ڈھونڈ اب ان کو چراغ رخ زیبا لے کر
13 جولائی 2020 (16:04) 2020-07-13

فی زمانہ سوشل میڈیا سماج کی آنکھ کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے،اسکی اہمیت اس لئے بھی دوچند ہوگئی ہے کہ یہ ان گوشوں کو اجاگر کرتا ہے، جن کوبعض نادیدہ ہاتھ خفیہ رکھنے کے آرزو مند ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیںمعاشرہ کے بے زبان طبقہ کو طاقت گویائی بھی اس کی وساطت سے ملی،ہرچند کہ اسکی ہر پوسٹ پر آنکھ بند کرکے یقین نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مظلومین کی داد رسی اس کے مرہون منت ہے،جہاں یہ سرکار کی خامیوں کو نمایاں کرتا ہے وہاں عوام کی بشری کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے،گذشتہ دنوں لاہورکے پوش علاقہ میں ایک خاتون کے ہاتھوں ٹریفک وارڈن کی بے توقیری کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ، یہ پہلا حادثہ نہیں ہے، بلکہ سیریز ہے، سماج کے نودولتیے اپنی دولت کے خمار میں خود کو ریاست سے زیادہ طاقتور سمجھنے لگے ہیں، ایماندارسرکاری عملہ کے لئے فرائض منصبی انجام دینا مشکل ہوتا جارہا ہے،اس طرز کی درگت کے بعد اپنی عزت بچانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، وجہ یہ ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے صاف بچ نکلتے ہیں، ایک خاتون کے ہاتھوں ریاست کی رٹ کو للکارانا اچھا شگون نہیں۔ یہ رویہ بے سبب نہیں ، جب عوامی نمائیدگان ہی قانون کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہوں،آئین چند صفحات کی کتاب قرار پائے ،ناجائز کام کی حکم عدولی پر تبادلہ کی دھمکی دی جائے،لیکن دوسری طرف دست شفقت رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین ہی سے تمام غیر قانونی کام لئے جائیں تو پھر ان کے حوصلے بلند کیوں نہ ہوں،جن کے فرائض منصبی میں عوام کی جان مال کا تحفظ ہو وہی ماورائے عدالت موت بانٹ رہے ہوں، اس وقت تمام ضابطے، قانون ہاتھ باندھے کھڑے ہوں تو اس قماش کے لوگوں سے کسی شہری کی عزت کیسے محفوظ رہ سکتی ہے، کیا طرفہ تماشہ ہے سیاسی وابستگی پرایک عام فرد اپنی مرضی کے پولیس افسران تعینات کروا کر انکے زیر سایہ انسانیت کا خون کرتا ہے،کوئی بھتہ نہ ملنے پر انسانوں کو زندہ جلا دیتا ہے، لیکن قانون حرکت میں اس وقت تک نہیں آتا جب تک مفادات وابستہ رہتے ہیں عوامی مسائل کے حل کی بجا ئے زیادہ ممبران کی دوڑ دھوپ اپنی مرضی کے اہلکار اپنے علاقہ میں تعینات کے لئے ہوتی ہے تاکہ ان سے خلاف ضابطہ کام لے سکیں ، شنید یہ بھی ہے،کہ پنجاب میں اتحادی گروہ بھی اس طرح کی ہی فرمائش کررہا ہے،جب تلک یہ سوچ اور سیاسی رویہ ہمارا مقدر رہے گا،قانون، آئین کی حاکمیت کتابوں تک محدود

ہو گی، لاقانونیت، سمگلنگ، بھتہ خوری، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، ملاوٹ کے تمام کردار اس لئے خود کو طاقتور محسوس کرتے ہیں انھیں کامل یقین ہوتا ہے،کسی کی ’’ نظر کرم‘‘ سے وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے، یہ محض مفروضہ نہیں زمینی حقائق ہیں جس سے کوئی سرکار انکار نہیں کر سکتی،صاف اور شفاف چلنے کی دعویٰ دار سرکار بھی خود کو اس ماحول سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی،عوام میں نہ تو احتساب کا کوئی خوف ہے نہ ہی قانون ہی حکمرانی دکھائی دیتی ہے،اپنے ہی اداروں کی رپورٹیں اس کی گواہی دے رہی ہیں،پروٹوکول کلچر کے خاتمے کا وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہوا،کپتان جب تلک تخت نشین نہ ہوئے تھے وہ مغربی طرز حکومت کی مثالیں دیا کرتے، وزیر اعظم، صدر کیسے سائیکل پر دفتر جاتے ہیں، انھوں نے فرط جذبات میں بہت سے خواب دیکھا کر قوم کو ایک سحر میں مبتلا کر دیا تھا، عوام بتدریج اس دنیا سے بیدار ہوررہی ہے، مشرقی سیاسی افق پر طلوع ہونے والادرخشاں ستارہ، اصول پسندی کی وہ اعلیٰ روایات رکھتا تھا کہ شرمائیں ہنود اور یہود ،وہ پاکباز شخصیت بانی پاکستان کی ہے، سیاسی قیادت کواتنی فرصت کہاں کہ ان سے راہنمائی لیں،یہ کام ارباب اختیار ہی کا نہیں عوام کا بھی ہے،اگر انکا طرززندگی ہمارے سامنے ہوتا تو سرراہ قانون کی خاتون کے ہاتھوں یوں تذلیل نہ ہوتی، کوئی بھی خود کو اس سے بالا تر نہ سمجھتا۔

روایت ہے کہ قائد اعظم زیارت میں قیام پذیر تھے کہ ان کے سامنے انکے اے ٹی سی نے ایک وزیٹنگ کارڈ رکھا،آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا،فرمایا اسے کہو کہ آیندہ مجھے شکل نہ دکھائے،یہ آپکا بھائی تھا اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے کارڈ پر اپنے نام کے نیچے برادر آف قائد اعظم محمد علی جناح گورنر جنرل لکھوایا تھا ،آپکی تیمار داری پر مامورنرس کی خدمت سے متاثر ہو کر بانی پاکستان نے پوچھا،بیٹی میں تمھاری کیا خدمت کر سکتا ہوں،اس نے کہا کہ میرا تعلق پنجاب سے ہے،سارا خاندان وہاں مقیم ہے اور میں کوئٹہ میں ڈیوٹی دے رہی ہوں،آپ میرا تبادلہ پنجاب کروا دیں، تھوڑی خاموشی کے بعد، اداس لہجے میں جواب دیایہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں، کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے لئے طیارہ میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا حکم صادر فرمایا فائل وزارت خزانہ تک پہنچی،انھوں نے اجازت تو دے دی لیکن نوٹ لکھا کہ گورنر جنرل اس قسم کے احکامات سے پہلے وزارت خزانہ سے اجازت کے پابند ہیں، جب یہ بات آپکے علم میں آئی تو تحریری طور پر وزارت خزانہ سے معذرت کی اور اپنا حکم نامہ منسوخ کردیا، ہماری سرکاری مشینری کو ان روایات سے کیوں لا علم رکھا جاتا ہے؟ اب تو قحط الرجال کی سی کیفیت ہے،اب انھیں ڈھونڈ چراغ زیبا لے کر کے مصداق آتے ہیں۔

بدیشی کلچر پر نازاں افسر شاہی ان اصولوں سے کیسے صرف نظر کرتی ہے جب قومی خزانہ کو مفاد پرستوں کی ٹوکری میں ڈالتی ہے مگر جب عام سائل کی داد رسی کا معاملہ ہو تو پھر قانون کی کتاب حرکت میں آجاتی ہے،ذہنی غلامی کے کلچر نے شہری کو اتناخود سر بنا دیا ہے کہ وہ قانون شکنی پر شرمندہ ہونے کی بجائے، سیدھا ہو جاتا ہے اور بارعب انداز میں سوال کرتاہے تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟ اس مقام تک لانے والے کوئی اور نہیں ہمارے ارباب اختیار ہیں۔من پسند افراد کی تعیناتی کا معاملہ ہو، مراعات کی بندر بانٹ ہو، عہدوں کی تقسیم ہوں،عملا قوانین کو مخصوص طبقہ کے لئے ’’ریلکس ‘‘کر دیا جاتا ہے مگر زبان سے میرٹ کی گردان جاری رہتی ہے ،کچھ ادارے ریاستی تحفظ کے نام پر خود کو بلا دست تصور کرتے ہیں،اسکی آڑ میں قانون شکنی کا جواز تلاش کیا جاتا ہے جس میں بدعنوان افراد اور ادارے پناہ لینے کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔

بلا امتیازاطلاق قانون کبھی بھی مشکل نہیں رہا،کسی راکٹ سائنس کی نہیں اخلاص کی ضرورت ہے، ایک حکم نامہ درکار ہے، ایمانداری کے علمبردار اور تقاریر کے شائق وزیر اعظم اپنے خطاب میںقوم اور اداروں کوحکم صادر فرمائیں کہ ان سمیت کوئی بھی خود کو قانون اور آئین سے بالا تر نہ سمجھے گا ،سرکار کار میں مداخلت اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والا قومی مجرم ہوگا، کوئی بھی اہلکار خلاف قانون کوئی کام انجام دے گا تو اچھے انجام کی توقع نہ رکھے،ہماری سرزمین پر ہی ایک قومی ادارہ موٹر وے پولیس کی صورت میں موجود ہے،جو کیسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا،یہاں قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی حماقت ہی نہیں کرتا،آخر کیوں؟


ای پیپر