بھارت کی آبی دہشتگردی اور پاکستان؟
13 جولائی 2020 (23:16) 2020-07-13

بڑی خوش آئند بات ہے کہ پچھلے ماہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے استفسار پر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے حوالے وکیل واپڈا نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ بھاشا ڈیم جولائی 2028ء میں مکمل ہو جائیگا اور مہمند ڈیم کا پہلا یونٹ 2024ء میں آپریشنل ہو جائیگا۔ملک میں پانی کی قلت کی موجودہ صورتحال کا اندازہ آپ اس افسوسناک امر سے لگا سکتے ہیںکہ پاکستان میں تھر‘چولستان اور صوبہ بلوچستان کی آنکھیں پانی کی عدم دستیابی کے باعث نمناک ہیں۔پانی زندگی کی علامت ہے انسان تو اپنی بقاء کیلئے سب کچھ لٹا کر بھی جنگ لڑتا ہے لیکن پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیحات اور سیاسی جماعتوں کے منشور میں یہ بات سرے سے ہی موجود نہیں کہ آبی ذخائر کیلئے ڈیمز تعمیر کئے جائیں۔اس وقت چین23842امریکہ9265بھارت5102اور جاپان3116ڈیمز تعمیر کر چکا ہے جب کہ بد قسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر ابتک ہم صرف155ڈیمز بنا سکے۔موجودہ حالات میں پاکستان کو پانی کی قلت کیساتھ ساتھ ازلی دشمن بھارت کی جانب سے مسلط کی جانیوالی آبی جارحیت کا بھی سامنا ہے بھارت کو بخوبی علم ہے کہ وہ پاک فوج اور جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا لیکن اس نے بڑی چالاکی اور مکاری کیساتھ اس سرزمیں پر آبی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا جس سے اسے نہ بائیس کرور عوام اور نہ ہی پاک فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لئے محتاج کر دینگے اور اس نے اس آبی جنگ کا آغاز کر دیا اس وقت بھارت دریائے چناب پر چھوٹے بڑے گیارہ ڈیم مکمل کر چکا ہے دریائے جہلم پر باون اور دریائے چناب پر مزید چوبیس ڈیمز کی تعمیر جاری ہے ۔اسی طرح مستقبل میں 190ڈیمز کی فزیبلٹی رپورٹ لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسیس میں ہے۔یہ سب کچھ ہمارے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن کتنی افسوس ناک صورتحال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اس اہم مسئلہ پر خاموش‘میڈیا ہاوسز اور دانشور طبقہ چپ سادھے بیٹھا ہے۔پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے جو پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کو متنازع بنانے کی باقاعدہ مہم کا حصہ ہے اس سے یہ اخذ کرنا دشوار نہیں ہے کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اس طبقہ کو اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نواز رہا ہے تاکہ پاکستان کی زراعت تباہ اور معشیت کا پہیہ جام ہو کر رہ جائے ۔ بھارت اور ملک دشمن عناصر پاکستان کی عوام کو ریت کے ڈھیر پر کھڑا کر کے قحط سے دوچار کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔عالمی بنک نے ناکافی شواہد کی بنا پر کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات مسترد کردی ہیں اور اس طرح پاکستان کو سفارتی سطح پر شکست کی ہزمیت کا سامنا

کرنا پڑا2011ء کے بعد یہ کیس عالمی عدالت میں دو سال تک زیر سماعت رہا عالمی عدالت نے نہ صرف پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دئیے بلکہ بھارت کو پانی کا رخ موڑنے کی بھی اجازت دیدی تھی۔پاکستان کے سیاستدان طبقہ نے عوام کے ذہنوں کو اس حد تک اپنا اسیر بنا لیا کہ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تک سلب کر لی پاکستان میں موجود سیاسی خاندانوں نے کبھی اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے آج پاکستان کو پانی کی قلت کے بحران کا سامنا ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر آبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2025ء تک زیر زمیں پانی کی سطح کم ہو جائیگی اور اگر ہم نے ڈیمز تعمیر کرنے کیلئے سنجیدگی کیساتھ جنگی بنیادوں پر عمل نہ کیا تو پھر یہ دھرتی پانی کی عدم دستیابی پر اناج پیدا کر نا بند کر دیگی پاکستان میں جو قحط سالی جنم لے گی وہ بہت دردناک ہوگی۔پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ سفارتی سطح پر ایسے اقدامات کئے جائیں کہ بھارت کو ڈیم بنانے اور پاکستان کا پانی روکنے سے باز رکھا جائے۔پاکستان میں جتنا پیسہ نام نہاد اسکیموں پر خرچ کیا جاتا ہے اگر اس کا ایک چوتھائی حصہ ڈیمز کی تعمیر پر خرچ کیا جائے تو پاکستان میں زراعٹ کو فروغ ملے گا‘پانی کی کمی دور ہوگی‘توانائی بحران کا خاتمہ ہو گا‘صنعت کا پہیہ چلے گا ‘ برآمدات میں اضافہ ہو گااور ملک ترقی کریگا۔ بھارت پاکستان کو اس فائدے سے روکنے کیلئے آبی دہشتگردی پر اتر آیا ہے۔بلوچستان میں خشک سالی اور زیر زمیں پانی کی سطح گر جانے سے قلت آب کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیمز اور ری چارجنگ پوائنٹس نہ بنائے گئے تو بلوچستان صحرا میں تبدیل ہو جائیگااور ماہرین نے یہ کہہ کر مزید خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے کی وجہ سے زمین سالانہ دس سینٹی میڑ دھنس رہی ہے۔بلوچستان میں اس وقت جو پانی استعمال کیا جا رہا ہے وہ آئندہ آنیوالی نسل کے حصہ کاپانی ہے۔گذشتہ ایک دہائی سے زراعت اور آبی وسائل کی زبوں حالی پر دل خون کے آنسو روتا ہے بھارت دریائے سندھ پر چھوٹے بڑے بارہ ڈیم مکمل کر چکا ہے جس کی وجہ سے منگلا ڈیم اکتوبر2017ء سے خالی پڑا ہے اور تربیلا ڈیم بارش کے رحم و کرم پر ہے بھارت نے ستلج‘بیاس اور راوی کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کی وجہ سے چولستان کی تیس لاکھ ایکڑ اراضی بنجر ہو چکی ہے۔موجودہ حالات میں ہم ڈیمز تعمیر نہ کر کے ایسی صورتحال کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں جہاں انسانی حیات بھوک اور پیاس کے ہاتھوں منوں مٹی تلے دفن ہو جائیگی یا پھر ایٹم بم کی جنگ میں جان گنوا دے گی۔ اگر ہم نے ڈیم تعمیر کرنے کے سلسلے میں غفلت و لا پرواہی برتی تو آنیوالے عشرے بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ جنرل (ر) مشرف کی حکومت میں پیش کیا گیا تھاجو اب شمالی علاقوں گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر تعمیر ہورہاہے اس منصوبہ کا متعدد بار افتتاح ہونیکے باوجود فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ابھی تک ابتدائی مراحل میں تھا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس اہم مسئلے کو اجاگر کیا اور اس سلسلے میں فنڈ ریزنگ کیلئے اکائونٹ کا اجراء کیا گیا اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی عوام اور اورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی تھی کہ اس میں اپنے عطیات جمع کروائیں۔عوام کو بھی چاہیے کہ اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالیں۔دریائوں کی زندگی قائم رکھنے کیلئے ہمیں بھارت کی آبی دہشتگردی کے آگے بند باندھنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ریت کے ڈھیر پر کھڑے ہونے سے بہتر ہے کہ پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں اور عوام ذہنی اور قلبی اعتماد کیساتھ ڈیمز کی تعمیر کیلئے حکومت کا ساتھ دیں انسانی حقوق کی بحالی اور آبی ذخائر کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔خدا نخواستہ اگر دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بھی ناکامی کے باب میں بند ہو کر رہ گیا تو پھر جنوبی ایشیاء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی ملکیت اور تقسیم کا تنازع بھی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے جو کہ حکمران طبقہ سمیت ملک میں بسنے والے تمام طبقات کے لئے لمحہ فکریہ اور غوروفکر کا متقاضی ہے۔


ای پیپر