کے عوام کے حقوق حاصل کر سکے؟ یقیناً نہیں ۔ کیا کوئی ایک احتجاج یا رات کا رونا گانا کبھی عوام کو درپیش سنگین ترین عوامی مسائل کے حل کیلئے تھا؟ یقیناً نہیں ۔ تو پھر آگے انہیں ووٹ دے کر کیا حاصل ہو گا؟ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ ’’ کچھ بھی نہیں ‘‘۔ پتنگ کے نشان سے یقیناًلوگوں کا رومانس رہا ہے اور اس نشان سے لوگوں کی امیدیں بھی بہت رہی ہیں ... لیکن کیا آج اس نشان کو بھی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا رہا؟ یقیناًکیا جا رہا ہے ۔ پتنگ کو ڈھال بنا کر ایم کیو ایم کے ٹھیکیدار لسانیت کا نعرہ لگا کر اس کے پیچھے چھپ کر کھڑے ہو گئے ہیں ، اپنی ناکام کارکردگی، نااہلی ، اور عوام دشمنی والے چہرے اس خیال سے پتنگ کے پیچھے چھپے ہیں کہ شاید ایک بار پھر عوام جذباتیت کی رو میں ان کی تمام تر غلاظت کو معاف کر کے ایک موقع اور دے گی تاکہ عوام کا باقی ماندہ خون بھی چوس لیا جائے۔ ایسا ہوا تو اس شہر اور شہر میں بسنے والے لوگوں کی بدنصیبی ہو گی، ہماری آنے والی نسلوں کی بربادی کا باعث ہو گا۔ الغرض درجن بھر ناکام لوگ ہیں جو آج ایم کیوایم اور پتنگ لے کر میدان میں اتر رہے ہیں ، اپنے کرتوتوں کو پتنگ کے نشان کے پیچھے چھپا رہے ہیں تاکہ ان کا اصلی چہرہ دکھائی نہ دے۔

کراچی اور شہری سندھ کیلئے موجود بہتر آپشن پاک سرزمین پارٹی ، مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی صورت میں موجود ہے ، یہ شہر ان کے ہاتھ سے پہلے بھی بنا ہے اور اسی لئے ان کے تجربہ اور کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے ڈولفن سے رومانس کریں، ڈولفن کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں اور کراچی کی تقدیر بدلنے کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔ الیکشن سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ کراچی والوں کے درمیان تعصب اور نفرت کا خاتمہ ہو... پی ایس پی اس میں نہ صرف پہل کر چکی ہے بلکہ کامیابی کے ساتھ بڑی تعداد میں کراچی میں بسنے والی تمام قومیتوں کے افراد پی ایس پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی سب سے بڑی کامیابی ان ناراض بھائیوں اور قومیتوں کو ایک بار پھر ایک جگہ جمع کرنا اور اتحاد کے ذریعے اپنے حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد میں اکٹھا کرنا اور آپس میں میل جول بڑھانا ہے ۔ آنے والی نسلیں جب اتحاد کا مظاہرہ کریں گی توپھر کون کراچی کے حقوق غصب کر سکے گا۔کسی کو لسانیت ، عصبیت یا نفرت کی بنیاد پر جگانے اور بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، سب اس ملک کے شہری اور کراچی میں بسنے والے لوگ ہیں ، طویل اندھیری رات کا خاتمہ ہو اور تعمیر و ترقی کا سورج طلوع ہو۔ اچھی بات ہے پی ٹی آئی اور پی ایم ایل ن کے چیئرمین اور صدر بھی کراچی سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، اچھی بات ہے اور ضرورت بھی ہے کہ کراچی سمیت ملک کے تمام محروم علاقوں کو وفاق سے جوڑا جائے۔ امید ہے کہ اس بار کم از کم شہری اپنا ووٹ جذباتیت، لسانیت، نفرت، تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ آنے والے اچھے دنوں کیلئے ، اپنی اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ، عزت، انصاف اور اختیار کیلئے سوچ اور سمجھ کر ڈولفن پر مہر لگائیں گے۔ پارٹی دیکھیں ، اس کی کارکردگی دیکھیں، اس کے وعدے دیکھیں، اس کی قیادت کی سنجیدگی دیکھیں، اس کا ماضی ، حال اور کردارضرور دیکھیں، سوال کریں ، آنکھ کے ساتھ ساتھ ذہن بھی کھول کر پرکھیں، پھر اپنے ووٹ سے صحیح معنوں میں اپنی اور اپنی نسلوں کی تقدیر بدلیں۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی کراچی کے معاملات میں فہم و فراست کا مظاہرہ کرنا ہو گا، یہ قبضہ کی خواہش، زبردستی اپنی جگہ بنانے کیلئے لوگوں کے لسانی جذبات ابھارنا، کراچی کی تاریخ سے ناواقفیت، اس شہر کی تاریخ اور حساسیت محسوس کئے بغیر لوگوں کو مخاطب کرنا بھی نقصان کا باعث ہو سکتا ہے ۔ کراچی اور اس میں بسنے والے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے ، آپ کا بیانیہ ملک گیر کچھ اور ہو سکتا ہے لیکن کراچی منی پاکستان ہے یہاں ایک عرصہ کے بعد امن و امان کی صورتحال قدرے بہتری ہوئی ہے ، اس بات کا خیال تمام لوگ رکھیں کی جیسے سندھ کی تقسیم کی پرزور مخالفت ہوتی ہے اسی طرح کراچی کی تقسیم اور کراچی کے نام پر صرف سیٹ حاصل کرنے اور یہاں اپنا جھنڈا گاڑنے کا تصور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس شہر کے باسیوں کے دل جیتنے کی ضرورت ہے ، ان کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے ، ان کے علاقوں کی ترقی اور بنیادی ضروریات ان تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔ مزید آگ لگانے سے اور تقسیم کرنے سے وقتی نمبر گیم میں فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن نقصان کا اندازہ بھی لگانا شاید کراچی سے باہر سے آنے والوں کیلئے ممکن نہ ہو۔ کراچی اب ایک نئی قیادت اور ایک نئی امید مانگ رہا ہے ، ہم سب مل کر کراچی اور کراچی والوں کیلئے اب کچھ کریں۔ کراچی کے نام پر بہت ہو چکا اب کراچی کیلئے سب کچھ کرنے کی ضرورت ہے صرف سیاست نہیں ۔


ای پیپر