جناب چیف جسٹس ، آپ کاقانون ،اورقانونِ قدرت
13 جون 2018

میں نے ایک کالم ”دائمی دنیا“ کے امیرترین فردہم اور آپ بھی بن سکتے ہیں لکھا تھا یہ گزارش میں نے اس لیے کی تھی، کہ سیدالبشر کی اتباع کرکے اور ان کی پیروی شریعت مطہرہ پہ عمل کرکے ، اور خاص طورپر ان کے روز وشب گزارنے کے طریق کو صدقِ دل سے اپنانے کی وجہ سے ہمیں ہرقدم پر سونوافل کا ثواب ملتا ہے ان کا، ایساانداز عوام بھی اپنا سکتے ہیں، اور حکمران بھی۔
حفیظ تائب ؒ فرماتے ہیں کہ
مستقل اس میں رہے حب نبی کا موسم
شاخ دوشاخ کھلیں نزہت کردار کے پھول
عدل واحسان سے مرتب ہو نظام ہستی!
پیروی ختم رُسل کی ہو ہمارا معمول !
زندگی تو ہرانسان گزارہی دیتا ہے، امیربھی اور فقیر بھی، مگر اگر اسے انداز مصطفوی کے مطابق ڈھال کر گزاردیں، تو ثواب کے حق دار بن سکتے ہیں۔
قارئین ، حضور ﷺکافرمان ہے، کہ اس سے بڑا بخیل کوئی نہیں کہ جب میرانام آئے، تو وہ درود نہ پڑھے، مگر بڑے بڑے، سید زادے اورپیرزادے، بڑے بڑے عالم فاضل اس سعادت سے محروم ہیں، اپنی تقریر کے دوران کچھ دیر تو وہ اس حکم نبی کی پابندی کرتے ہیں، مگر مجھے انتہائی دکھ اور قلق ہوتا ہے، کہ جب وہ آپﷺ کا نام آنے پر درود نہیں پڑھتے، بلکہ صرف نام لیتے ہیں، اور اسی طرح حضرت کرم اللہ وجہہ‘ ، اور دیگر خلفاءکا بھی بس نام لیتے ہیں معاذ اللہ، جیسے وہ ان کے ہم مرتب ہوں۔
ایک اور بھی ہم غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں، کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں زبان زدِ عام ہے ، کہ اللہ تو بس بخشش کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں، کہ ایسا کہنا مناسب نہیں، اور اس بات میں ”شرک کا شائبہ“ شامل ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ تو خود فرماتا ہے، کہ انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب بخشا جائے گا ، جب یہ الفاظ حضور نے صحابہ کرام ؓکو بیان فرمائے، تو انہوں نے آپ ﷺ سے کہا، کہ آقا آپ بھی، تو آپ نے جواب دیا، کہ جی، میں بھی۔
حضورﷺ زبان سے ایک لفظ بھی ”اذن الٰہی“ کے بغیر ادا نہ فرماتے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے منہ میں اللہ تعالیٰ کی زبان تھی۔ ارشاد الٰہی ہے کہ مسلمان حضور کی پیروی کریں، اور ان کا حکم بجالائیں، تو میری رضا اسی میں ہے، اور پھر وہ اطاعت نبی کے بعد مجھ تک پہنچ سکتے ہیں، حتیٰ کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ زائرین کعبہ، اگر پہلے مدینہ شریف جائیں اور حضورﷺ ان کی سفارش کریں، تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی سفارش قبول فرمالے گا۔
اس لیے بہانے کا لفظ استعمال کرنا، تلخ اور قدرے ترش ہے، کیونکہ بہانہ بنانا اور بہانے باز کا لفظی ترجمہ، منفی صورت اختیار کرجاتا ہے ، کیا ہمیں یعنی اشرف المخلوقات کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خالق کو ایسے القاب یا نام سے یاد کریں، کیونکہ بہانہ کا مطلب ہے، ٹال مٹول ، عذرکرنا ، حیلہ، دھوکا ،فریب ، ظاہرداری، وغیرہ میرے نزدیک رب کے بارے میں یہ لفظ بولنا قابل اجتناب ہے، اس کے متبادل لفظ اختیار اور بخش ہار ہے، کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ جس کو مرضی بخش دے کیونکہ اس کے پاس بخشنے کے کئی طریقے ہیں آپ کی کسی عبادت، یا ریاضت میں ریاکاری ، جائز نہیں ، اور نہ ہی اس کی اجازت قران وحدیث میں دی گئی ہے، مگر چونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ، حضورﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ لہٰذا درودبھیجنا ہی سب سے زیادہ باعث نجات ہے، اور حتیٰ کہ درود واحد عبادت ہے کہ جس میں ریاکاری ، یعنی دکھاوا، کی اجازت ہے اور یہ بھی واحد عبادت ہے ، کہ جو وضو، اور بغیر وضو کے بھی ادا کی جاسکتی ہے، جیسا کہ میں ہمیشہ عرض کرتا ہوں، کہ ایک مسلمان کی زندگانی کا حاصل یہ ہے کہ اگر اس کا دل عبادت کو کرے، تو وہ کثرت سے اضافی نوافل پڑھے اور وظائف پڑھنے کو دل کرے، تو درود پاک ، پاک ہستی پہ کثرت سے بھیجے، اور کثرت کی کم سے کم تعداد تین سو ہے یعنی جو مسلمان دن میں تین سومرتبہ حضورﷺ پہ درود پاک بھیجتا ہے ، وہ یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں کثرت سے درود پڑھتا ہوں۔
ناظرین ، درود صرف دوردابراہیمی نہیں، بلکہ آپ پہ کوئی بھی درود بھیجا جاسکتا ہے ،مثال کے طورپر حضورﷺ نے خود ایک درود شریف مسلمانوں کو پڑھنے کا حکم دیا ہے، جزی اللہ عنا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم ماھواھلہ اس کا مطلب ہے ، اے اللہ حضرت محمد ﷺ کو جزادے، ان کی اہلیت کے مطابق ، اور ان کی اہلیت کا کوئی تعین نہیں صرف ایک دفعہ پڑھنے کا ثواب یہ ہے کہ 70فرشتے مسلسل رات دن، ساڑھے تین سال تک اس کا ثواب لکھتے رہتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم بھی درود ہے، اورمحمد نبی الامی کہنا بھی درود شریف ہے۔ حدیث بخاری ومسلم میں کہا گیا ہے کہ کسی نے نیکی کی نیت کی، لیکن نیکی کا وقوع نہیں ہوا تب بھی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور یہ کہ جس مسلمان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اتنی محبت ہو، ان دونوں کے مقابلے میں کسی اور سے نہ ہو، اور جو شخص کسی اور سے محبت محض اللہ ہی کے لیے کرے، تو یہ ایمان کی نشانی ہے۔
اسی لیے میں، ملتمس ہوں کہ اپنے بچوں ، بلکہ بچوں سے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ کے دوست ہیں، تو نیت یہ کرلی جائے، کہ ہمارے آقا نامدار ﷺ بھی اپنے، نواسوں، اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ الزہراؓ ، اور اپنے معصوم بیٹے سے بے انتہا پیار کرتے تھے، اسی لیے میں بچوں سے پیار کررہا ہوں، تو ثواب کے حق دار ہم بھی بن جاتے ہیں، آپ کو خوشبو، اور نماز بھی بے حد پسند تھی اور عورت کی بھی آپ نے تعریف کی ہے، عورت سے مراد، اپنی بیوی ہے، کہ جس طرح آپ گھر کے کام کاج کرلیتے، کپڑوں میں پیوند لگالیتے، نعلین مبارک ٹھیک کرلیتے، حتیٰ کہ گھر میں جھاڑو بھی لگا لیتے، ہم میں سے ثواب ، اور اتباع رسول کی خاطر کتنے ایسے کام کرلیتے ہیں ؟ حضرت بی بی عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور نے فرمایا تھا کہ سرکہ بھی کیا اچھا سالن ہے، ہم اسے بھی صرف Chinese foodمیں استعمال کرتے ہیں یعنی کھانے کا یہ طریقہ ”سالن“ غیرمسلموں نے تو اپنا لیا، مگر ہمیں اپنے کھانوں میں استعمال کرنے میں ویسی رغبت نہیں حالانکہ یہ بلغم، صفراکا قاتل ہے، کھانا ہضم کرنے میں مفید ہے۔ بھوک اچھی لگاتا ہے، پیٹ کے کیڑوں کا قاتل ہے، ہروقت میسر ہوتا ہے، حضور نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے انبیائؑ کا بھی یہ سالن رہا ہے۔ اور ایک خاص بات، حضورﷺ پرندوں کا سالن بھی بہت شوق سے نوش فرماتے تھے، آپ ﷺ نے مرغی کے گوشت کو بھی پسند فرمایا ہے، اور ہمیں بتایا کہ ہضم جلدی ہوتی ہے، دماغ اور جملہ اعضائے رئیسہ کو قوت دیتی ہے آواز بھی صاف کرتی ہے۔ رنگ بھی خوشنما کرتی ہے، عقل کو قوت دیتی ہے، تازہ وتر بھی ہوتی ہے، اور گرم بھی ہوتی ہے۔ مگر ایک خاص بات بھی انہوں نے ارشاد فرمائی ہے، کہ مرغی وہ مکروہ ہوجاتی ہے علماءکے مطابق جس کی (Feed)ٹھیک نہ ہو، حضور بھوکے پیاسے مسلمان کو دیکھ کر آبدیدہ ہوجاتے تھے، آپ کے وصال کے بعد آپ کے تربیت یافتہ خلیفے، یعنی حاکم راتوں کو مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت کرتے، اور یتیموں ،بیواﺅں کے گھر میں اپنی پیٹھ پہ لاد کر راشن پہنچاتے، ان کی وفات کے بعد غالباً ڈیڑھ سال بعد اللہ نے کسی مستند بابے اور بزرگ کو دکھایا کہ وہ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھ رہے تھے، اور فرمایا کہ میں ابھی حساب کتاب سے فارغ ہوا ہوں، مگر چیف جسٹس صاحب، یہاں تو اقتدار کی جنگ میں کاغذات جمع کروانے والوں کا اس قدررش ہے کہ لوگوں کو پاﺅں تلے کچلے جانے کا خدشہ ہے۔
آپ کا شغف ، پرندوں اور مرغی کھانے کا تو چیف جسٹس صاحب نے سن لیا، قوم پہ ان کا یہ بھی احسان ہے، کہ عوام کو 100روپے میں سے اڑتیس روپے ٹیکس کے انہوں نے بچا دیئے ہیں، مجھے کل پتہ چلا کہ چینلز کے رپورٹر کو تقریباً بارہ ہزار مہینہ تنخواہ ملتی ہے اور وہ بھی ضروری نہیں کہ ہرماہ باقاعدگی سے ملے، جبکہ حامد میر صاحب کی تنخواہ جیسا کہ آپ نے بتایا ہے باون لاکھ ماہانہ ہے۔ مزدور حضور کے فرمان کے مطابق بچوں کو پرندے کھلا سکتا ہے؟ یعنی تیتر، بٹیر، مرغی سرخاب وغیرہ، کل جو بظاہر عبوری حکومت نے یکدم تیل کی چار پانچ روپے قیمت بڑھائی ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا۔ 100 روپے پر آپ نے ایکشن لے لیا جس پر ہم آپ کے شکرگزار ہیں ، مگر آپ پانچ نسلوں کا رزق کھانے کو چھوڑ دیں۔ اس نسل کو کھانے کو دینے کے لیے پیٹرول کی قیمت پہ ازخود نوٹس لیں، سابق چیف جسٹس ، موجودہ چیف جسٹس ، اور مستقبل کے چیف جسٹس کا فرق صاف نظر آرہا ہے، سابق کے سرعام بال نوچے گئے، بوٹوں سے ٹھڈے مارے گئے، کیا ملک میں تبدیلی قانون کا وقت آگیا ہے۔ ؟
ہم حضور کے شکرگزار ہیں کہ جن کی بدولت ہماری کرتوت کی بنا پر اللہ نے نہ ہماری جون بدلی نہ قوم بدلی مگر قانون قدرت اٹل ہے جبکہ آپ کے قانون میں اپیل بھی ہے اور دلیل بھی ریٹائرمنٹ کے بعد دلوں میں زندہ رہنا ہے تو تیل کی قیمت پر کچھ کریں۔


ای پیپر