ڈیم دو۔۔۔ ووٹ لو،تبدیلی اور عوامی خوشحالی کے دعوے

13 جون 2018

اسحاق جیلانی

ملک میں ہر شخص حقوق کی بات کرتا ہے فرائض کی کوئی نہیں کرتا ارباب اختیار کو بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا چاہئے۔بد قسمتی سے ارض وطن کو ایسی قیادت تاحال میسر نہیں ہو سکی جو لوگوں کو ایک قوم بنا کر آگے لے جا سکے ملکی نظام حکومت، قانون کی حکمرانی معاشرے میں پھیلی ہوئی بد عنوانیوں کی داستانیں خود گواہوں کی قطار میں کھڑی ہونے کو بیتاب نظر آتی ہیں۔ قوم کو صحیح قیادت کا نہ ملنا کسی المیے سے کم نہیں جبکہ تاریخ کا یہ عجیب جبر ہے کہ بانی پاکستان مرحوم محمد علی جناح ؒ نے جن رہنمااصولوں کا حوالہ دیا تھا اور اپنی تقاریر میں جن دو تباہ کن چیزوں سے اجتناب کی تلقین کی تھی وہ اقربہ پروری اور بدعنوانی کا زہر تھا ۔بابائے قوم کی مستقبل بینی دیکھئے کہ ابھی مملکت خداد ایک نو زائیدہ ریاست کے طور پر پیروں پر کھڑے ہونے کی تیاری کر رہی تھی کہ اسے خبردار کیا کہ کرپشن اور مامے چاچے،بھانجے
بھتیجے کی سفارشوں سے گریز حکومت اور معاشرتی نظام کے استحکام کی کامیاب کنجی ہے بدقسمتی سے قائد اعظم ؒ کا وصال ہوا ادھر سیاسی تاریخ کا جمہوری سفر الٹا شروع ہوگیا اور پھر کرپشن محلاتی سازشیں اورنام نہاد جمہور یت کی کہانیاں قوم کا مقدر بن گئیں۔قوم رہزن و رہبر کے د رمیان فرق کی صلاحیت سے ہی محروم ہوگئی سیاست آمریت و جمہوریت کا مذاق بنی رہی جبکہ ریاستی تشکیل کن جمہوری و آئینی بنیادوں پر ہونی چاہیے تھی اس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوسکا یہ فکری انتشار اور قومی شناخت کا وہی مسئلہ ہے جس کی طرف ہمار ا دانشور طبقہ اب کھل کر بولنے لگا ہے کہ شاید دنیا میں کچھ ہی ممالک ہوں جنہیں اتنے وسائل ملے ہوں عدلیہ ہو یا سیاسی پلیٹ فارم ملک کے لیے ہم نے ہی سب کچھ کرنا ہے دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہے کہ اگر ہم اپنے ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہیں تو باقی انگلیاں ہماری طرف اٹھتی ہیں ۔پاکستان کو اللہ تعالی نے بے شمار و سائل سے مالا مال کر رکھا ہے لیکن بحیثیت قوم ہم نے آج تک اس ملک کو ایسی قیادت نہیں دی جو ہمیں متحد کرسکے دوسروں پر تنقید ہمارا قو می کلچر بن چکا ہے دوسروں پر تنقید کرنے والے اپنے اوپر بھی نظر ڈالیں یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ گزشتہ صدی کے اوائل میں بر صغیر کے مسلمان نہ صرف انگریزوں اور ہندوؤں کی امتیازی پالیسیوں اورنفرت کا شکار تھے بلکہ ان میں اتحاد و اتفاق کی بھی بے حد کمی تھی یہی وجہ ہے کہ انہیں نہ صرف سماجی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا بلکہ سیاسی حوالوں سے بھی صورتحال ان کے لیے قطعاً اطمینان بخش نہ تھی قائدا عظم محمد علی جناح ؒ نے اس ہجوم کو ایک قو م بنادیا جس کے بعد قیام پاکستان کا معجزہ رونما ہوا لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو ویسی لیڈر شپ نہیں ملی جو اسے بکھرنے اور پھر سے ہجوم بننے سے بچاتی نااہل سیاسی قیادت نے ملک و قوم کے سیاسی و معاشی معاملات پر منفی اثرات مرتب کیے ۔جبکہ رہی سہی کسر باربار نافذ ہوجانے والے مارشل لاؤں اور جمہور یت کے تسلسل میں متعدد بار تعطل نے پور ی کردی مجموعی طور پر ہمیں اب تک کوئی ایسی قیادت میسر نہ آسکی جو قوم کی مزید تربیت کرتی اسے مزید متحد کرتی نتیجہ یہ نکلا کہ قوم پھر سے ہجوم میں تبدیل ہوگئی ۔آج اگر عوام کو کوئی درد دل رکھنے ولا محب وطن رہنما مل جائے تو یہ ہجوم ایک بار پھر قوم میں بدل سکتا ہے اور کارہائے نمایاں سر انجام دے سکتا ہے اس طرح اس ملک کیلئے ہر شعبے میں ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں لیکن
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست اس قدر غالب آچکی ہے کہ باقی معاملات کہیں پس پشت چلے گئے ہیں۔ ملکی خوشحالی کے لیے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جب تک سسٹم میں تبدیلی لاکرعوامی مسائل حل نہ کیے جائیں ملک ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتا حکمران بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے نعرے لگا کر تبدیلی اور عوامی خوشحالی کے دعوے کررہے ہیں لیکن صورت حال یہ ہے کہ عوام ابھی تک زندگی کے بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں عوام حکومت کو ٹیکس اس امید پر دیتے ہیں کہ انکے بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے لیکن حکمران عوام کو حالات کے رحم و کر م پر چھوڑ کر ٹیکس بڑھانے کی نویدسناتے تھکتے نہیں جب تک یہ ٹیکس عوام کی زندگیوں میں تبدیلی نہیں لاتے تب تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ملک میں گڈگورننس موجود ہے دوسری جانب کشکول
توڑنے کے دعوے دھرے کے دھر ے رہ گئے اور عالمی مالیاتی اداروں سے بڑے پیمانے پر قرضے لیے جارہے ہیں حکمران گڈ گورننس کے دعوے کرتے تھکتے نہیں مگر نہ تو پولیس کے نظام میں تبدیلی لائی جا سکی اور نہ سرکاری اداروں کی کار کردگی بہتر بنائی گئی سرکاری اداروں کا یہ عالم ہے کہ عوام کے جائز کام بھی سالہا سال تک التوا کا شکار رہتے ہیں اور جب تک رشوت نہ دی جائے بات آگے نہیں بڑھتی کرپشن کایہ عالم ہے کہ سرکاری خزانے کو بے درد ی سے کرپشن کی نذر کیا جارہا ہے اور ان لوگوں کو کبھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا ۔ہر لیڈر اپنی سیاسی جماعت اور سیاسی ضرورتوں کی طرف دیکھتا ہے اسے قوم اور ملک کی کوئی فکر نہیں ہوتی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ وہ محب وطن نہیں یا ملک اور قوم کی ترقی اور فلاح بہبود نہیں چاہتے لیکن سیاسی مصلحتیں ان کا راستہ ضرور روکتی ہیں اور پھر اپناپنااپنا راگ الاپنے والا منظر نظر آنے لگتا ہے اور ملک یا قوم کے اجتماعی مفادات ذاتی ، نجی اور انفرادی مفادات کے ڈھیر میں کہیں نیچے دب جاتے ہیں ۔اس طرح ہماری سیاسی جماعتیں مزید سماجی تقسیم کا باعث بنتی ہیں اب تو صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جو سیاسی جماعتیں کسی زمانے میں ملکی سطح کی سیاست کرتی تھیں او ر قومی جماعتیں کہلاتی تھیں اب صوبوں تک محدود ہوکر رہ گئیں ہیں وہ صوبائی حکومتیں بناتی ہیں اور اپنا اقتدار وہیں برقرا ر رکھنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کرتی ہیں ۔ڈیمو کریٹک میڈیا فورم پاکستان جو ارض وطن کے مایہ ناز سنئیر صحافیوں پر مشتمل ایک منفرد وژن رکھنے والا فورم ہے بحمد اللہ راقم کو اسکا بانی ہونے کے ساتھ ساتھ چیف کوارڈینٹر کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں ہیں ہم نے الحمد للہ قوم کو پانی کی اہمیت کے حوالے سے ڈیمز کی افادیت سے خبر دار کرنے کیلئے یہ نعرہ تشکیل دیا ہے کہ ڈیم دو ۔۔ ووٹ لو۔۔ ہماری کوشش ہے کہ جملہ سیاسی جماعتوں کو اس طرف لایا جا سکے کہ وہ اپنے منشور میں پانی کی حفاظت اور ڈیمز کی افادیت کا نہ صرف پیرا گراف شامل کریں بلکہ جس بھی سیاسی جماعت کو مستقبل میں اقتدار ملے وہ ترجیحی بنیادوں پر ڈیمز کے حوالے سے عملی پلان دے تاکہ قوم کو اضطراب کی حالت سے چھٹکارا دلانے کا ساماں ہو سکے کیونکہ تبدیلی اور عوامی خوشحالی کے دعوے کرنے والوں سے تو تاحال کچھ نہ ہو سکا۔

مزیدخبریں