راستے کانٹوں سے اٹ گئے

13 جون 2018

ناصف اعوان

بلاشبہ پی ٹی آئی یا اس کی قیادت نے اپنی سیاسی جماعت کو مقبول عام بنانے اور اقتدار میں لانے کے لئے نظام کو بدلنے کا نعرہ لگایا تھا اور اس کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا۔ طویل دھرنے دیئے، جلسے جلوس اور ریلیوں کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں جہاں بہت سے لوگوں کو پریشانی ہوئی وہاں پی ٹی آئی کے جوشیلے ، اصول پسند اور تبدیلی کے خواہاں کارکنوں نے اپنے کاروبار بھی تباہ کئے۔ جذبات اس کے ووٹروں کے یہ تھے کہ وہ بڑے سے بڑے طاقتور سے ٹکرانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب انقلاب آیا ہی لیجئے مگر انقلاب مخالف قوتوں کو یہ منظر قابل قبول کب تھا۔ لہٰذا اب ہوا یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مشیروں کے مشورے پر عمل درآمد کرتے ہوئے تبدیلی کے طلب گاروں کو راستے سے ہٹا کر وہ عنصر میدانی انتخابات میں اتار دیا۔ جو اس نظام کو بدلنا نہیں چاہتا بلکہ مضبوطی سے برقرار رکھنا چاہتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ عمران خان جو خود کو میرٹ پسند، بردباد ، کسی فیصلے پر سختی سے عمل
کرنے والے اور عوام دوست کہلوانا لازمی سمجھتے تھے اب یہ سب جو ہوا ہے کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے عینی جنہوں نے بھوک پیاس برداشت کی اور جیلیں تھانے اور کچہریاں دیکھیں ان میں رہتے ہوئے طرح طرح کی تکالیف برداشت کیں وہ ٹکٹوں سے محروم کر دیئے گئے ۔ ایسا کیوں ہوا۔؟ پی ٹی آئی کے کارکنان تادم تحریر سراپا احتجاج ہیں۔ میں تو طویل عرصے سے دہائی دے رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ چند بڑے ساہو کار عوامی نہیں۔ غیر عوامی ہیں جو باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت ان کے پہلو میں موجود رہ کر ان کی عوامی جدوجہد کو کنٹرول کرتے ہوئے اس کو روک دینا چاہتے ہیں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی پیسے والا ملوں کا مالک اور وسیع اراضی رکھنے والا یکایک عوامی ہو جائے اور اپنا دھن ، من اور تن لوگوں پر نچھاور کر دے۔ لہٰذا ایک ہنگامہ برپا ہے چوری کھانے والے مجنوؤں کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنوں میں خوفناک حد تک اضطراب پایا جا رہا ہے کہ وہ نئے آنے والے روایتی سیاستدانوں اور امیدواروں کے مقابل آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس سے تو یہ دکھائی دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی بری طرح سے ہار جائے گی۔ جو قابل انتخاب ’’منتخب‘‘ کئے گئے ہیں انہیں پی ٹی آئی اور اپنے پرانے روایتی ووٹروں کو نفرت کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ نجانے خان کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آئی کہ ان کے مشیروں نے انہیں ایک مشکل میں پھنسا دیا ہے اور غیر محسوس انداز سے انہیں پورے سیاسی منظر ہی سے غائب کرانے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان ملک کے وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے۔ کسی نہ کسی طرح وہ کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری ان کے لئے سیاسی پھندا تیار کئے بیٹھے ہیں۔ یوں عمران خان کی پوری زندگی کی جمع پونجی غارت ہونے کا اندیشہ ہے۔ اصل میں انہیں کامیابی کا یقین دلایا گیا ہو گا۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ وہ پوری پی ٹی آئی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔ اور ان کے تبدیلی کے خواب کو چکنا چور ہونا پڑے گا۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ کپتان نے سیاست نہیں سیکھی وہ فضاؤں میں اڑتے ہوئے اس نظام کو تبدیل کرنے کا سپنا دیکھ رہے تھے جبکہ زمین پر سیاسی گدھ اوربادشاہ گر ان کے اس سپنے کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر ادھورا بنانے کی حکمت عملی طے کئے بیٹھے تھے۔ سو اب ان کی جماعت جیت بھی جاتی ہے (ویسے وہ جیت کے دائرے میں نہیں آ رہی) تو جو ووٹروں میں اشتعال ہے وہ آسانی سے ٹھنڈا نہیں ہو گا۔ ؟
بہرحال انقلاب آتے آتے رہ گیا۔ پی ٹی آئی پر وہ لوگ قابض ہو چکے ہیں جو مال بچاؤ اور مال بناؤ قسم کے ہیں انہیں اس نظام کو بدلنے کی نہیں اسے بچانے کی فکر ہے لہٰذا انہوں نے چاروں طرف سے گھیرا ڈال لیا ہے جس کے ذمہ دار خود عمران خان ہیں یا دوسرے لفظوں میں انہیں یہ معلوم تھا انہوں نے دانستہ تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ اس طرح جس طرح بھٹو کو پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک کو دبانے اور کچلنے کے لئے اقتدار دلوایا گیا۔ عوام کو بغیر انقلاب پڑھائے اور اس حوالے سے تربیت دیئے صنعتوں پر دھاوا بولنے کو کہا گیا۔ بیورو کریسی کو قابو میں کرنے اور مکمل طور پر ماتحت بنانے کے لئے پی پی پی کے یونین کونسل سطح کے عہدیداروں کو اس کے ساتھ سخت اور غیر مہذبانہ طرز عمل اختیار کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ جس سے ریاست کے مستقل اور فعال اداروں میں سرائیمگی دوڑ گئی۔ اور وہ دبک کر بیٹھ گئے ۔ غیر تربیت یافتہ کارکنان جائز ناجائز کام کروانے میں لگ گئے ۔ صنعتی پیداواری عمل بری طرح سے متاثر ہونے لگا۔ ردعمل کے طور پر طاقتور عناصر نے اپنے بچاؤ کی ترکیبیں سوچنا شروع کر دیا۔ آخر کار زیڈ اے بھٹو کو اقتدار سے ہاتھ دھونا بڑے اور انقلاب کہیں کونے کھدرے میں چھپ گیا۔!
آج سے دس پندرہ برس پہلے بھی جب عوامی مزاج میں تناؤ جنم لے رہا تھا لوگوں میں اس نظام کے خلاف غم و غصہ کی فضاء پیدا ہو رہی تھی۔ تو عمران خان کو موزوں و مناسب سمجھا گیا۔ اب جبکہ وہ اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے واقعتا تیار ہو چکے تھے تو انہیں روایتی جاگیرداروں ، ڈویروں ، سرمایہ داروں اور سائیوں نے باقاعدہ ان سے جپھی ڈال لی تا کہ وہ آگے نہ بڑھنے پائیں۔ !
لہٰذا صورت حالات یہ ہے کہ اب پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور عمران ابھی تک اس زعم میں ہیں کہ پی ٹی آئی کا کارکن غصے و غم کے باوجود انہیں ہی ووٹ دے گا۔ جبکہ یہ بات اور ایسا سوچنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔ ان کے ووٹرز سپورٹر اور ورکرز انتہائی دکھی ہیں اور حیران ہیں کہ یہ سب کیسے ہوا کیوں ہوا اور کس نے کرایا۔؟وہ تو انہیں امید کی آخری کرن سمجھ رہے تھے۔ انہیں کیا مجبوری تھی کہ وہ ان عوام بیزار امیدواروں کو ساتھ ملانے پر آمادہ ہو گئے ۔ مگر وہ اس طرح کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ پھر انہیں سمجھ آئے گی۔ کہ ان کے غمگسار ، ہمدرد اور چاہنے والے ٹھیک ہی کہتے تھے۔ بالغرض وہ کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو وہ اپنے خواب کو پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے کہ موجودہ حالت کے خواہاں لگڑ بگڑ ان کا ہاتھ روک دیں گے۔ بہرکیف اب حالات ایک بار پھر افراتفری و بے چینی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اگر عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ ؟
حرف آخر یہ کہ لوگوں میں یہ بحث چل نکلی ہے کہ اب جبکہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ایک ہی طرح کے چہروں پر مشتمل ہیں تو وہ کسے بہتر جانیں اور کسے نہیں۔ کچھ تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ اب وہ ووٹ کسی کو بھی نہیں دیں گے۔ مگر جنہوں نے تھوڑے بہت جس جماعت سے فائدے حاصل کئے ہیں وہ ان کے ہاتھ میں اپنی پرچی تھمائیں گے۔ مگر وہ خواہشیں اب پوری نہیں ہو سکیں گی جو مظلوم اور محکوم عوام نے برسوں پہلے کی تھیں کہ راستے کانٹوں سے اٹ گئے ۔ !

مزیدخبریں