سموسہ کی اہمیت اور عوامی / صوفی شعراء ۔۔۔؟
13 جون 2018 2018-06-13

شعبدہ بازوں نے پھر سے آنکھیں کھول لی ہیں جس طرح پرانے چھپڑ (گندے پانی کا تالاب) سے مینڈک برسات کے موسم میں نمو دار ہوتے ہیں اور کراچی میں تو آخری خبریں آنے تک ایک عدد عوامی نمائندے کو عوامی چھترول کا سامنا بھی کرنا پڑا جب وہ نئے الیکشن کے سلسلہ میں ووٹر سے ووٹ مانگنے جا پہنچے ۔۔۔ پانچ سال بعد اپنے نمائندے کا چہرا دیکھتے ہی عوام غصے میں آ گئے اور پھر جو اُنھوں نے عوامی نمائندے کے ساتھ کی وہ صرف دیکھنے کے قابل ہے پڑھنے سے آپ کو وہ مزا نہیں آئے گا جس طرح ریحام خان کی کتاب پڑھے بغیر لوگ ’’انجوائے‘‘ کر رہے ہیں حالانکہ باتیں وہی ہیں جو دو تین سال سے اخبارات میں چھپ رہی ہیں یا وافر مقدار میں فیس بک وغیرہ پر موجود ہیں صرف بیچاری ریحام خان کو نئی گالیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔۔۔ میری ایک مختصر سی تحریر ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔؂

میں نے ضمیر سے کہا

سو جا ۔۔۔

تیرے ہمسائے میں سب سو رہے ہیں

اپنے خراٹوں سے اُنہیں

Distrub کرنا بند کر۔۔۔

رمضان المبارک میں جس طرح سموسے کی عوامی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے اس دفعہ الیکشن میں شاید عوامی نمائندوں کو اُس طرح کی عزت و تکریم نہ ملے جس طرح کی پچھلے الیکشن میں مل چکی ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کو بیان کرنے سے میں قاصر ہوں پھر بھی چونکہ سموسہ بڑی اہمیت حاصل کر چکا ہے اس لیے سموسے کے حوالے سے میری یہ چند لائنیں ملاحظہ ہوں ۔۔۔؂

سموسہ کھا کے گھر آیا تھا محسنؔ

سموسہ کھا کے دفتر جا رہا ہوں ۔۔۔

سموسے کے ہی میں گن گا رہا ہوں

دوسری ہیرا پھیریوں کے ساتھ ساتھ انسانی جبلت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی عمر چھپانے کی کوشش ضرور کرتا ہے کچھ عرصہ پہلے تک یہ الزام خواتین کے سر تھوپ دیا جاتا تھا کہ وہ اپنی عمر اصل سے کم بتاتی ہیں مگر اس کام میں بلکہ اس ریس میں اب مرد بہت آگے نکل چکے ہیں ۔۔۔

انسان جب اٹھاون کا ہو تو وہ خود کو باون کا بتلاتا ہے کوئی پوچھے آپ کی عمر کیا ہے ؟ یا خود ہی باتوں میں ایسی بات کہہ دی کہ جس سے یہ مخمصہ ہی رہے کہ باون کہا ہے یا اٹھاون!؟ اگر کسی باریک بین ہستی نے وضاحت طلب کی تو وضاحت کرنے میں تیزی دکھادی ۔ ایسے ہی اڑتالیس والوں کے لئے بھی ہندسوں کے چکر میں کافی سہولت موجود ہے وہ اڑتالیس اس انداز میں کہیں کہ چالیس محسوس ہو؟۔۔۔؟ یہ تو خیر عمر چوری کے مجرب نسخے ہیں۔ ہو سکتا ہے نئی نسل نے کمپیوٹر کی مدد سے کوئی نئے اصول دریافت کر لئے ہوں اور تیس کو بیس بنا ڈالاہو ویسے تیس کو بیس بنانا خاصا آ سان کام ہے۔ مگر اٹھاون کو باو ن بنانے کے لئے ہر روز صبح دانت صاف کرنے سے پہلے سر پر خضاب لگانا ضروری ہے ورنہ راز فاش ہونے کا دھڑکا لگا رہتا ہے ویسے فلمی دنیا کی خواتین چالیس کو بھی بیس یا اس سے بھی کم بنانے میں ماہر ہیں۔ گردووغبارویسے بیس والوں کو بہتر یا اسی تک کا بھی بنا دیتا ہے۔ آزمائش شرط ہے۔ ویسے فلمی دنیا کی خواتین سولہ سترہ سے اوپر جانا اپنی توہین سمجھتی ہیں اور سال میں چار پانچ بار اپنی سالگرہ مناتی ہیں پسند کے لوگوں کے سامنے کیک کاٹتی ہیںیا ان سے کیک کٹواتی ہیں حالانکہ نظر اس کی جیب پر ہوتی ہے اور جیب کاٹنے کے طریقوں پر غور بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ ویسے لاہور سے گزرنے والی چالیس کلو میٹر لمبی سڑکیں ’’گوڈے گوڈے‘‘ گردوو غبار اور اس سے ہونے والے ’’سولہ سنگھار‘‘ جب بندہ پہنچتا ہے تو گھر والے بھی پہچاننے سے اانکار کر دیتے ہیں دھول اڑاتی بسیں اور ٹرک اور ہر لمحہ حادثات کا خوف ؟خاص طور پر ہر گلی ہر موڑ پر نئی ۔۔۔ سرخ بسوں نے تو رنگ ہی بدل ڈالا ۔۔۔

سنا ہے کسی ذمہ دار شخصیت نے متعلق محکموں اور ٹھیکیداروں کو خوب جھنجھوڑا ہے اور امید ہے گردوو غبار کی یہ اندھیری جلد بیٹھ جائیگی۔ ویسے یہ مٹی بڑی زرخیز ہے جو سر پر پڑ رہی ہے کچھ عرصہ پہلے جبار مفتی نے ’’نوائے وقت‘‘ رحیم یار خان کے زیر اہتمام ایک مشاعرہ کی نوید سنائی تو میں نے بھی جانے کاوعدہ کیا اور جب پتہ چلا کہ لاہور سے نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن اور بیسیوں شاعری کی کتابوں کے خالق دو بہت بڑے نام سعد اﷲشاہ اور فرحت عباس شاہ بھی مشاعرہ میں شریک ہیں تو میں نے ایڈوانس ٹکٹ بنوالی ۔ جب پتہ چلا کہ ملتان سے مزاحیہ شاعری کے جرنیل خالد مسعود بھی جا رہے ہیں تو معاملہ اور ہی شکل اختیار کر گیابلاشبہ یہ بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے اور اپنے کام کے اکیلے ہی ماہر ہیں ۔۔۔اتفاق سے سعد اﷲشاہ او ر فرحت عباس شاہ کے ساتھ ہی مجھے لاہور سے رحیم یار خان کا سفر کرنا پڑا دوران سفر سعد اﷲشاہ نے نہ صرف اپنے بلکہ دیگر نامور شعرا کے بیسیوں اشعار سناکر مجھے حیرت زدہ کر دیا۔یقیناًنئی نسل اردو شاعری کے حوالے سے ان دونوں جوان شعرا پرفخر کر سکتی ہے ۔۔۔

راستے میں ہی پتہ چلا کر ایک نامور ہستی اور بھی ہیں جو کہ مشاعرہ کہ سلسلہ میں رحیم یار خان تشریف لا رہے ہیں اطلاع دینے والے نے یہ بھی اطلاع پہنچائی کہ اس ہستی کے آستانے پر خود جبار مفتی صاحب گئے اور درخواست کی کہ آپ کے اس مشاعرہ میں جانے سے مشاعرہ کی نہ صرف رونق دوبالا ہو جائیگی بلکہ مشاعرہ کے شائقین کا جوش بھی دیدنی ہو گا۔مجھے بڑا شوق اور خواہش تھی کہ میں اس ہستی سے ملوں کے جن کے بارے میں فرحت عباس شاہ نے بتایا کہ سرائیکی انداز کے یہ شاعر دلوں کی دھڑکن ہیں ’’پھر تو یہ علاقائی شاعر ہوئے؟‘‘ یکدم میرے منہ سے نکلا! اور فرحت صاحب بے ساختہ بولے ’’ مظفر صاحب کیا خوشحال خان خٹک، بابا بلھے شاہ، رحمن بابا ، خواجہ غلام فریدسچل سرمست، وارث شاہ۔۔۔ یہ سب آپ کے خیال میں علاقائی شاعر ہیں‘‘۔۔۔؟!!

’’نہیں‘‘ ۔۔۔ شاہ جی یہ نام تو علم و عرفان کی عظمتوں کی دلیل ہیں اور عالمی سطح پر جانے پہچانے اور مانے بھی جاتے ہیں۔۔۔؟ میرے جواب پر شاہ جی مطمئن نہ ہوئے اور مزید فرمایا۔۔۔ آپ کے خیال میں حبیب جالب علاقائی شاعر تھا، استاد دامن کا تعلق صرف لاہور سے ہے؟ کیا فیض احمد فیض نے جو سختیاں جھیلیں جن مسائل کا ساری زندگی انہیں سامنا کرنا پڑایہ معمولی بات تھی۔ کیا ساغر صدیقی علاقائی شاعر تھا۔۔۔؟ بنیادی طور پر یہ اﷲ کے پسندیدہ لوگ تھے۔ بھوک، افلاس سختیاں جنہیں جھکانہ سکیں اور وہ سچ کہتے رہے اور وہ وہی کرتے ہیںیعنی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے"تو کیایہ سب ہستیاں اپنے اپنے محاذ پر جہاد نہیں کرتی رہیں۔ میں سمجھ گیا کہ جس شخص کے حوالے سے یہ تمہید باندھی گئی ہے وہ کوئی عامیانہ قسم کا شاعر یا مفکر نہیں وہ نام یقیناًعہدیداروں کا نہایت جاہ و جلال والا شخص ہو گا ۔۔۔ غربت و افلاس کی چادر اوڑھے انسانوں کا درددل میں لئے جو خراٹے نہیں لے رہا۔ ہر لمحہ سچ کہہ رہا ہے اور اپنی آفاقی شاعری سے مردہ دلوں کو زندہ کرنے کی کوشش میں مگن ہیں ۔۔۔

اور جب وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھا تو ہزاروں مردوزن بھی عقیدت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے جبار مفتی نے اسے سینے سے لگایااور ایک سکوت طاری ہو گیارات کی خاموشی میں ایک ایک لفظ دلوں میں اترتا جا رہا تھااور وہ حاکم وقت کو مخاطب کر کے بلا خوف و خطر دل کی بات کہہ رہا تھا۔ جیسے شیر دھاڑ رہا ہو ، خوف کے سائے میں سچ اگلناعام انسان کے بس کی بات نہیں ۔۔۔

فرحت عباس شاہ بھی ساتھ بیٹھے تھے اور میں ان کے چہرے کے اتار چڑھاؤسے محسوس کر رہا تھا کہ ایک ایک لفظ ان کی بیان کردہ سچائیوں کی عکاسی ک رہا ہے ۔۔۔

بھک دے پھٹ کوں سیون ڈیو

سکھ دا پانی (پانٹری) پیون ڈیو

اساں وی ہیں مخلوق خدا دی

ظالم لوکو جیون۔۔۔ ڈیو

پھر عہددوران کا ساغر صدیقی ، حبیب جالب اور استاد دامن میرے سامنے تھا ۔ قدرتی طور پر معذوری ساتھ تھی۔ غربت اور مسائل نے کمر دوہری کی ہوئی تھی مگر جوان دلوں کو گرمانے والا شخص اندر سے پوری طرح جوان لگ رہا تھا ۔ آفاقی کلام دلوں پر اثر کر رہا تھا۔ شاکر شجاح آبادی ۔۔۔پھر بولا ۔۔۔

جھتاں کوئی انصاف دا ناں کئی نی

میکوں پورے پاکستا ن دا ڈکھ

جیہرے مر گئیں اومر، گئیں

مینوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

ہزاروں لوگوں کا مجمع ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور عہد دوراں کا عظیم صوفی شاعر شاکر شجاع آبادی پنڈال سے رخصت ہو رہا تھا۔ ۔۔ اور مجھے آغا شورش کشمیری ؒ کا و تاریخی فقرہ یاد آرہاتھا۔۔۔

’’شاعر کا قلم اور عوام کے قد م ایک ساتھ چلتے ہیں‘‘ ۔

(شاکر شجاع آبادی کو 23 مارچ کو گورنر پنجاب نے اعلی سول ایوارڈ سے نوازا جو سرائیکی شاعری کے اس سالار کو پہلا سرکاری اعزاز دیا گیا) ۔


ای پیپر