پاکستان کے دوٹکڑے اور صدارتی نظام ،مشاہد اللہ خان کا بڑا دعویٰ
13 جولائی 2020 (22:07) 2020-07-13

اسلام آباد: سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ صدارتی نظام کے دور میں ہی ملک کے ٹکڑے ہوئے، کسی میں جرات نہیں کہ صدارتی نظام کو لے کر آئے یا 18ویں ترمیم کو ختم کرے۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو زمین بوس کر دیا لیکن میرے بارے میں کہا جا رہا ہے ان کے 17 رشتہ دار پی آئی اے میں ہیں۔ میرا کوئی بھائی یا رشتہ دارپی آئی اے میں ثابت ہو جائے تو استعفیٰ دے دوں گا۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی ایسی کرپشن ہو رہی ہے کہ کچھ عرصے بعد بہت سے لوگ جیل میں ہوں گے۔ ریلوے اور پی آئی اے خسارے میں جا رہی ہے۔ عوام کے اصل نمائندے ہی کام کر سکتے ہیں،سینیٹر مشاہد اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو زمین بوس کر دیا۔ صرف ایک بیان دے کر قومی ائیر لائن کو کو 33 ارب کا نقصان پہنچا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حیران ہو کہ حکومت کیسے چل رہی ہے۔ شبلی فراز سمیت دیگر وزرا جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہر مسئلے پر گفتگو کرنے پر اتفاق کرتے ہیں لیکن اس کا طریقہ کار ہے۔ حکومت کو گورننس دکھانی ہوتی ہے اور اپوزیشن سے اپنے تعلقات بہتر رکھنے ہوتے ہیں۔ اچانک کبھی صدارتی نظام کی باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔

سکندر مرزا، ایوب خان، یحیٰی خان اور ضیا الحق کے دور میں صدارتی نظام رہا۔ صدارتی نظام کے دور میں ہی ملک کے ٹکڑے ہوئے۔ کسی میں جرات نہیں کہ صدارتی نظام کو لے کر آئے یا 18ویں ترمیم کو ختم کرے۔


ای پیپر