و عد وں پہ عمل کی ضر ور ت
13 جولائی 2020 (16:06) 2020-07-13

دنیا کے دیگر ممالک کی طر ح کرو نا کی وبا ء وطنِ عز یز سے ر خصت ہو نے کا نا م نہیں لے رہی۔جو متاثرین ہلاک ہوچکے ہیں وہ تو قید حیات و بندغم سے نجات پاچکے، تاہم جو زندہ ہیں انہیں بھی ایک مستقل خوف لاحق ہے کہ نامعلوم کس وقت فیس ماسک ہٹ جائے، یا سماجی دوری کی پابندی کی کسی نازک شق کی خلاف ورزی ہوجائے تو مو ت نہ آ لے۔ ایک مربوط اورمنظم ادارہ جاتی پالیسی نہیں جس کو کوئی سنجیدگی سے مانیٹر کر رہا ہو اور قوم کو بھی یقین ہو کہ حکومت جو کچھ کرچکی ہے وہ درست سمت میں کورونا کے خاتمہ کی صائب کوشش سے جڑا ہوا قابل تعریف میکنزم ہے جس کا انجام قوم کی صحت کی بحالی اور وائرس کے خاتمہ پر منتج ہوگا۔میڈیا کے مطابق برازیل کے صدر جائر لولسنارو کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ امریکی شہر اٹلانٹا کی میئر کیشالانس بوٹ مز بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں، یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو مزید کساد بازاری کا سامنا ہوگا۔ یورپی معیشت پر کورونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات پہلے کے اندازوں سے زیادہ سنگین ہوں گے۔ تھائی لینڈ میں بندروں کی مدد سے جمع کردہ ناریل اور دیگر اجزا پر برطانیہ میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے نیو سائوتھ ویلز اور وکٹوریہ کی سرحد پر سینکڑوں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں ۔لیکن قومی منظر نامہ اس دردناک روداد سے مختلف ہے۔ بجلی، کورونا، تعلیم، صحت اور مہنگائی کے سلسلہ میں ایک زوال آمادہ پیراڈائم شفٹ آیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت نان ایشوز کے دلدل میں پھنس گئی ہے۔ ادھر ایک سلف سروے کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران عوام کی ضروریات پر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ عوام کے سودا کا خرچہ 33 فیصد بڑھ گیا ہے جبکہ دوائوں اور گھریلو صفائی کے سامان پر پڑنے والے اخراجات میں بھی 32,33 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ شہریوں کے ٹیلی فون اور سیل فونز کے استعمال پر خرچہ بھی 29 فیصد بڑھ گیا ہے۔ حل کے لیے عوام سے رابطہ بڑھانا چاہیے لیکن معیشت سے گریز اور عوام کو بدحالی سے نکالنے کے لیے جس سیاسی ارادہ او رمعاشی میثاق کی ضرورت ہے اس پر ارباب اختیار تجاہل عارفانہ برت رہے ہیں۔ چیزیں ایڈہاک ازم کی نذر ہورہی ہیں، مکمل تصویر کسی شے کی دکھائی نہیں جاتی، ٹوٹے چل رہے ہیں، چٹکلوں کا بازار گرم ہے، شوشے چھوڑے جارہے ہیں، پیشگوئیوں کا زور ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل حقیقت غربت، مہنگائی اور بیروزگاری ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے لیکن وزیراعظم کی معاشی، سیاسی، کورونا اور تعلیم و صحت کی ٹیم زمینی حقائق سے گریز پائی کا شکار ہے۔ حکمران کچھ محسوس نہیں کرتے جبکہ عوام ایک ایک لمحے کا حساب رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ پی ٹی آئی حکمرانی کی فائل تیار کررہے ہوں گے، ان کی مجبوریاں بڑھ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی اہداف سے کنارہ کش ہوئی ہے، اس کے اعصاب پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سوار ہے۔ ملکی سیاست انتقام اور عداوت سے پیچھا نہیں چھڑا سکی۔ تمام بڑے چیلنجز دور پھینک دیئے گئے ہیں اور

عوام کو اس وقت تین جے آئی ٹیز کے تماشے میڈیا پر دن رات دکھائے جارہے ہیں۔ عوام کو بجلی میسر نہیں، پانی کی قلت ہے، روزگار کی کوئی امید نہیں، حکومت نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے لیے وزرا بازی جیتنے کے لیے میڈیا ٹاکس میں ہمیشہ غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے رہے۔ ایک وزیر اختلاف رائے کا جواب دینے کے لیے ’’جوتا‘‘ اٹھا لائے۔ ان ہی صاحب کا دعویٰ تھا کہ نوکریوں کی بارش ہوگی مگر افسوس اب وزرا، مشیروں، معاونین خصوصی کے دفتر اعمال میں ماسوائے ’’حسرتِ تعمیر‘‘ کے کوئی چیز دستیاب نہیں۔ شبلی فراز نے انتباہ کیا ہے کہ عیدالاضحی میں کورونا پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔ کسی بزرجمہر کا انتباہ ہے کہ دنیا میں دیگر بیماریوں سے 10 لاکھ افراد موت کا شکار ہوسکتے ہیں، کسی نے کہہ دیا کہ ہوا سے بھی کورونا پھیلتا ہے، غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ ریلیف کے منتظر لوگ خوابوں کی کثرت تعبیر سے پاگل ہوگئے، افلاس کی کہانی، خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے ہر غریب الوطن کی کہانی ہے۔ لیکن اہل اقتدار میں کون ایسی کہانی سنے گا۔ ایک خبر کے مطابق تجارتی خسارہ 23 ارب 19 کروڑ کے ساتھ 27 فیصد رہا۔ دنیاکے معاملات ایسے مخبوط الحواس، غیر ذمہ دار مگر طاقتور سیاست دانوں کے سپرد ہیں جنہیں خبر نہیں کہ بندہ پروری کی روش کیا ہے؟ چنانچہ امریکہ میں ہزاروں ایشیائی طالب علموں کو امریکہ بدر کیے جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے آن لائن کورس میں داخلہ لینے والوں کو ویزا نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس بھی دے دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کو عالمی دہشت گرد تنظیموں داعش، القاعدہ، نیونازیز، سفید فام بالا دستی اور نفرت پھیلانے والے گروہوں کو نئے مواقع دے رہی ہیں۔ خبررساںایجنسی اے پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردی پر کورونا کے اثرات کا جائزہ لینا قبل از وقت ہے۔ لیکن یہی لوگ گروہی تفرقات، مقامی تنازعات، حکومتی ناکامیوں اور شکایات کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ نفرت پھیلارہے ہیں۔ کورونا ان کے ایجنڈہ پر ہے او رنسل پرستی، اسلاموفوبیا اور تارکین وطن کے خلاف ان کی نفرت انگیز تقاریر سامنے آرہی ہیں۔ ارباب اختیار دیکھیں کہ ان کا ورلڈ ویو عالمی ادارہ کے انداز نظر سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور کیا ہمارے سیاست دان عالمی تبدیلیوں اور سازشوں سے آگاہ ہیں۔

اربا بِ اختیا ر میں سے اگر کو ئی مسا ئل کو حل کر نے کے با رے میں سنجید ہ ہے تو اس بات کا بھی جائزہ لے کہ مشکوک پاکستانی پائلٹس کے خلاف یورپی یونین کی تادیبی کارروائی کا مطالبہ پھر سے شدت پکڑتا جارہا ہے۔ سول ایوی ایشنز کے 40 فیصد لائسنسز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ہماری ایئرلائن کے لیے فضائے بسیط تنگ کی جارہی ہے، پائلٹس برطرف اور معطل ہوئے، کراچی طیارہ حادثہ کی متنازع رپورٹ پر ایک اور حادثہ یہ ہوا کہ وزیر ہوابازی کی تند و تیز تقریر کے مضمرات سے غافل حکومتی عناصر کو چپ سی لگ گئی ہے۔ اسلام آباد میں دو مذہبی گروپوں میں آویزش اور ممکنہ مسلح تصادم کی اطلاع ایک انگریزی معاصر نے دی ہے۔ وکلا تنظیموں کے سربراہوں نے وارننگ دی ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانے سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی تحقیقات پر اس تبدیلی کا اثر نہیں پڑنا چاہیے ورنہ کسی اقدام اور رپورٹ و تحقیقات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ سیمنٹ کی صنعت کو داخلی زوال کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق چھ سال میں پہلی بار سیمنٹ کی کھپت میں کمی آئی ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ تعمیراتی سیکٹر کے لیے اربوں کے ریلیف پروگرام کا کیا بنا؟ دیہاڑی دار مزدور کے کتنے دکھ کم ہوئے، ان کی امداد کے دعوے کہاں گئے۔ البتہ کابینہ نے چینی کے مسئلہ پر طویل المیعاد اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ تجویز وزیر صنعت حماد اظہر کی طرف سے آئی ہے۔ضرورت ایک اقتصادی اور سیاسی خود احتسابی کی ہے۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے لیے صائب مشورہ ہے کہ وہ خدارا پنگ پانگ گیم ترک کریں۔ تدبر، دانش مندی اور سنجیدگی سے جمہوریت کے مسلمہ اصولوں پر کاربند رہیں۔ اب تک جو جو سیاسی اقدامات ہوئے ہیں یا جو ریلیف اور بریک تھرو دیا گیا ہے وہ لفظوں کی گولہ باری تھی۔ مصیبت کے ان ایا م میں کیئے گئے وعدو ں پہ ٹر خا نے کی بجا ئے ان پہ عمل کر کے دکھا یا جا ئے۔


ای پیپر