اس نے زنجیر مرے پاؤں میں دہری کر دی
13 جولائی 2020 (23:14) 2020-07-13

دنیا میں عقل کسی کی میراث نہیں رہی اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی کو خاندانی زعم ہوا ہو کہ عقل صرف اس کے آباء و اجداد کا طرۂ امتیاز ہے۔ اس ملک میں نہ آصف زرداری کہہ سکتا ہے کہ انوں نے سیاسی شعور بھٹو خاندان سے مستعار لیا تھا اور اب برخوردار بلاول بھٹو زرداری کو منتقل کر دیا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف بھی نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے ’’عقل کل‘‘ میں سے تھوڑی سی عقل مریم نواز اور حمزہ شہباز کو دے دی ہے۔ رہی بات چوہدری برداران کی ، ان کے پاس بھی کوئی کلیہ اور قاعدہ نہیں جس کے تحت وہ چوہدری ظہور الٰہی سے لی ہوئی عقل مونس الٰہی میں منتقل کر سکیں اور عقل کو موروثی جراثیم کا درجہ دے سکیں۔ عقل، شعور، وجدان، ہدایات اس خالق کائنات کی دین ہے جس کو چاہے ، جس قدر چاہے نواز دے۔ ہوا یوں کہ ایک سنار اچانک دنیا فانی سے رخصت ہو گیا۔ اہل و عیال میں بچے ابھی چھوٹے تھے ۔ خاندان کے پاس پس انداز غم اور پس انداز موسم کے سوا کچھ نہ تھا۔ نوبت فاقوں تک آنے لگی۔ ایک دن سنار کی بیوہ نے اپنے بچے کو نولکھا ہار دے کر اپنے چچا کی دکان پر بھجا تا کہ فروخت کر کے گھر کے اخراجات پورے کر لیے جائیں۔ بچہ ہار لے کر چچا کے پاس گیا۔ چچا نے ہار دیکھا اور سے کہا! کہ اپنی امی سے کہنا کہ ابھی بازار میں مندی ہے۔ اس کے دام کم ملیں گے۔ جب بازار میں بہتری آئے گی تب فروخت کریں گے اور کل میرے پاس دکان پر آجائیو اور کام میں میرا ہاتھ بٹائیو۔ بچہ واپس گھر گیا اور اماں کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور اگلے روز چچا کے ساتھ دکان پر بیٹھنے لگا۔ بچہ قابل نکلا اور چند ہی سالوں میں زرگری کا سارے کا سارا کام سیکھ گیا۔ یہاں تک کہ دور دراز علاقوں اور شہروں سے لوگ سونے کی چھان بین کروانے کے لیے اس کے پاس آتے۔ حتیٰ کہ نامی گرامی ہیروں کے سوداگر اصلی اور نقلی ہیرے کی

پہچان کروانے اس کے پاس آنے لگے۔

ایک دن چچا اور بھتیجا خوش گپیوں میں مصروف تھے تو چچا کو اس نولکھے ہار کا خیال آیا۔ اس نے بھتیجے کو گھر بھیجا کہ وہ ہار لے آئے اور ماں سے بولے کہ اب بازار بہت تیز ہے۔ بھتیجا ہار لے کر آیا تو چچا نے کہا کہ اس کی پہچان کرو۔ بھتیجا ہار دیکھتے ہی چلا اٹھا ارے چچا یہ تو نقلی ہے؟ چچا نے کہا مجھے اس وقت ہی پتہ تھا کہ یہ نقلی ہے۔ میں نے اس لیے نہیں بتایا کہ آپ لوگ یہ گمان نہ کرو کہ چچا جھوٹ بول رہا ہے اور اس کڑے وقت میں ہمارا ساتھ چھوڑنا چاہتا ہے… بھتیجا یہ بات سن کر خاموش ہو گیا۔ عمران خان 1997ء میں باقاعدہ طور پر سیاست کی افق پر نمودار ہونے والا سیاست دان ہے۔ عمران نے اپنی مستقل مزاجی اور شبانہ روز کی محنت سے تحریک انصاف تشکیل دی اور اس قوم کو ایک وژن دیا۔ اس میں کوئی شکل نہیں کہ عمران خان بذات خود ایک ایماندار لیڈر ہے مگر خان صاحب کی ایمانداری نے قوم کو کچھ نہیں دیا۔ خان صاحب سے بنیادی طور پر دو غلطیاں ہوئی ہیں اور یہ دونوں غلطیاں آنے والے الیکشن میں تحریک انصاف کے لیے خطرناک ثابت ہو ںگی اور تحریک انصاف کو ان دونوں غلطیوں کے بل بوتے پر حکومت سے ہاتھ دھونا پرے گا۔ پہلی غلطی کہ خان صاحب نے اپنے جلسوں، اپنی انتخابی مہم اور کنٹینر پر چڑھ کر قوم کو اس قدر سبز باغ دکھائے کہ خود خان صاحب کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ خان صاحب بھول گئے کہ ان وعدوں کو پورا بھی کرنا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ کرنا بھی ہے؟ نئے پاکستان کو نیا پیرہن بھی دینا ہے اور پرانے پاکستان کے پیراہن سے داغ بھی دھونے ہیں۔ خان صاحب کو یاد رکھنا چاہیے تھا کہ جو عوام جس حکمران کو پھولوں کے ہار پہنا سکتی ہے وہ اسے سوئے دار بھی لے جا سکتی ہے۔ خان صاحب کے سامنے ماضی کے حکمرانوں کی بے شمار مثالیں بھی موجود تھیں۔ نواب آف کالا باغ تو تھے ہی مگر خان صاحب نواب آف سبز باغ جیسا لقب بھی پیچھے چھوڑ گئے اور بے بس نظر آنے لگے۔ دوسری بات خان صاحب سیاسی جوہری نہیں نکلے۔ تاریخ کے کرپٹ، بے ایمان اور ان پڑھ جعلی نولکھے لیڈر ان کی پارٹی کاحصہ بن گئے اور خان صاحب کی سونے جیسی تحریک انصاف کو داغ دار کر گئے۔ کونسا ایسا لیڈر ہے جو پہلے کسی دوسری سیاسی جماعت کا لیڈر نہ رہا ہو۔ اس وقت ملک میں چھیاسی ہزار اسلامی مدرسے ، پانچ لاکھ مسجدیں، ستر لاکھ مولوی اور علمائے دین ، میڈیا پر سینکڑوں اسلامی تعلیمات کے پروگرام اور پھر غذا اور دوا میں ملاوٹ!!! چور بازاری، رشوت، اغوا، قتل و غارت ، گردے چوری کرنے کا کاروبار، کتے اور گدھے کے گوشت کا کاروبار، چینی آٹے میں چور بازاری آخر یہ سب کیوں؟ خان صاحب کی اس طرف نظر کیوں نہیں جاتی؟ خان صاحب کوئی ایک کام کر دیں۔ اگر سوال سروس ، عدلیہ اور فوج کے ملازمین کی مدت ملازمت یکساں ہو 60 سال ہو یا 55 سال اور سب کے لیے پے سکیل اور پنشن کا معیار ایک جیسا ہو۔ مدت ملازمت میں توسیع کا کوئی تصور نہ ہو۔ حاکم وقت یہ توازن قائم رکھنے کا امین ہو تو اس میں قباحبت کیا ہے؟ کیوں ایک چیف جسٹس ریٹائر منٹ کے بعد آٹھ لاکھ پنشن ، پچاس ہزار ماہانہ خرچ، ایک ڈرائیور، ایک نوکر، ایک سکیورٹی گارڈ، تین سو لٹر م اہانہ پٹرول، 2500 کیوبک گیس اور 2000 بجلی کے یونٹ لیتا ہے۔ کیا ان ججز کے آباء و اجداد نے قیام پاکستان کے وقت کوئی خاص قربانیاں دی تھیں یا ان کے دو دماغ ہوتے ہیں؟ خان صاحب آپ نے ہمارے ساتھ دورغ گوئی سے کام لیا ہے اور ہمارے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ بقول اسد رحمان

اس نے زنجیر میرے پاؤں میں دہری کر دی

میں نے پوچھا تھا کہ دیوار سے آگے کیا ہے؟


ای پیپر