تاریخی تبدیلی
13 جولائی 2020 (16:03) 2020-07-13

عمران خان کے وزیراعظم بننے سے ایک بات توکم ازکم کلیئرہوگئی کہ آئندہ اس ملک میں کوئی عاقل ،بالغ اورباشعورتوکیا۔۔؟کسی مینٹل ہسپتال میں داخل کوئی پکاٹکا پاگل بھی کسی تبدیلی شبدیلی کے قریب نہیں جائے گا۔اس تبدیلی والے دورمیں ،،بے چاری تبدیلی،،جتنی ذلیل اوررسواہوئی اتنی تو منی بھی بدنام نہیں ہوئی تھی۔بائیس سال تک قوم کوبڑے ذوق وشوق سے تبدیلی تبدیلی کاسبق پڑھایاجاتارہالیکن جب غریبوں کی حالت بدلنے اورظلم کے بت توڑنے کاوقت آیا تو پھر تبدیلی لانے والے خوداس طرح تبدیل ہوگئے کہ سیاسی مخالفین اورناقدین کیا۔؟کئی اپنے بھی منہ دیکھتے رہ گئے۔ خربوزہ خربوزے کودیکھ کررنگ پکڑتاہے۔یہ سناتو تھا۔لیکن ایسادیکھاکبھی نہیں تھا۔اللہ پی ٹی آئی والوں کابھلاکرے۔ان کی مہربانی سے ،،نئے پاکستان،، میں یہ مناظربھی اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھے۔خربوزہ خربوزے کودیکھ کررنگ پکڑتاہے یانہیں لیکن نئے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان جیسے بہت سے ایمانداروں نے کرپٹ اورلوٹے سیاسی چوروں کودیکھ کر ان کارنگ ضرور پکڑا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اورآصف علی زرداری جیسے گزرے ہوئے حکمران جنہیں تحریک انصاف والے چوراورڈاکوکہتے ہوئے نہیں تھکتے۔ان کی حکمرانی میں بھی اس قدرمہنگائی،غربت اوربیروزگاری کبھی نہیں تھی جتنی آج تبدیلی والوں کی اس حکمرانی میں ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت میں دوسال سے اب تک تبدیلی نے صرف غریبوں کاہی پیچھاکرکے ان کا کباڑہ کیا ہوا ہے مگر وہ ایماندار جو کنٹینر پر چڑھ کر 120 دن تک غریبوں کوسبز باغ ،سپنے اورخواب دکھاتے رہے انہیں اب اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ماضی میں جوغریبوں پرمرنے اورکٹنے کی قسمیں کھاتے تھے۔جوغربت کے باعث لاغر بننے والے تھرپارکرکے نحیف وکمزور بچوں کی تصاویرسینے سے لگاکرآنسوئوں پرآنسوبہایاکرتے تھے اب وہ اتنے تبدیل ہوچکے ہیں کہ آج انہیں ان غریبوں کی شکل دیکھنابھی گوارہ نہیں۔ تاریخی ڈی چوک میں کنٹینرپرچڑھ کرجن کوتھرپارکر،بلوچستان اور ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں میں ایک انسان بھی جب دودونظرآتے تھے آج انہیں ملک کے دیگرعلاقوں میں کیا۔۔؟پسماندگی ،غربت اوربیروزگاری کی دلدل میں ڈوبے تھرپارکرجیسے زندہ انسانوں کے قبرستانوں میں بھی کوئی انسان نظرنہیں آرہا۔اقتدارسے باہرجن غریبوں کے حقوق کا رونا رویا جاتا تھا کیااب اس ملک میں وہ غریب نہیں رہے ۔۔؟جن غریبوں کی غربت اوربیروزگاری کی داستانیں پڑھ کر وزیراعظم عمران خان میڈیا کے سامنے سر پکڑ کر بیٹھ جایا کرتے تھے کیا ان داستانوں کو خون سے لکھنے والے

غریب اب اس دھرتی پر نہیں رہے۔۔؟ برسوں سے اس ملک پرحکمرانی کرنے والے شریفوں اور زرداریوں کو عوام نے بار بار آزمایا۔ نواز شریف ہو آصف علی زرداری یا ان جیسے اور۔ عوامی خواہشات اور توقعات پر کوئی ایک بھی پورا نہیں اترا۔ مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے ماروں کے پاس عمران خان آخری چوائس تھی۔ لوگوں کو ٹیکوں پر ٹیکے لگانے والے ڈاکٹرز اور ٹیچروں کے ساتھ کئی بابے تو کپتان کو امید کی آخری کرن بھی سمجھ بیٹھے تھے۔ ہم نے اس وقت بھی کہاتھاکہ اس میدان میں اتناآگے نہیں جانا چاہئیے۔ کیونکہ عشق کے امتحان اور بھی ہے۔ بہرحال امید پر ہی تودنیاقائم ہے۔ کپتان سے امیدیں باندھنے والے کم ازکم ہم سے توبہترتھے کہ اپنی ایک دنیاتوقائم کی۔ ان کی دنیاقائم ودائم رہتی تو اچھا ہوتا لیکن سیانے کہتے ہیں کہ جب امیدکی زنجیریں ٹوٹ جائیں توپھرہوائوں اورفضائوں میں قائم اپنی دنیابھی قائم نہیں رہتی۔۔ پرامیدی کے موسم میں جب اچانک مایوسی کی آفت قہر بن کرنازل ہو توپھردلوں میں امیدکے جلنے والے دیئے بھی تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بجھ جاتے ہیں۔امیدکے دیئے بجھنے پرپھرعاشقوں اورپروانوں کی کیاحالت ہوتی ہے۔۔؟یہ کوئی عمران خان پر اندھا اعتماد کر کے انہیں اپنے لئے مسیحا سمجھنے والے ان ڈاکٹرز، ٹیچرز، تاجر، صنعتکار، سرمایہ کاراورسرکاری افسران سے پوچھیں جو کل تک پروانوں کی طرح شمع تبدیلی کی آگ میں خود کو جلائے جا رہے تھے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ آگ میں کودنے والے پروانوں، دیوانوں اور سونامیوں کا انجام کچھ اچھانہیں ہوتامگرہماری بات پر عمل کون اور کیوں کرتا۔۔؟ ہم جو مفت میں ٹھہرے چوروں اور ڈاکوئوں کے یار۔ خیرہمیں جوغیروں کے یارکہاکرتے تھے وہ بے چارے آج خودپی ٹی آئی کے غداربنے پھرتے ہیں۔کپتان نے صرف دو سال میں ’’ تبدیلی‘‘ کا ایسا جنازہ نکالاکہ اب غم والم میں کوئی اپنابھی تبدیلی شریف کے مزارپرفاتحہ پڑھنے کے لئے تیار نہیں۔ اعلیٰ تعلیم اورشعورمیں ڈبل ایم اے کرنے والے ڈاکٹروں سے لیکرباتوں کے ذریعے مٹی کوسونابنانے والے تاجروں اور ٹیچروںتک بہت سارے ارسطوا ور افلاطون کانوں کوہاتھ لگالگاکرمعافیاں مانگ رہے ہیں۔ یہ نادان اورپاگل کپتان کوبھی نوازشریف اورزرداری سمجھ کران کے سامنے تبدیلی تبدیلی کے نعرے لگاتے رہے۔ یہ سمجھ رہے تھے کہ نوازاورزرداری کی طرح یہ بھی کہیں تبدیلی کے نام پرہمارے ساتھ مذاق کررہے ہیں مگرانہیں یہ نہیں پتہ تھا۔کہ کپتان جب موڈاورفام میں آتاہے تووہ پھراچھااوربرانہیں دیکھتے بلکہ وہ توپھر صرف کھیلتے ہیں اورکھیلتے بھی ایسے ہیں کہ پھردنیایادرکھتی ہے۔ ورلڈکپ 1992کودنیاآج تک نہیں بھولی۔پھرجس تبدیلی کے لئے خان نے 22سال تک طویل جدوجہدکی اس تبدیلی کو آئندہ سوسال تک دنیا کیسے بھول پائے گی۔۔؟ آٹا، چینی ،گھی ،بجلی ،گیس اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ معمولی معمولی اضافے یہ توابھی کچھ نہیں ۔کپتان کو تو چھکے اورچکوںکی پرانی عادت ہے۔ کپتان کوپتہ ہے سکور جتنا زیادہ ہو گا۔ میچ جیتنااتناآسان ہو گا۔ اس لئے وہ دو سال سے مسلسل چھکے اورچوکے مار رہے ہیں۔ آٹے سے لیکرچینی۔۔گھی سے لیکردال اوربجلی سے لیکرگیس تک کونسی چیزایسی ہے جس میں خان نے چھکوں پرچھکے نہیں مارے۔ہم پہلے ہی کہتے رہے کہ سیاست یہ کوئی کرکٹ کاکھیل نہیں لیکن افسوس اچھے بھلے لوگ بھی عقل وشعور استعمال کرنے کی بجائے تبدیلی کے چکروں میں ہمیں شریفوں اورزرداریوں کے ایجنٹ سمجھ بیٹھے۔آج جب چارسوپھیلی مہنگائی نے تبدیلی کی اصلیت اورحقیقت اشکارہ کردی ہے توتبدیلی پرمرمٹنے والے بہت سوں کے ہوش بھی ٹھکانے آگئے ہیں۔وہ نام نہاد دانشور جو صبح وشام تبدیلی کاوردکرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے اب تو وہ بھی تبدیلی پرتھوں کرکے رجوع کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اورکوئی کام کیایانہیں۔۔؟ لیکن ایک کام کا کریڈٹ توان کوجاتاہے کہ انہوں نے انتہائی مختصر عرصے میں تبدیلی کے کیڑے کواس طرح ماردیاہے کہ اب اس ملک میں کوئی بھول کربھی تبدیلی کانام نہیں لے گا۔پہلے تومائیں بچوں کوڈرائونے خواب،قصے اورکہانیاں سناکرڈرایاکرتی تھیں لیکن اب لگتاہے کہ مائیں اپنے بچوں کوتبدیلی کی داستان سناکرڈرایاکریں گی۔جس تبدیلی میں غریب کوکھانے کیلئے روٹی ۔۔بدن ڈھانپنے کے لئے کپڑااورسرچھپانے کیلئے چھت میسرنہ ہو۔جس تبدیلی میں غریب کے بچے بھوک سے بلک بلک کرایڑھیاں رگڑیں اوربھوکے کے سائے تلے ہچکیاں لیتے ہوئے سوئیں۔جس تبدیلی میں صرف آہیں اورسسکیاں ہی ہوں۔جس تبدیلی میں غریبوں کے اناج پربھی آٹااورچینی چوروں کاراج ہو۔اس تبدیلی سے ڈرناواقعی ڈرنا چاہیئے۔ویسے اس قوم کوہرحال میں اپنے کپتان کاشکرادا کرناچاہیئے کہ انہوں نے ان کا ’’ تبدیلی ‘‘ والا دیرینہ خواب جلد پورا کر کے ان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے قرار دلا دیا ورنہ نہ جانے تبدیلی کے چکروں میں یہ بے چارے اور کتنے امتحانات سے گزرتے۔ ویسے کپتان اگراس ملک میں تبدیلی نہ لاتے توکیایہ غریب پھراس طرح زندگی گزارتے۔۔؟جوکام خان کی تبدیلی نے دوسال میں کیاوہ چورنوازشریف اورڈاکوزرداری بیس تیس سال میں بھی نہیں کرسکے ۔اس لئے تبدیلی کے گن گانے والوں کوکپتان کی ،، تاریخی تبدیلی،،اورغریبوں کواس ملک سے چین،سکون اورراحت کا تبادلہ بہت بہت مبارک ہو۔


ای پیپر