افغانستان میں حالات کشیدہ ،سرکاری عمارتوں کا اُڑا دیا گیا
13 جولائی 2020 (17:51) 2020-07-13

قندوز : افغانستان کے دو شمالی صوبوں میں طالبان کے حملوں میں کم از کم 12پولیس اہلکار اور 4شہری ہلاک ہوگئے جبکہ جھڑپوں میں 11جنگجو بھی مارے گئے ،شمالی صوبہ سمنگان میں 2سرکاری عمارتوں کے باہر کار بم دھماکے میں کم ازکم 40افراد زخمی ہوگئے ۔

قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن یوسف ایوبی نے شِنہوا کو بتایا کہ ایک واقعے میں صوبہ قندوز کے شمالی علاقے کے ضلع امام صاحب میں طالبان عسکریت پسندوں نے حملہ کردیا جس میں 5پولیس افسران اور 4شہری ہلاک جبکہ متعدد شہریوں سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں عسکریت پسندوں نے ضلعی پولیس اسٹیشن اور مقامی حکومت کے دفتر پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی۔ذرائع نے بتایا کہ جھڑپیں سوموار کی صبح تک جاری رہیں اور سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں اور طالبان عسکریت پسندوں کو ضلع سے پیچھے دھکیل دیا جبکہ کم از کم 6 عسکریت پسند ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔اس کے ہمسایہ صوبہ بدخشاں کے صوبائی حکومتی ترجمان نیک محمد نظری کے مطابق ضلع ارغانج خواہ میں طالبان نے چوکی پر حملہ کردیا جس میں 7پولیس اہلکار اور 5طالبان ہلاک جبکہ 2پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔نظری نے مزید کہا کہ پہاڑی ضلع میں چوکی پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں میں سے متعدد غیر ملکی تھے۔

دوسری جانب افغانستان کے شمالی صوبہ سمنگان کے دارالخلافہ ایبک میں 2سرکاری عمارتوں کے باہر سوموار کے روز کار بم دھماکے میں کم ازکم 40افراد زخمی ہوگئے ہیں۔صوبائی حکومت کے عہدیدار نے شِنہوا کو بتایا کہ ایک کار بم دھماکہ صوبائی بلدیہ کی عمارت اور اس کے قریب صوبائی انٹیلیجنس ایجنسی کے دفتر کے باہر مقامی وقت کے مطابق تقریبا صبح10:50بجے ہوا،امدادی ٹیم کی جانب سے ابتدائی طور پر فراہم کی گئی معلومات کے مطابق 40افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عہدیدار نے کہا کہ دھماکے کے باعث آسمان پر گہرے بادل چھاگئے اور افراتفری پھیل گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد بعدازاں دن میں میڈیا کو بتائی جائے گی۔صوبائی حکومت کے ترجمان صدیق عزیزی نے شِنہوا کے رابطہ کرنے پر واقعے کی تصدیق کی۔کسی بھی گروہ نے تاحال حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔


ای پیپر