Source : Yahoo

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو ارسال
13 جون 2018 (15:45)

اسلام آباد:وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزیراعظم کے نوٹس پر رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم ہائوس بھجوادی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کا نام ای سی ایل کی بلیک لسٹ میں شامل ہو انہیں ون ٹائم پرمیشن بھی نہیں ملتی تو پھر زلفی بخاری کو کس طرح پرمیشن دی گئی، ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے وزارت داخلہ کو تین سے چار روز درکار ہوتے ہیں لیکن زلفی بخاری کو صرف 26 منٹ میں ہی اجازت دے دی گئی۔

بدھ کو بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے سے متعلق وزیراعظم کے نوٹس پر وزارت داخلہ میں اجلاس ہوا جس میں اس معاملے کی رپورٹ تیار کی گئی جو وزیراعظم ہا ﺅ س کو بھی بھجوادی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کا نام ای سی ایل کی بلیک لسٹ میں شامل ہو انہیں ون ٹائم پرمیشن بھی نہیں ملتی تو پھر زلفی بخاری کو کس طرح پرمیشن دی گئی۔ بلیک لسٹ میں شامل افراد کا نام وزارت داخلہ اس متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر نہیں نکالتی جس نے اس شخص کا نام شامل کرایا ہو جب کہ ایسے شخص کو متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر ون ٹائم پرمیشن بھی نہیں دی جاسکتی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیب نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ کرنے کا کہا تھا لیکن ان کا نام نکالتے وقت نیب کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور انہیں براہ راست بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ای سی ایل کی بلیک لسٹ سے نام نکالنے کےلیے وزارت داخلہ کو تین سے چار روز درکار ہوتے ہیں لیکن زلفی بخاری کو صرف 26 منٹ میں ہی اجازت دے دی گئی۔


ای پیپر