ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے
13 جون 2018 2018-06-13

14جون خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن سائنس دان Karl Landsteiner کے جنم دن کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ Karl Landsteiner جون 14,1868 کو آسٹریا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ویانا سے حاصل کی، میڈیسن کی تعلیم یونیورسٹی آف ویانا سے حاصل کی۔ 1891ء میں تھیسز مکمل کیا اور دور طالب علمی میں ہی خوارک کے خون پر اثرات اور خون کی بناوٹ کے حوالے سے ایک مضمون لکھا جومقبول ہو گیا۔ 1883ء سے 1891ء تک کیمسٹری کی تعلیم حاصل کی اور اسی دوران اپنے پروفیسرز کی مدد سے بہت سے آرٹیکل اور کتابیں لکھیں۔ 1897ء سے 1908ء تک یونیورسٹی آف ویانا میں اسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کیا۔ اس دوران مصلیات، جرثومیات، سمیات اور مرضیات پر پچھتر پیپر شائع کیے. ان دس سالوں میں تین ہزار چھ سو پوسٹ مارٹم کیے۔ 1908ء سے 1920ء تک پوسٹ مارٹم کے پروفیسر کے طور پر کام کیا۔سن 1900ء میں Karl Landsteiner نے خون کے تین گروپ

اے، بی اور او دریافت کیے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک جیسے بلڈ گروپ کو آپس میں ملانے سے بلڈ سیل تباہ نہیں ہوتے بلکہ مختلف بلڈ گروپس کو آپس میں ملانے سے خون کے خلیے تباہ ہو جاتے ہیں۔ Karl کی اس تھیوری کی بنا پر ایک ہی گروپ کے خون کو ملانے کا تجربہ 1907ء میں نیویارک کے ہسپتال میں کیا گیا۔ تجربہ کامیاب ہوا اور Karl ایک سائنس دان سے ایک محسن انسانیت بن گیا۔ اس ہی کی تھیوری کی وجہ سے آج کی جدید سائنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اے بی گروپ کے انسانوں کو کسی بھی گروپ کا خون دیا جا سکتا ہے اور او نیگیٹو گروپ کے حامل افراد کسی بھی انسان کو خون دے سکتے ہیں۔ Karl کی ان کامیابیوں کے اعتراف پر انھیں 1930ء میں نوبل انعام دیا گیا اور یہ 26 جون 1943ء کو پچھتر سال کی عمر میں امریکہ کی ریاست نیویارک میں انتقال کر گئے۔ آج پوری دنیا اس عظیم سائینس دان کے یوم پیدائش کو خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے۔یہ Karl Landsteiner کی زندگی کی مختصر سی کہانی ہے۔Karl Landsteiner دنیا سے چلے گئے لیکن اپنی پچھتر سالہ زندگی میں انسانیت کے لیے وہ کام کر گئے جو شاید آنے والے پچھتر ہزار سال تک یاد رکھا جائے گا اور بنی نوع انسان چاہتے ہوئے بھی ان کے کام کا بدلہ نہیں چکا سکے گی۔

Karl Landsteiner کا انتقال تو 1939ء میں ہو گیا لیکن اقوام متحدہ نے خون کا عطیہ دینے والوں کا دن منانے کا آغاز 2004ء سے کیا۔ لیکن خیر۔ دیر آئے درست آئے۔ اس دن کو منانے کا مقصد محفوظ خون اوراس کی مختلف پراڈکٹس کے متعلق آگاہی دینا اور انسانیت کی بھلائی اور لوگوں کی مدد کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پرخون عطیہ کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن آفیشل طور پر آٹھ گلوبل پبلک ہیلتھ کمپین کی تشہیر کر رہا ہے جن میں ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے بھی شامل ہے۔عطیہ کیے گئے خون کی بدولت ہر سال لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔زندگی اور موت کی کیفیت میں مبتلا مریضوں کے لیے خون کی منتقلی کے عمل نے جینے ایک نئی امید پیدا کی ہے اور زندگی سے مایوس مریض خون کی منتقلی کے بعد پہلے سے زیادہ صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔لیکن ابھی بھی دنیا کے بہت سے ممالک میں صحت مند اور محفوظ خون کی شدید کمی ہے اور ضرورت کے وقت محفوظ خون کا انتظام کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

آج کے دن کے موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کی جانب سے پوری دنیا کے لوگوں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو آگاہی دی جاتی ہے کہ رضاکارانہ طور پر باقاعدگی سے خون عطیہ کرنا کس طرح لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 73 ممالک مفت خون کی فراہمی کی سہولت سے محروم ہیں۔ لوگ ضرورت پڑنے پر خون خریدتے ہیں یا رشتے داروں کی طرف رجوع کرتے ہیں جو کہ ایک المیہ ہے جبکہ 60 ممالک ایسے ہیں جہاں % 99۔100 خون کی ملکی ضرورت رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والوں سے پوری کی جارہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہر ایک ہزار افراد میں خون کے عطیات دینے والوں کی تعدادآمدنی کے لحاظ سے مختلف ہے۔ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ یہ تعداد 32.1 عطیات ہے۔ درمیانی درجے کے زیادہ آمدن والے ممالک میں یہ تعداد 14.9 عطیات ہے۔درمیانے درجے کے کم آمدن والے ممالک میں یہ تعداد 7.8 عطیات ہے اور کم آمدن والے ممالک میں یہ تعداد 4.6 عطیات ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے حدف مقرر کیا ہے کہ 2020ء تک دنیا کے تمام ممالک اپنے خون کی ضرورت کا %100 رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے والوں سے حاصل کر سکیں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر سال کی بلڈ ڈونر ڈے کی اشتہاری مہم کو ایک نیا نام دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 2012ء میں اشتہاری مہم کا سلوگن تھا کہ ‘‘ہر خون کا عطیہ کرنے والا ہیرو ہے’’۔2013ء میں سلوگن تھا‘‘ زندگی کا تحفہ دیں،خون دیں’’۔ 2014ء کا سلوگن تھا ‘‘ماوں کو بچانے کے لیے خون دیں’’۔ 2015ء کا سلوگن تھا’’ میری زندگی بچانے کا شکریہ’’۔ 2016ء کا سلوگن تھا’’ خون ہم سب کو جوڑتا ہے’’۔ 2017ء کا سلوگن تھا خون دیں،ابھی دیں اور اکثر دیں’’۔آج 14 جون 2018ء کو ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے یونان کے شہر ایتھنز میں منایا جا رہا ہے۔ اور اس کی کمپین کا سلوگن ہے’’ کسی کے لیے موجود رہیں، خون دیں، زندگی کو شئر کریں’’۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ان کاوشوں کی بدولت سال 2008ء سے 2013ء میں رضاکارانہ طور پر مفت خون دینے والے لوگوں کی تعداد میں ایک کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ جنوب مشرق ایشا( % 75)اور افریقہ37%))ممالک میں ہوا۔ 2013ء کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کو رپورٹ کرنے والے% 68 ممالک نیشنل بلڈ پالیسی بنا چکے ہیں۔

% 58 ممالک میں خون کی منتقلی اور صحت کے حوالے باقاعدہ طور پر قانون بنا دیا گیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کو رپورٹ کرنے والے 176 ممالک میں تیرہ ہزار بلڈ سنٹر قائم کیے جا چکے ہیں۔ جو کہ سالانہ ایک کروڑسے زائد بلڈ ڈونیشن اکٹھا کرتے ہیں۔اوپر دیے گئے اعدادوشمار کے پیش نظر ہمیں اقوام متحدہ اور ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن کے کام کو بحر حال سراہنا ہو گا کیونکہ جو کام یہ کر رہے ہیں وہ یقیناًمسیحاوں کا کام ہے اور ہم دل کی گہرائیوں سے ان کے مشکور ہیں۔

پاکستان میں خون کی کمی کے حوالے سے کیا مسائل درپیش ہیں اور ان کا کیا حل ہے اس حوالے سے میں اپنے اگلے کالم میں تفصیل سے ذکر کروں گا۔


ای پیپر