سیکٹرز ، سلیکٹڈ اور افیکٹڈ
13 جولائی 2020 (23:15) 2020-07-13

سلیکٹڈ کا مطلب تو ساری دنیا جان گئی ۔ سلیکٹرز جو سلیکٹ کرتے ہیں اور افیکٹد جو متاثر ہوتے ہیں (متاثرین)۔ دنیا کی جتنی بھی جمہوری سیاسی جماعتیں ہیں وہ انتخابات کے لیے اپنا امیدوار منتخب کروانے کے لیے امیدوار کی سلیکشن (چناؤ) کے وقت اس کی شخصیت کا بھرپور جائزہ لیتے ہیں گو کہ آج کی دنیا میں پیسے کی اہمیت، میڈیائی حربے کسی شخصیت کے تمام دیگر پہلوؤں سے بازی لے چکے ہیں۔ اگر شخصیت کا نفسیاتی ، اخلاقی اور معاشرتی تجزیہ کیے بغیر امیدوار کے طور پر چناؤ کر کے انتخابات میں اتارا جائے تو پھر کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کا شمار تو ہو سکتا ہے مگر نا اہل حکومت کے متاثرین کا شمار ممکن نہیں۔ ذمہ داری کے لیے کسی بھی شخص کا چناؤ بہت اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ انگریز نے ہندوستان میں ایک صدی سے زائد عرصہ حکومت کی چند ادارے جن میں فوج اور عدلیہ سرفہرست ہیں جن میں بھرتی کے وقت میرٹ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا البتہ ہندوستان کی عوام کی غلامی کی بیڑیاں مزید تنگ کرنے کے لیے انتظامیہ میں تحصیلدار ، تھانیدار اور اس قسم کے عہدے کے لیے چور دروازہ تو نہیں ایک گندی نالی کھولے رکھی۔ جس کے ذریعے بڑی پگڑیوں اور موچھوں کے تاؤ دینے والوں کی قیمت لگا کر ان کے خاندان کے لوگوں کو شامل کر لیا جاتا تاہم مقابلے کے امتحان میں بھی میرٹ پر سمجھوتا نہیں کیا جاتا تھا مگر اب وہ بھی ہوتا ہے۔ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں، بنگلے جو آج بھی موجود ہیں یہ محض نو آبادیاتی کے زمانے میں محکوموں پر ہیبت طاری کرنے کے لیے تھا۔ کمشنر، ڈپٹی کمشنر پولیس کپتان کی کوٹھی میں باہر گیٹ سے برآمدے تک جاتے جاتے ہی مقامی سرداروں، چوہدریوں، خوانین، وڈیروں کا پتا پانی ہو جایا کرتا ہے جبکہ آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری، گورنر، وائرسرائے چیف جسٹس کے کروفر کا عالم تصور سے باہر تھا تا کہ ایسا سناٹا چھا جائے کہ محکوموں کے دلوں کی دھڑکن تک سنی جا سکے۔ آج حالات بدتر ہیں مگر تب انصاف پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔ ڈیڑھ سو سالوں میں کوئی ایک مقدمہ رپورٹ نہ ہو سکا جو دباؤ یا چمک کے تابع ہو مگر ہماری تاریخ ایسے فیصلہ جات سے بھری پڑی ہے جس نے

متعدد بار قوم کی گاڑی کھائی میں گرا دی۔ گورے نے نہری نظام، ریلوے ، عدلیہ، بیوروکریسی، فوج، بلدیاتی نظام، مالیاتی نظام، آئین اور قانون کے علاوہ اور بہت کچھ دیا۔کوئی بھی گورے کے قانون میں ردو بدل کی جرأت نہ کر سکا اگر کچھ کیا تو بدنیتی کے تابع صرف حکمران کی حاکمیت مضبوط اور طویل کرنے کے لیے، گورے فرعون کی ہر سطح پر کالے فرعون آ گئے۔ بیورو کریسی کی غلام گردشوں میں آج بھی لوگ پیٹ بھر کر سانس نہیں لے سکتے۔

ٹرمپ اور مودی کے سلیکٹرز بھی پچھتا رہے ہیں ان کو امریکہ اور انڈیا کا گوربا چوف کہا جا رہا ہے اور راہول نے مودی کو انڈیا کا عمران خان کہہ دیا انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار نظر انداز نہیں ہو سکتا کسی بھی ملک کی

سلامتی کی، ضمانت اس کی یہ ایجنسیاں ہی ہوتی ہیں۔ اس وقت امریکہ اور بھارت اگر ٹوٹنے سے بچ گئے تو یہ ان کی انٹیلیجنس کا کمال ہو گا ٹرمپ اور مودی کا نہیں۔

ہم بہت ظالم واقع ہوئے تاریخ لکھی ہوئی تاریخ کے ساتھ بھی کھلواڑ کر گئے آنکھوں دیکھا حال جب سپرد قلم کیا تو ضمیر سپرد خاک کر دیئے گئے۔ لعنت ہے اس شخص پر جو سچ جانتے ہوئے جھوٹ کو پروان چڑھائے اور جھوٹ پہچانتے ہوئے سچ کو کو دبائے صد افسوس کے یہ کارنامہ ہمارے ’’دانشوروں، علما اور مدبرین‘‘ نے کیا۔ کبھی زمانہ تھا امریکی ایجنٹ یا پھر غیر ملکی ایجنٹ ہونا گالی تھی مگر آج لوگ بہت نیچے کے لیول کے لوگوں سے تصویریں بنواتے ہیں۔ خفیہ والوں سے رابطہ کا طعنہ ملنے پر لوگ منہ چھپاتے پھرتے تھے جبکہ آج حسرت بنا ہوا ہے پوری دنیا میں جہاں بھی معاشروں ملکوں اور قوموں نے ترقی کی وہاں پر سلیکٹرز نے سلیکٹڈ کا بھرپور جائزہ لیا تا کہ جن لوگوں پر مسلط ہو وہ محفوط ہوں نہ کہ متاثرین۔

دنیا کی کوئی بھی سیاسی پارٹی، گورننگ باڈی جو بھی جس ملک میں حاکمیت کے لیے چنے جانے والے لوگوں کا چناؤ اور انتخاب میں اتارے جانے والے لوگوں کے لیے طریقہ کار وضع ہے ۔ اس کے مطابق امیدوار کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جاتا ہے ہمارے ہاں جو بھی نظام ہے اخلاقیات، فہم و ادراک، تعلیم دیگر تمام معاملات کے ساتھ نفسیات کو ضرور چیک کرنا چاہیے۔ سلیکشن میں کسی بھی مرحلے پر نفسیاتی اعتبار سے ایک معیار مقرر کرنا چاہیے۔ ہمارا مسئلہ محض معاشیات اور اخلاقیات نہیں اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ نفسیات کا بھی ہے۔

کرپشن اور مفت بھری میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ بلکہ مفت بھر ہڈ حرام ہوتا ہے اور قابل گرفت بھی نہیں۔ جو خود دستر خوان نہیں رکھتا اور دوسروں کے دستر خوان پر رہتا ہے دستر دخوان رکھنے والے اور کسی کے دسترخوان پر رہنے والے کی نفسیات ایک جیسی کبھی نہیں ہو سکتی۔ سیاسی حکومتوں میں سیاسی جماعتیں منشور دیتی ہیں حکومت میں آ کر شب خون نہیں مارتیں کہ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے 55 سال کر دی جائے۔ نوکری دینے کا وعدہ کر کے اسامیاں ختم کی جائیں گورنر ہاؤس کی دیوار پر ہتھوڑے مارنے سے بہتر تھا انگریز دور سے بیوروکریسی، ریلوے اور دیگر افسران کے قبضہ میں لاکھوں ایکڑ قیمتی زمین لے کر ان کو فلیٹ دیئے جاتے اور وہ جگہ فروخت کی جائے یا وعدہ کیے گئے گھروں کے لیے فلیٹس بنا دیئے جاتے کرپشن کو بڑھاوا کی بجائے کم کیا جاتا۔ آرڈیننس کی بجائے قانون سازی ہوتی، مخالفین پر الزامات کی بجائے عوام کی خدمت کی جاتی مگر یہ جمہوریت میں اہل حکومت کرتی ہے فاشزم میں منتقم المزاج حکومت نہیں کر سکتی۔

سلیکٹرز کو چاہے سیاسی پارٹی کی سنٹرل کمیٹی ہو، مجلس شوریٰ ہو، کوئی کونسل ہو یا کوئی ادارہ ہو سلیکشن کی ذمہ داری سلیکٹرز پر عائد ہوتی ہے اور اگر فیصلہ غلط ہو تو پھر لوگ افیکٹڈ ہوتے ہیں۔ یعنی متاثرین ہوتے ہیں جس کی براہ راست ذمہ داری سلیکٹرز پر ہوتی ہے چاہے وہ ووٹرز ہوں مگر اب پاکستان کے عوام افیکٹڈ ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت کی فلم کی آخری مراحل میں ہیں۔ لوگ ہال میں کرسیوں سے کھڑے ہو چکے ہیں بس نئی فلم والے مخصوص سنیما میں اپنی فلم چلا کر فلم ضائع نہیں کرنا چاہتے وہ پورے سرکٹ میں فلم چلانا چاہتے ہیں لہٰذا نئی فلم تک اشتہارات پر گزارا کرنا ہو گا جب حکمرانوں کی بات پر بھروسہ اور حکومت کی رٹ ختم ہو جائے اقتدار کا باقی رہنا گلے پڑے ڈھول سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتا اور عوام دربدر ہو جاتے ہیں۔ آج اگر اعلان ہو جائے کہ موجودہ حکمران ٹولہ چلا گیا کل ہی گلشن کا کاروبار حقیقی معاشی کاروبار میں بدل جائے گا۔ ہم اتنے قبضہ گروپ طبیعت واقعہ ہوئے کہ عوام کے شعور پر قبضہ کر کے یرغمال بنا لیا۔ اب ہر وہ ’’دانشور‘‘ اپنے آپ کو کوس رہا ہے جو موجودہ حکمرانوں کا مبلغ تھا۔


ای پیپر