سراپا تجلیٔ افرنگ
13 جولائی 2019 2019-07-13

بات صرف اتنی تو نہیں کہ اب روٹی کا لقمہ بھی چھن جانے کو ہے۔ ( آٹے پر بھی جی ایس ٹی کا نفاذ) دل ، شکم دونوں ہی دائو پر لگ چکے۔ اقبال نے تو کہا تھا ، فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم! پرویز مشرف کے دور میں ہم یہ تڑپتے رہے کہ دل بیچ کر پیٹ بھرنے کے فیصلے کیے گئے۔ ڈالروں کی خاطر نظریہ پاکستان بیچا۔ کشمیر سے ہاتھ اٹھالیے۔ افغانستان سے اخوت کا رشتہ شکمی یوٹرن کی بھینٹ چڑھا۔ عورت، کیٹ واک، بل بورڈوں، چوراہوں شاپنگ مالوں کی زینت بنی۔ نصاب تعلیم بدلے گئے۔ اس دوران عمران خان مسلم شناخت کی بات ، برائون صاب کے پیرائے میں گفتگو کرتے پائے جاتے رہے۔ ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی خود مختاری کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ لوگوں نے یہ سمجھا کہ شکم کے مقابل یہ ہماری دل دہی کریں گے۔ کرسی ملنے کی دیر تھی کہ ہم دل اور شکم دونوں ہی سے محروم کیے جانے لگے۔ شکم کی طراوت کے سارے اسباب آئی ایم ایف لوٹ لے گیا۔ دل پر بہکی بہکی باتوں سے مسلسل حملے خود عمران خان کر رہے ہیں۔ جو کسر باقی تھی وہ مشرفی وزیر بے تدبیرفواد چوہدری پوری کرنے کو موجود ہیں۔ ہم نے پڑھا تھا کہ:

قوم کی تاریخ سے جو بے خبر ہو جائے گا

رفتہ رفتہ آدمیت کھو کے خر ہو جائے گا

اسلامی تاریخ، برصغیر پاک و ہند کی تاریخ سبھی سے ان کی لا علمی بے خبری ریکارڈ شکن ہے۔ اب جو رنجیت سنگھ کا مجسمہ شاہی قلعہ لاہور میں ایستادہ فرما کر ’شیر پنجاب‘ کے عنوان سے (عوام سے پوچھے بغیر) رونمائی کی گئی تو عقدہ کھلا کہ ان کا ذہنی افق سکھوں سے قریب تر ہے۔ فواد چوہدری نے ٹویٹ میں رنجیت سنگھ کو ’ پنجابی بالادستی‘ کی علامت قرار دیا۔ فخریہ فرمایا: وہ جنگجو یانہ، جارحانہ قوت کے ساتھ حکمرانی کرتا رہا۔اپنی حکومتی اصلاحات کی بنا پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ (قیام پاکستان، پنجابی بالادستی، کے لیے ہوا تھا ؟ سکھوں سے کٹ لٹ کر خونچکاں لاشیں اس دن کے لیے تھیں؟) یہ جارحانہ قوت استعمال کس کے خلاف ہوئی؟ مسلمانوں اور ان کے مقدس مقامات اور 1947 ء کی طرح بیٹیوں کی تقدیس کے خلاف! تاہم اس مشرفی وزیر کو مساجد سے جو لگائو ہے وہ تو لال مسجد آپریشن سے ہی واضح ہے۔ جناب کے ممدوح کا بھی ہدف مساجد ہی تھیں۔ شاہی مسجد کو گھوڑوں کا اصطبل اور اسلحہ ڈپو بنایا۔ سنہری مسجد گائے کے گوبر سے لیپی گئی۔ چینیاں والی مسجد تباہ کی گئی۔ موتی مسجد کا گردوارہ بنا دیا۔ مساجد سے ، مغل مقبروں سے سونا چاندی جھاڑ فانوس سنگ مرمر چرایا گیا، جو بعد ازاں عمران خان کے ممدوح برطانیہ نے اپنے لیے سکھوں سے چھین لیا۔ احمد شاہ ابدالی اور سید احمد شہید کی تحریک مجاہدین جو سکھوں کے خلاف بر سر پیکار رہے، کی جگہ نئی نسل کو کانا دجال کے آنے تک کانے رنجیت سنگھ کا گرویدہ کرنے کا اہتمام ہیں؟ کورنگا ہی کا یہ عالم! اگلا مجسمہ سندھ کے ہیرو راجہ داہر کا کھڑا فرمائیں گے؟ جبکہ حج کے قافلے رواں دواں ہیں بت شکن باپ ابراہیم علیہ السلام کے نقش پا پر قدم قدم چلنے کو ! جنہوں نے اپنے باپ اور پجاری قوم کے سارے بت توڑ کر کہا تھا۔ اُف لکم و لما تعبدون من دون اللہ، فٹے منہ تمہارا اور ان کا جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو،۔ ( ترجمہ: انجینئر مختار فاروقی) انہی بتوں کو فتح مکہ پر نبی ؐ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا کی نوک سے گرا کر پاش پاش کیا۔ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔بلاشبہ باطل تو مٹنے والا ہے، پڑھتے ہوئے۔ ریاست مدینہ کا پہاڑہ پڑھنے والے، ٹوٹے مٹے بتوں کو دوبارہ اٹھا کھڑا کر کے یہ سکھ پرست اسلام سے کھیل رہے ہیں یا عوام کی عقلوں سے؟ ہم نسل در نسل بت شکنی کی تاریخ کے حامل ہیں۔ محمود غزنوی کہ جن پر اقبال نے کہا:

قوم اپنی جوزر و مال جہاں پر مرتی

بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی!

اور پھر بت شکن ہی ہمیشہ تاریخ میں زندہ و پائندہ رہے۔ محمود غزنوی سے ملا عمرؒ تک! ساری دنیا کا دبائو مسترد کر کے، تنگ دستی اور معاشی بد حالی کے مشکل دور میں بُدھا کا مجسمہ ملا عمرؒ نے پاش پاش کیا۔آج یہی نہتے بت شکن امریکہ کو اپنی ساری شرائط منوا کر گھٹنہ ٹیک انخلا تک لے آئے ہیں۔ کھسیانے ہو کر ٹرمپ نے دوحہ مذاکرات کے بعد کہا۔ ’ ہم مستعد مضبوط جاسوس خفیہ ٹیم کا ایسا نیٹ ورک افغانستان میں چھوڑ کرجائیں گے جس کے بارے عام لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ مجھے ڈر ہے کہ افغانستان دہشت گردی کی تجربہ گاہ ہے۔ یہ دہشت گرد زیادہ منظم مضبوط ہو کر امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کریں گے! یہ دعویٰ اور خوف، محلِ نظر ہے۔ گلوبل سپر پاور ایک اجڑے کھنڈر ملک کے تہی دامن مجاہدین سے خوفزدہ ہے؟ چاند پر تھگلیاں لگاتی، اسلحے کے انباروں میں دھنسی، نہایت ہائی ٹیک قوت، نہتے طالبان ( صرف راکٹ لانچر کلاشنکوف اور IED کے ہانڈی بموں سے لیس) سے دہشت زدہ ہے؟ مستعد مضبوط خفیہ ٹیم اگر 18 سال آپ کا بھلا نہ کر پائی تو اب کون سی گیڈر سنگھی ہاتھ لگی ہے جو 49 ممالک سے نمٹنے والوں سے نمٹے گی؟ یہ واقعی کمال کے ’ دہشت گرد‘ ہیں۔ جنہوں نے سپر پاور پر دہشت اور لرزا طاری کر رکھا ہے۔ نبی ؐ صلی علیہ وسلم کو ایک ماہ کی مسافت کا رعب عطا ہوا تھا۔ امتی بقدرِ اتباع اس رعب سے حصہ پاتے ہیں۔ اس رعب کا منبع اسلحہ اور ٹیکنالوجی نہیں ایمان ہوا کرتا ہے۔ تہی دامنی پر کافر مجسمے باقی بچتے ہیں۔ ابھی ہم اس تہی دامنی پر ماتم کناں تھے کہ جدّہ میں امریکی مجسمہ آزادی، امریکہ کے یوم آزادی (4 جولائی) کے تناظر میں لا کھڑا کیا گیا ۔(عرب نیوز رپورٹ، 6 جولائی) ۔ سارا عرب میڈیا اس نرالی حرکت پر انگشت بدنداں ہے۔ امریکی جھنڈے، لاس ویگس ( جوئے کا امریکی مرکز) ہالی وڈ اور ایلوس پر سلے ( امریکی بھانڈ) کی علامت کے ہمراہ سٹیج پر دعوت رقص و سرور دیتا یہ مجسمہ، ( خانہ کعبہ سے 80 کلو میٹر) فتنہ دجال کی خوفناک علامت ہے۔ ایسے وقت جب حاجیوں کے قافلے لبیک پکارتے ایک عالم سرشاری میں عازم حرمین ہیں! یاد رہے کہ مجسمٔہ آزادی، رومن دیوی ’لبرٹاس‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ توحید کے مرکز میں ڈھائی ہزار سال قدیمی جہالت، قبل مسیح کے دیو مالائی شرکیہ تصورات سے آلودہ اس مجسمے میں کون سی جدّت اور جدیدیت پائی جاتی ہے؟مسلم دنیا آج فواد چوہدریوں کی زد میں ہے۔ غلامانہ ذہنیت کہیں مندروں گردواروں کو مسلم عوام پر مسلط کر رہی ہے۔ کہیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو ہیرو بنا کر سینے پر مونگ دل رہی ہے ۔ یا حییُ یا قیوم بر حمتک استغیث۔ اے زندہ رہنے والے اے قائم و دائم آقا، اپنی رحمت کے ساتھ اس امت کے حال پر توجہ فرما مدد کو آ! یہ دلدوز آہ بلا سبب تو نہیں۔ابھی تو ہمارے وزیر اعظم نے اپنے بچوں کے ننھیالی وطن برطانیہ کو بھی ریاست مدینہ ہی کی روح بیان فرما دیا ہے۔ ددھیال ہی کی مانند! نیز یہ بھی فرمایا کہ چینی قیادت نے بھی محمد ؐ کا اتباع کرتے ہوئے سات سو ملین لوگوں کو غربت سے بچا لیا۔ ( ایغور مسلمانوں سے پوچھیے!) کوئی تو یہ مہربانی فرمائے کہ ہمارے حکمرانوں سے تمام اسلامی لیبل واپس لے لے اور انہیں ہر جگہ چسپاں کر کے بے وقعت کرنے کے گناہ عظیم سے بچائے۔ برطانیہ؟ جہاں اخلاقی گراوٹ کے پاتالوں میں دھنسے ہم جنس پرستوں نے ’ پرائیڈ پریڈ‘ فرمائی۔ان جاہل اجڈ بد معاشوں کی فخرو ناز جتانے اور حقوق بٹورنے کی عالمی مہم۔ جس برطانیہ میں 52 سال پہلے تک یہ جرم تھا اب فتنہ دجال کے ہاتھوں وہاں یہ فخر کا مقام ٹھہرا۔ قانونی قرار پا چکا۔ یہ ہے ہمارے حکمرانوں کی بصیرت افروز نگاہ! رنجیت سنگھ سے یک جہتی کی یا وہ گوئی مسلم عوام سے مینڈیٹ لیکر ؟ یہ مجسمہ فواد چوہدری اپنے گھر کے صحن میں سجائیں۔ ’دلوں میں ان کے باطل پرستی کے ہاتھوں بچھڑا ہی بسا ہوا ہے۔ کہو: اگر تم مومن ہو تو یہ عجب ایماں ہے جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے‘۔ ( البقرہ:93 ) سو یہ مغرب پرستی کا بچھڑا رگ و پے میں سمایا ہوا ہے۔ ان حکمرانوں کا میکہ برطانیہ امریکہ دوبئی ہے۔ ملک تو صرف ان کی کمی کمین رعایا ( ہر حکمرانی کے ذریعے) نچوڑنے اور میکے والوں کی فرمائشیں عوام پر لاگو کر کے وصول کرنے کو ہے۔ ان کی اولادیں، جائیدادیں، عیش و طرب سبھی وہاں سے منسلک ہیں۔

ترا وجود سراپا تجلی افرنگ

کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر


ای پیپر