بریف کیس مافیاز کا اثر و رسوخ
13 جولائی 2020 (16:08) 2020-07-13

گرمیوں کی حبس زدہ شام لوگ لوکی دعا مانگ رہے تھے۔ ایسے میں تین چار سقراط، بقراط، ارسطو، افلاطون اس فضول بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ قیمتوں میں بے محابہ اضافہ، مہنگائی، بد امنی اور پریشانیوں کا ذمہ دار کون ہے۔ معاف کیجیے آج کل پوری دانش اور عقل و فراست حالات حاضرہ کے گرد گھوم رہی ہے۔ دانش وروں کو تشویش ہے کہ سال بدلا حال نہیں بدلا۔ بد حالی کا دور دورہ ہے۔ شہر آشوب کون لکھے، ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں سر کھپانے والے ان گنت دانشور آج تک کسی معاملہ پر متفق نہیں ہوسکے۔ تو سیاستدانوں اور عوام میں اتفاق رائے کیسے ہوگا۔ ٹاک شوز میں کوئی سقراط، بقراط خدانخواستہ عقل کی بات کردے تو بریک ،عقل کی بات دور فضائوں میں گم، آگے چلیے مگر یہ تو بتاتے جائیے کہ برے حالات کا ذمہ دار کون، پارلیمنٹ ہائوس کی غلام گردشوں میں اپنے ذرائع کے حوالے سے جھیل کے ساکت پانیوں میں پتھر پھینک کر ہلچل مچانے والے ہمارے دور کے تجزیہ کار نصرت جاوید پنڈی وال شیخ رشید کو بقراط عصر لکھتے ہیں۔ عجیب قماش کا سیاستدان، وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالے دو سال ہونے کو آئے، قسم لے لیجیے کبھی ریلوے کی ترقی کی کوئی بات کی ہو، جب بھی ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوئے نواز شریف کے نام سے ابتدا شہباز شریف کے نام پر انتہا اس دوران اپوزیشن کو صلواتیں ،کئی بار کہا گیا، کوئی اور بات کرلیں کہا کہ میرا طرز نگارش یہی ہے تیرے نام سے ابتدا کر رہا ہوں، تاریخ پیدائش سے اب تک 70 سالوں کی برائیوں کی فہرست، بقراط عصر تین چار دانش وروں میں شامل، تمام برائیوں کا ذمہ دار نواز شریف، آل شریف اور اپوزیشن کو ٹھہرا کر چپ ہوگئے۔ سقراط نے بڑے غصہ سے کہا۔ ذمہ دار عوام جو ہر بار سوچے سمجھے بغیر ووٹ ڈال کر تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں، ارسطو بولے ذمہ دار بیورو کریسی اور اسے چلانے والی حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، افلاطون چپ بیٹھے سب کی سنتے رہے جب بولے تو خوب بولے، ڈھنگ سے بر سے کہا کہ مسائل کی ذمہ دار بریف کیس مافیاز ہیں۔ بریف کیس لے کر آتی ہیں، قربت حاصل کرتی ہیں۔ من تن شدم تو جاں شدی کے مراحل سے گزر کر کئی بریف کیس بھر کر لے جاتی ہیں۔ غریب عوام روتے اور مسائل و حالات کے نوحے پڑھتے رہتے ہیں۔ بات سے بات چلی اور مافیاز تک پہنچ کر ختم ہوگئی، دو سال کے دوران ملک قسم قسم کے اسکینڈلز کا شکار، حکومت بریف کیس مافیاز کے ہاتھوں یر غمال، آٹا، چینی، پیٹرول، ادویات ایل این جی، سی این جی، سب کی قیمتیں آسمان دنیا کا دروازہ کھٹکھٹانے لگیں، جس چیز کا نوٹس لیا وہی مہنگی لوگ کہنے پر مجبور خدا کے لیے کسی چیز کا نوٹس مت لیجیے، چینی تبدیلی سرکار کے آتے ہی 45 سے 53 روپے ہوگئی تھی۔ گنے کو گھن لگایا کیا آفت آئی کہ اچانک 85 روپے ہوگئی سال بھر سے 85 روپے ہی بک رہی ہے، مافیا نے اس عرصہ میں کتنے ارب کمائے حساب لندن میں 12 ایکڑ کے فارم ہائوس میں بیٹھے ہوئے عزیز از جان کے پاس ہے ہائیکورٹ نے 70 روپے کلو بیچنے کو کہا شوگر ملز ایسوسی ایشن نے صاف انکار کرتے ہوئے کہہ دیا۔ 70 روپے کلو نہیں بیچ

سکتے، کیوں نہیں بیچ سکتے ’’میان عاشق و معشوق زمزے است‘‘ آٹے کا 20 کلو تھیلا چار سو پانچ سو سے بڑھ کر 820 روپے کا ہوگیا۔ تجوریوں میں جگہ خالی تھی۔ چنانچہ راتوں رات وہی تھیلا 1120 کا ملنے لگا۔ وزیر اعظم نے نوٹس لیا وزیر اعلیٰ پنجاب نے فلور ملز کے نمائندوں کو بلایا کہا کہ 820 نہ سہی 860 کا بیچو، سر پنچ کا حکم سر آنکھوں پر پر نالہ وہیں گرے گا تھیلا 1120 روپے ہی میں دستیاب، مافیا جیت گئی مافیاز زندہ باد، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی گئی، پیٹرول غائب ایک ہفتہ تک 74 کے بجائے 145 روپے لیٹر فروخت کیا گیا۔ مافیا کی تجوریوں میں کتنے ارب گئے۔ عوام کی جیبوں سے کتنے ارب نکل گئے، وزیر اعظم نے نوٹس لیا، 25 روپے بڑھا دیے 7 ارب مزید تجوریوں کی نذر، مافیاز کا پیٹ نہیں بھرتا، ادویات کی قیمتیں تین گنا ہوگئیں، وزیر اعظم نے نوٹس لیا وزیر صحت عامر کیانی کو ہٹا دیا تحقیقات کا اعلان، لمبا وقفہ، عامر کیانی کو پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا پھر ایک چپ سب کے جواب میں مافیا جیت گئی ہار کس کی ہوئی؟ دودھ 94 روپے کی بجائے 110 روپے کلو مل رہا تھا۔ دودھ فروشوں نے 10 روپے اضافہ کا اعلان کردیا۔ نوٹس نہ تحقیقات عوام دودھ پینا بند کردیں جو پی لیا جتنا پی لیا کافی ہے۔ کیا ملک میں بریف کیس مافیاز کی حکومت ہے؟ توبہ کیجیے کانوں کو ہاتھ لگائیے، حکومت تو تبدیلی سرکار کی ہے ایسا ہے تو پریشانیاں کیوں ہیں، بقراط عصر کو چھوڑ کر سقراط ارسطو اور افلاطون کی متفقہ رائے ہے کہ نا اہلی، ناقص طرز حکمرانی، بیڈ گورننس اور نا تجربہ کاری اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا محاورہ مشکل بقدر ضرورت اردو بولنے والوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا، اسی طرح ’’ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پائوں رکاب میں‘‘ گھڑ سواری کرنے نکلے تھے سر منڈاتے ہی دو دو کلو کے اولے پڑ گئے۔ اولوں کے وزن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، مگر یہ غریب عوام کے سروں پر گر رہے ہیں، بڑا شوق تھا، ایسی تبدیلی آئی کہ زندگی تبدیل ہوگئی، لوگ گلی محلوں میں مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، بقول شاعر ’’کسی نے پوچھ لیا تھا مزاج کیسا ہے، سوال سنتے ہی آنکھوں میں آگئے آنسو‘‘ سوال کیا تھا؟ مہنگائی کیوں ذمہ دار کون، مافیاز پر اختیار نہیں، بیورو کریسی پر اعتبار نہیں عوام اس اختیار اور اعتبار کے بیچوں بیچ چکی کے دو پاٹوں میں گندم کی بجائے گھن کی طرح پس رہے ہیں، حکم ملا گندم کے ذخائر باہر لائو، کون لائے گا، بقول شخصے۔ ’’قطار میں کئی نابینا لوگ شامل ہیں۔ امیر شہر کا دربار دیکھنے کے لیے‘‘ حکومت کا ٹارگٹ معاشی ترقی اور خوشحالی کے بجائے مختلف شخصیات کی پکڑ دھکڑ، سارے وزیر، مشیر، ترجمان اسی ہدف کو حاصل کرنے میں سر گرم، مہنگائی اور دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے نئے اسکینڈل، ارکان اسمبلی اپنے حلقہ انتخاب میں جا کر عوام کی داد رسی کی بجائے ٹی وی پر جے آئی ٹیز کے اصلی اور جعلی ہونے کی بحث میں مصروف، ایک دل جلے نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ جعلی ہے تو شور مچانے کی بجائے بنانے والوں سے پوچھ لیں، قومی اسمبلی میں شور شرابہ، تقریریں، گالم گلوچ ، کیا خوب طرز حکمرانی ہے مگر ملک پر کس کی حکمرانی ہے، سراج الحق کہتے ہیں حکومت یر غمال بیورو کریسی بدحال، اصل حکمرانی مافیاز کی ہے، مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاسکتا، منطق سمجھ میں نہیں آئی، تمام تر اقدامات کے باوجود ڈالر روز بروز بڑھ رہا ہے۔ سونے کی قیمت ایک لاکھ سے بڑھ گئی، زیورات کون خریدے گا، انڈسٹری تباہ،غریب کی بچی زیورات کے بغیر پیا گھر سدھارے گی۔ درآمدات زیادہ، برآمدات کم تجارتی خسارہ 23 ارب ڈالر، گردشی قرضے چار گنا بڑھ گئے۔ ڈالر میں اضافہ سے آئی ایم ایف کے وارے نیارے، منشی پریم چند کے بقول گھر بیچ کر صرف سود ادا کرو اصل زر باقی، اسٹیٹ بینک کی سود کی پالیسی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نفع بخش لیکن اس نے حکومت کے فنانس کے شعبے اور صنعت کے پائوں اکھاڑ دیے، اعلیٰ عدالتوں کے ریمارکس حیرت انگیز خوفزدہ کرنے کے لیے کافی، چشم کشا ،لوگ اسے ہوائی فائرنگ اور وارننگ شاٹس سے تعبیر کر رہے ہیں، ایک ن لیگی شعر گنگنا رہا تھا۔ ’’نہ جانے کتنے چراغوں کو مل گئی شہرت، اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے‘‘ لوگوں نے کہا آفتاب گہنا گیا ہے ارد گرد کے سیارے روشنی کھو بیٹھے ہیں۔ سیاست کفن اوڑھے دفن ہو رہی ہے، ایسے میں مولانا فضل الرحمان نے آنکھیں کھولی ہیں، آصف زرداری سیاسی قرنطینہ سے باہر نکلے ہیں، نوجوان بلاول نے انگڑائی لی ہے۔ پنجاب میں چوہدری برادران اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ 6 ماہ میں تبدیلی کی توقعات، لیکن جب تک ن لیگ اور 2 کشتیوں میں سوار اتحادی جماعتیں کفن پھاڑ کر باہر نہیں نکلیں گی اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، تب ہی بریف کیس مافیا حالات کے رخ پر اپنا راستہ منتخب کرے گی۔


ای پیپر