Source : Yahoo

لاس اینجلس میں چینی طالبہ کا بہیمانہ قتل
13 جون 2018 (17:05) 2018-06-13

لاس اینجلس:ایک امریکی عدالت نے سڑک پر تو تکرار کے حادثے میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کی جانے والی ایک چینی لڑکی کے اہل خانہ کی طرف سے اس پلی معاہدے کو ختم کرنے کے بارے میں پیش کی جانے والی تحریک پر اعتراض کیا ہے جس کے تحت قاتلہ کے خلاف الزمات میں نرمی کی گئی ہے،خاندان کو قانونی معاونت فراہم کرنے والے ڈینلرل ڈینگ نے مریکوپا کاﺅنٹی میں ایری زونا کی سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد کہا کہ 19سالہ چینی مقتولہ کے والد جیانگ یو نے ہالی ڈیووس جس نے نہ صرف اس کی بیٹی کو بلکہ تین بچوں سمیت دوسروں کو بھی زخمی کیا۔

استغثا نے ڈیووس کے خلاف 14مجرمانہ دفعات کے تحت الزامات عائد کرنے کی استداعا کی ہے۔فروری 2016میں اس نے ابتدائی سماعت میں تمام الزمات کی صحت جرم سے انکار کر دیا اور پلی معاہدہ طے کیا،پلی معاہدے کے تحت 3سالہ ڈیووس کو 25سال قید اور 250000جرمانہ ہو سکتا ہے،گذشتہ روز سماعت کے دوران جیانگ کے اہل خانہ نے جذباتی اپیل کی جیانگ کا والد غصے میں آگیا اور ڈیووس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چیخ کر کہا کہ تم نے میری اکلولتی بیٹی کو بیمانہ طور پر قتل کیا ہے تم کتنی ظالم ہو۔


ای پیپر