دورۂ امریکہ
13 جولائی 2019 2019-07-13

وزیراعظم عمران خان 22 جولائی کو امریکہ کے سرکاری دورے پر روانگی کے لیے پا بہ رکاب ہیں… پاکستان کے ہر سربراہ مملکت یا حکومت کی خواہش ہوتی ہے اسے اقتدار سنبھالنے کے بعد جلد از جلد واشنگٹن کے حکمرانوں کے حضور پیش ہونے اور اُن کی آشیر باد ملنے کے ساتھ مالی اور فوجی امداد کے حصول میں کوئی بڑی کامیابی مل جائے… اپنے دورے کو کامیاب بنانے کے لیے عمران خان یقینا بھرپور تیاری کر رہے ہوں گے… یہ تیاری کن خطوط پر کی جا رہی ہے اور ہمارے موجودہ سربراہِ حکومت فوری طور پر کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں، اُن کے بارے میں تعین کے ساتھ کچھ معلوم نہیں ہو پا رہا… البتہ امریکہ سے آنے والی خبریں مترشح ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں براجمان موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے بہت سی توقعات باندھے ہوئے ہیں… وہ پاکستانی حکمرانوں کا تعاون حاصل کر کے افغان مسئلے کا جلد از جلد حل چاہتے ہیں تا کہ ٹرمپ صاحب آئندہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات کے اکھاڑے میں اتریں تو ان کے ہاتھوں میں 18 سالہ طویل ترین جنگ سے باعزت طریقے کے ساتھ نجات حاصل کرنے کا جھنڈا ہو جسے وہ اپنے ووٹروں کے سامنے لہرا کر ان کی تائید و حمایت حاصل کر سکیں… امریکہ کو اس جنگ میں بلا شبہ شکست ہو چکی ہے لیکن وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس ناکامی پر ایسا پردہ ڈال کر اپنی فوجوں کو واپس بلانا چاہتا ہے کہ کسی کو شکست کا داغ نظر نہ آئے اور ملک افغاناں سمیت پورے خطے میں اس کا اثر و رسوخ پہلے کی طرح برقرار رہے… ظاہر ہے اس کام میں سب سے بڑا مددگار پاکستان ہو سکتا ہے… اس لیے جناب ڈونلڈ ٹرمپ 23 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں ہمارے وزیراعظم کے منتظرہوں گے… ٹرمپ صاحب امریکہ کی صنعتی، کاروباری اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ اور سب سے پرانی سیاسی جماعت ری پبلیکن پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے… اسی پلیٹ فارم پر وہ اگلا انتخاب لڑیں گے… ری پبلیکن پارٹی کے ہمیشہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے ساتھ براہ راست اور گہرے تعلقات رہے ہیں… یہ جماعت ایوب خان کا مارشل لاء لانے میں براہ راست مددگار بنی تھی… جنرل یحییٰ سے اسی نے کام لیا اور 80 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کو افغان جنگ کے دوران اپنے گھوڑے کے طور پر خوب دوڑایا…2001ء میں 9/11 کا وقوعہ برپا ہوا تو ری پبلیکن پارٹی کے صدر جارج بش نے ہمارے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو پہلے دھمکی دی… انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا تو اپنی گود میں بٹھایا… بش اور مش ایک ہو گئے… اس کے نتیجے میں موجودہ 18 سالہ افغان جنگ کا آغاز ہوا… پاکستان نے تمام وسائل واحد سپر طاقت کے قدموں میں رکھ دیئے اور جنرل مشرف کے غیر آئینی اقدار کو ایوب، یحییٰ اور ضیاء الحق کی مانند امریکی سپر طاقت کی سرپرستی حاصل رہی لیکن اب شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ عمران خان ایک سویلین وزیراعظم کی حیثیت سے ری پبلیکن صدر سے ملنے جا رہے ہیں تاہم امریکہ کو اطمینان حاصل ہے کہ اس حکومت کے پیچھے ارض پاک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ ملک کے اندر اپنی پوری داخلی طاقت کے ساتھ کھڑی ہے… دفاعی اور خارجہ پالیسی کے امور میں اسے فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے… خبر تو یہ بھی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور موجودہ جی ڈی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید ان کے ہمراہ ہوں گے جو اپنی جگہ ایک منفرد واقعہ ہو گا اگر یہ دونوں حضرات وزیراعظم بہادر کے ساتھ نہ بھی گئے تو امکان ہے فوراً بعد امریکہ کے دورے پر جائیں گے… یوں امریکی اسٹیبلشمنٹ کو یقین ہو پائے گا کہ جو کچھ پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ طے ہوا ہے، ویسے وہاں کی اصل فیصلہ کن طاقت کی تائید و حمایت حاصل ہے… اسی تناظر میں امریکہ کے آنے والے جائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارک ملی کا کانگریس کے سامنے بیان ملاحظہ کیجئے کہ ہم افغانستان سے مکمل انخلاء کی غلطی نہیں کریں گے اور پاکستان کے ساتھ فوجی تعلقات استوار کریں گے…

اس سے قطع نظر عمران خان اپنے ملک کو جس حال میں چھوڑ کر امریکہ کے لیے عازم سفر ہوں گے… ظاہر ہے اس کے ایک ایک لمحے کی خبر بھی واشنگٹن والوں کو اپنے سفارت خانے کی رپورٹوں اور ذرائع ابلاغ کی مستند اطلاعات کے ذریعے مل رہی ہو گی… ہفتہ 13 جولائی کو جبکہ یہ سطور رقم کی جا رہی ہیں اور دورہ شروع ہونے میں ایک ہفتہ باقی ہے… کراچی اور کوئٹہ سے لے کر سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی اور عمران خان کے سیاسی گڑھ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور تک بڑے صنعتکاروں، تاجروں حتیٰ کہ گلی محلے کے پرچون فروشوں تک سب نے ہڑتال کر رکھی ہے… صنعتیں بند ہیں، مارکیٹوں میں ہُو کا عالم ہے اور

چھوٹے بڑے دکاندار ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کے گراف کو آسمان کی بلندیوں کو چھو جانے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں… دوسری جانب عدلیہ کا اتنا بڑا بحران اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسانہ ہوا ہو گا… ایک دو عدالتوں یا کچھ ججوں کا معاملہ نہیں ہے… اگر بحران سنبھل نہ پایا تو پورے کے پورے عدالتی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے… اس کی ساکھ ملیا میٹ ہو کر رہ جائے گی…جس طرح کے مقدمات زیر بحث ہیں اور ان کی تفصیلات سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہو چکا ہے اور یہ سب کچھ اس حد تک تشویشناک ہے کہ خود حکمرانوں اور چوٹی کے جج حضرات کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس پر پردہ ڈالیں تو کیسے اور ختم کریں تو کیونکر؟ … عدلیہ کے بڑے بڑے ناموں کے چہروں سے نقاب اُٹھا چاہتا ہے… اسی عدلیہ کے متنازع فیصلوں نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی… اب وہ اور ان کی حکومت پائے ماندن نہ جائے رفتن جیسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں… اس سب پر مستزاد یہ کہ آزادی اظہار پر جس طرح کی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، اخبارات اور ٹیلی ویژن کے اداروں کی آزادیاں عملاً چھین لی گئیں ہیں… سوشل میڈیا پر جا کر غبار نکالنے والوں کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور نوبت با ایں جا رسید کہ ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو لندن میں منعقد ہونے والی ایک میڈیا کانفرنس میں خالی کرسیوں سے مخاطب ہونا پڑا… کیونکہ بین الاقوامی ابلاغی اداروں کے نمائندگان احتجاجاً اُٹھ کر چلے گئے تھے… یہی نہیں معاملات حکومت پر وزیراعظم کی ذاتی گرفت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے ایک وزیر مملکت سے خوش ہو کر پوری وزارت اس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا… آئی ایم ایف کے چنیدہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ سے ریونو کا محکمہ لے کر حماد اظہر صاحب کے ہاتھوں میں دینے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا… حفیظ شیخ اتنے سیخ پا ہوئے کہ اطلاعات کے مطابق مستعفی ہونے کی دھمکی دے ڈالی… وزیراعظم بہادر کے لیے فوراً یو ٹرن لینے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا… حفیظ شیخ کی ناراضگی مول نہ لے سکتے تھے… 24 گھنٹے کے اندر حماد اظہر کو اقتصادی منصوبہ بندی کی وزارت پر ٹرخا کر کھڈے لائن لگانے پر مجبور ہوئے… یہ تو خیر ان کی حکومت کا اندرونی معاملہ ہے… پارلیمنٹ جو جمہوری اقتدار کا اصل مرکز سمجھی جاتی ہے اس کا ایوان بالا سینیٹ جو پورے ملک کے اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں جناب عمران کی جماعت کو پہلے ہی اکثریت حاصل نہ تھی … اب جو اپوزیشن کی جماعتوں نے مل کر اس ایوان کے چیئرمین کے خلف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے اگر منظور ہو گئی تو قانون سازی کے میدان میں حکومت کی عملداری بری طرح متاثر ہو گی اور اس کی نمائندہ حیثیت پر بڑا حرف آئے گا… عمران خان قیام واشنگٹن کے دوران اپنے سفارت خانے کے اندر رہائش پزیر ہونگے… کیونکہ کیلی فورنیا کی ایک عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے… اس میں مطلوب ہیں… سفارت خانے میں مقیم ہونے کی وجہ سے پاکستانی قوم کی نمائندگی کرنے والی شخصیت کو استثناء حاصل ہو گا…

یہ ہے وہ توشہ جسے لے کر ہمارے وزیراعظم بہادر وائٹ میں قدم رنجاں ہوں گے… اس کمزور پوزیشن کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اعلیٰ ترین امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کے عمل سے گزریں گے تو سودا بازی کرتے وقت مہمان کے مقابلے میں میزبانوں کا کام آسان تر ہو جائے گا… جیسا کہ ری پبلیکن پارٹی کے صدور اور زعماد کا ٹریک ریکارڈ ہے وہ پاکستان کی فوجی قیادت کا زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور اسی کو اپنے بھروسے کے لائق سمجھتے ہیں… فوجی حکمرانوں کی ایک کمزوری سے انہوں نے ہمیشہ فائدہ اٹھایا اور وہ تھی ان کی آئینی جواز سے محرومی… امریکیوں نے ان کی اس کمزور پوزیشن سے ہمیشہ اور خوب فائدہ اٹھایا… اب عمران خان اپنی داخلی سیاست کی کمزور ترین پوزیشن کے ساتھ ان کے سامنے ہوں گے تو وہ ان کے ساتھ کس طرح کھیلیں گے اس کا اندازہ دورے کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا… ہمارے خان بہادر نے البتہ آئی ایم ایف کے ساتھ ساڑھے چھ ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کے لیے اس ادارے کے ساتھ دوران مذاکرات جس صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اس سے عیاں ہوتا ہے کہ موصوف اپنے دعوؤں سے قطع نظر سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں… آئی ایم ایف کی کڑی ترین شرائط پر سمجھوتہ کرنے سے پہلے انہوں نے اپنے دیرنہ اور با اعتماد ساتھی اسد عمرسے وزارت خزانہ چھین لی… ان کی جگہ اس ادارے کے تجویز کردہ بندے کو لا بٹھایا پھر سٹیٹ بینک کے نہایت درجہ قابل اور ایمان دار گورنر طارق باجوہ کو اٹھا باہر پھینکا… یہ عہدہ آئی ایم ایف کے مصر میں متعین ایک ملازم رضا باقر کے ہاتھوں میں دے دیا… ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت چالیس فیصد تک نیچے گر جانے میں کوئی عذر محسوس نہ کیا… اس کے بعد ٹیکسوں کی بھرمار کر دینے والا بجٹ منظور کر کے نافذ کیا… پھر آئی ایم ایف نے ہماری حکومت کو اس قابل سمجھا کہ اس کے ساتھ ساڑھے چھ ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری دے… طرفہ تماشا ملاحظہ کیجیے کہ معاہدے پر پاکستان کی جانب سے دستخط کرنے والے بھی ڈاکٹر حفیظ شیخ اور جناب رضا باقر تھے… یعنی آئی ایم ایف نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے نام پر معاہدہ کیا… امریکی جب عمران خان سے معاملات طے کریں گے تو ظاہر بات ہے کہ وہ صورت حال سے ناواقف نہیں ہوں گے… آئی ایم ایف تو کام ہی ان کی نگرانی میں کرتی ہے… اب جو ہمارے پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ افغانستان کی ہاری ہوئی جنگ کو فتح کے غلاف میں لپیٹنے کے لیے ہمارے خطے کے بارے میں سٹریٹجک معاملات طے کریں گے تو ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی کیا کچھ منوانے میں کامیاب ہوں گے کیا نہیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ برس انتخابی کامیابی کا بڑی حد تک انحصار افغانستان کے بارے میں پاکستان اور طالبان کے ساتھ معاہدے پر ہو گا… اسی لیے یہ دیکھنا انتہا درجے کی اہمیت رکھتا ہے کہ عمران خان اس معاملے پر کچھ طے کرتے ہیں… معاملہ صرف افغان مسئلے تک محدود نہیں رہے گا … سی پیک بھی امریکہ کی نظروں میں کھٹکتا ہے … وزیراعظم کے صلاح کاروں میں ایک مضبوط امریکی لابی پائی جاتی ہے… اسی کے رسوخ کی وجہ سے سی پیک کے رفتار کار میں سست روی آ گئی ہے… اگرچہ اس عظیم منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے… امریکہ کے کہنے پر اسے کس حد تک پس پشت ڈالا جائے گا یا نہیں اس کا جائزہ لینا بھی از حد ضروری ہو گا … پھر ایران کے ساتھ امریکہ کی نہ ختم ہونے والی مخاصمت میں وہ پاکستان سے کس کردار کی توقع رکھے گا اور آخر میں غیر معمولی اہمیت کی حامل یہ بات کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے برس دوسری مرتبہ صدر امریکہ منتخب ہو گئے تو ان کی خوفناک نظریں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر پڑ جائیں گی… ہمارے سول اور عسکری حکمران موجودہ دورۂ امریکہ کے دوران اس خطرے کی کیا پیش بندی کر کے واپس آتے ہیں اسی میں ان کا اصلی امتحان پایا جاتا ہے…


ای پیپر