معجزے اور ناانصافیاں
13 جولائی 2020 (16:02) 2020-07-13

کائنات کی ہر شے کی عالیشان ترتیب ، ہم آہنگی اور مقصدیت اس خالقِ کائنات کے بے پایاں علم ، اس کی بلاشرکت غیرے ہر شے پر ملکیت، اس کے مطلق العنان ہونے اور اس کی قدرت کی طرف نشاندہی کرتی ہے وہ خدائے واحد ، ہر شے کا پیدا کرنے والا خدا وہی کرتا ہے جو کچھ وہ چاہتا کیونکہ اس کی ذات ان قوانین سے بالاتر ہے۔بنی نوع انسان کی دانش محدود ہے اور ہم تمام اس بات کو تو جانتے ہی ہیں کہ جو محدود ہو وہ لامحدود کے بارے صحیح اندازہ اور علم حاصل نہیں کر سکتا۔جس طرح ہر شخص اپنی قوت کے لحاظ سے دوسرے شخص سے منفرد ہے۔اسی طرح مختلف جانداروں کی انواع میں صلاحیت کا واضح فرق ہے۔ہم چیونٹیوں اور شہد کی مکھی سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں مگر وہ جو کچھ سر انجام دے سکتی ہیں ہم وہ سب نہیں کر سکتے۔اسی طرح نگاہوں سے اوجھل مخلوقات جیسے فرشتے ، جن، حتیٰ کہ آندھی طوفان بنی نوع انسان سے کہیں زیادہ طاقت کے مالک ہو سکتے ہیں ۔پس تمام جسمانی اور عقلی طاقتیں اور صلاحیتیں اسی ایک یکتائی کے مالک کی ذات میں مجتمع ہیں ۔ اگر وہی سب سے زیادہ طاقت کا مالک کسی بھی شے کو جیسے بھی وہ چاہے اپنی قدرت کے ذریعہ کر سکتا ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں جو اس کے معجزات کو سچ تسلیم نہ کریں ؟ جہاں تک معجزوں کا تعلق ہے ان کا انکار نہیں بلکہ انہیں تسلیم کر لینا عقلی اور سائنسی ہر دولحاظ سے مناسب ہے۔جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے معجزے رونما ہوتے آئے۔آج بھی معجزے رونما ہونے بند نہیں ہوئے اور میرا ان معجزوں پر اتناہی یقین ہے جتنا اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات پر کیونکہ یہ معجزے وہی ذات باری تعالیٰ ہی دکھا سکتی ہے۔تین /چار دہائیاں پہلے حضرت پیر سید صفدر بخاری قلندر پاک نے جوسورہ رحمن کے ذریعے علاج شروع کیا ہے وہ بلاشبہ ایک معجزہ ہے اور اس سے کینسر کے مریض جو آخری سطح پر ہوتے ہیں صر ف سات دن سورہ رحمن سننے کے بعد بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔یہ ایک معجزہ ہی ہے لیکن اس

موضوع پر پھر کسی وقت قسطوار کالم لکھوں گا۔ آج میں ایک اعلیٰ عدلیہ کی ناانصافی پر لکھنا چاہتا ہوں ۔ تقریباً 12/10سال پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کا پرویز مشرف سے اختلاف ہوا تو ایک دن وہ باہرسڑک پر تشریف لائے تو اسلام آباد کی ساری انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔اس دوران ایک ایسی پکچر بن گئی جس سے یہ محسو س ہو رہا ہو جیسے کوئی پولیس والا چیف جسٹس صاحب کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔اصل میں وہاں لوگ زیادہ جمع ہو گئے تھے اور ایک پولیس اہلکار ہاتھ آگے بڑھا کر لوگوں کو چیف جسٹس صاحب سے دور کر رہا تھا۔خبر یہ شائع ہوئی کہ جمیل ہاشمی نے چیف جسٹس صاحب کو بالوں سے پکڑنے کی کوشش کی تھی۔جمیل ہاشمی صاحب پر مقدمہ بن گیا ۔ میرا چونکہ افتخار محمد چوہدری صاحب سے بھی محبت کا رشتہ تھا ور پھر ان کے کچھ مجھ پر احسانات بھی تھے۔ مجھے خود بھی اس بات کا دکھ تھا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو بہت غلط ہوا ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد اتفاق سے مدینہ شریف مسجدِ نبوی میں ریاض الجنہ کے مقام پر جمیل ہاشمی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔میں نے بات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جمیل ہاشمی سے وہی سوال پوچھا تو جمیل ہاشمی صاحب جذباتی انداز میں مجھے روضۂ رسول کی جالی کے پاس لے گئے۔انہوں نے ایک ہا تھ سے روضے کی جالی کو پکڑا اور دوسرا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر اتنے زور سے حلفاً یہ الفاظ کہے کہ میں تو سرے سے اس موقع یا جگہ پرموجود ہی نہیں تھا۔مجھ پر محض الزام ہے۔اس مقام کی حرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور جمیل ہاشمی کے جذبات سے لرزتے ہاتھوں کومحسوس کرتے ہوئے مجھے ذاتی طور پر بھی پسینہ آ گیا۔میں نے جمیل ہاشمی صاحب کو گلے لگایا اور دل میں ایک وعدہ کیاکہ بحیثیت صحافی جمیل ہاشمی صاحب کے اس انداز اور ان جذبات میں اس دنیا کی سب سے زیادہ حرمت والی جگہ پر اٹھائی جانے والی قسم سے عوام کو آگاہ کر سکوں کہ یہ سب کچھ محض الزام اور من گھڑت خبر کا نتیجہ تھا۔جس مقام پر ہماری یہ گفتگو اور حلف کی رسم ہوئی بحیثیت صحافی میرا یہ فرض بن گیا تھا کہ اس پر کالم لکھوں ۔اس کالم کا اثر بھی ہوا اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کمال شفقت اور محبت سے میرے لکھے ہوئے الفاظ کو سچ مانتے ہوئے مقدمے کی فائل کو داخل دفتر کر دیا۔پھر جناب ثاقب نثار چیف جسٹس بن گئے ۔ انہوں نے ازخود نوٹسز لئے۔ہسپتالوں ، گلیوں ، نالیوں ، کچن اور واش رومز تک بنفس نفیس جا کر چیک کرنا شروع کر دئیے۔بہت سارے سوئیپرز اور نرسز کو برخواست بھی کیا۔وہ چاہتے تھے کہ ہر روز صفحے اول کی خبریں میری ہی ہوں۔اسی جوش و جذبے میں انہوں نے جمیل ہاشمی والی فائل بھی دوبارہ نکلوا لی اور جمیل ہاشمی کو ایک مہینہ سول جیل بھیج دیا۔جب ان کو پولیس کے سخت پہرے میں جیل کی طرف روانہ کیا گیا تو انہوں نے میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر صرف اتنا کہا کہ پاکستان کا قانون اندھا ہے تو میں نے ساتھ ہی کہا کہ صرف اندھا نہیں بہرہ اور شہرت زدہ بھی ہے۔صرف سستی شہرت کے لئے ان کو یہ سزا دی گئی۔ مقدمے میں دو باتیں ہوتی ہیں جھوٹا یا سچا۔اگر جمیل ہاشمی نے چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑا تھا تو پھر اس کی سزا ایک مہینہ نہیں کم از کم تین سال ہونی چاہیئے تھی اور اگر وہ بالکل موجود ہی نہیں تھے تو پھر جمیل ہاشمی کو باعزت بری کر دینا چاہیئے تھا۔ ایک مہینے کی سزا سمجھ سے باہر ہے۔دوسرا کورٹ میں قرآن اٹھا کر حلف لینے والی رسم بھی ختم ہونی چاہیئے۔جب حلف کو ماننا ہی نہیں ہوتا تو حلف لینے کا فائدہ کیا؟ اگر حلف کا کچھ اثر تھا تو پھر روضہ ٔ رسول پر روضے کی جالی پکڑ کر ہم تین چار لوگوں کے سامنے حلف دینے سے بڑا حلف اور ہو بھی کیا سکتا تھااور پھر بحیثیت صحافی میں نے اس حلف کانوائے وقت سمیت بہت سارے قومی اخبارات میں ذکر بھی کیا تھا۔اب میں صرف جمیل ہاشمی صاحب کی اولاد، ان کے اہلِ خانہ ، رشتہ داروں ، اہلِ علاقہ اور محکمہ ٔ پولیس کو حلفاً یہ بتا رہا ہوں کہ جمیل ہاشمی اس مقدمے میں بالکل ہی بے گناہ تھے۔ان کو ناحق سزا دی گئی اور سزا جمیل ہاشمی کو ہوئی لیکن دکھ مجھے ساری زندگی رہے گا کہ اتنی مقدس جگہ پر دئیے جانے والے حلف پر یقین نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اپنی 37سالہ سروس انتہائی عزت واحترام سے کی۔اللہ تبارک تعالیٰ ان کی آئندہ زندگی کے لئے آسانیاں فرمائے۔ آمین۔


ای پیپر