مراد سعید کا بلاول بھٹو کو چیلنج
13 جولائی 2020 (18:53) 2020-07-13

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے میڈیا پر تنقید کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، بلاول جہاں مباحثہ کرنا ہے کر لیں، بس نو دو گیارہ نہ ہوں، اگر میڈیا کے سامنے بات کرنی ہے تو امپائر بھی آپ کی مرضی کا، آپ ڈھونڈیں کسی جلسے میں کرنی ہے، کسی میڈیا ہائوس یا پروگرام میں بات کرنی ہے ہم خاضر ہیں ۔

پیر کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ مراد سعید نے کہا کہ تحریک انصاف آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، ہم اپنے صحافیوں اور میڈیا ہاسز کے ساتھ ہیں،اگر آپ کی کسی جے آئی ٹی رپورٹ پر میڈیا پر بات ہوتی ہے تو اس پر میڈیا کو للکارنا، انسان بنو جیسے الفاظ کہنا غلط ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے کہا تھا کہ میں خیبر پختونخوا حکومت کو چیلنج کرتا ہوں جس دن ان کا چیلنج آیا تھا، ہم نے 15منٹ کے اندر اسے تسلیم کیا تھا ،یہاں تک کہا تھا کہ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں حکومت کو 7سال ہو گئے اور آپ کی سندھ میں 3نسلوں سے حکومت چل رہی ہے، تو آپ کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ آپ خیبر پختونخوا آئیں اور ہم بھی سندھ آتے ہیں، آپ کو کارکردگی کا پتہ چل جائے گا۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ میں مباحثے کا چیلنج دیتا ہوں لیکن ان کی اس بات پر پورے پاکستان کو ہنسی آ رہی تھی کیونکہ جب اسپیکر صاحب کہتے ہیں اور جب مجھے فلور پر گفتگو کا موقع ملتا ہے تو موصوف ہمیشہ نو دو گیارہ ہوتے ہیں، میں اسپیکر صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہو تو یہ قوم کا مطالبہ ہے کہ آپ پارلیمنٹ کے دروازے کچھ دیر کے لیے بند کیا کریں تاکہ ان کو انہی کے سامنے جواب بھی ملے، ان سے چند سوال بھی ہوں اور یہ راہ فرار اختیار نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں قوم کے سامنے ایک مرتبہ پھر چیلنج کرتا ہوں کہ میرے ورکر ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ تو موروثی سیاست پر ایوان میں آیا اور اس کی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں تو آپ اسے کیوں چیلنج کرتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کی خواہش پوری کردیتا ہوں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں بحث کرنی ہے تو ایشو آپ کی مرضی کا ہو گا، ہم آپ کو پارلیمنٹ میں خوش آمدید کہتے ہیں لیکن گزارش اتنی سی ہے کہ جب آپ بات کریں تو نو دو گیارہ نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا کے سامنے بات کرنی ہے تو میں نے آپ کو یہ بھی دعوت دی تھی کہ امپائر بھی آپ کی مرضی کا، آپ ڈھونڈیں کس جلسے میں کرنی ہے، کس میڈیا ہائوس یا پروگرام میں بات کرنی ہے، کسی بھی جگہ مباحثہ کرنا ہے تو کر لیتے ہیں تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ آپ کو تین نسلوں سے سندھ پر حکمرانی کر رہے ہیں اور جو پرچی لہرا کر ہمیشہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا بھی پتہ چلے اور سیاسی ورکر کا بھی پتہ چلے۔


ای پیپر