بھارت کی شکست اور پاکستان کی پانچویں پوزیشن!
13 جولائی 2019 2019-07-13

خیال تھا کہ محترم مختار مسعود مرحوم کی تصنیف ــ"حرفِ شوق"کے بارے میں تذکرے کو تمام کیا جائے گا لیکن بیچ میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے سیمی فائنل مقابلوں میں بھارت کی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست اور اگلے دن برطانیہ کے ہاتھوں دفاعی چمپیئن آسٹریلیا کی شکست کے معاملات سامنے آگئے۔ کرکٹ کی الف ۔ ب سے آگاہی نہ رکھنے کے باوجود ایک پاکستانی کے جذبات و احساسات سے مغلوب ہو کر بھارت اور آسٹریلیا کی شکست کو بالخصوص بھارت کی شکست کا تذکرہ قلم کو کچھ زیادہ مرغوب لگا اور اسی موضوع پر اظہار ِ خیال کیا جا رہا ہے۔ نیوزی لینڈ نے بھارت کو 18رنز سے شکست دے کر اتوار کو کھیلے جانے والے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا اور دوسری طرف انگلینڈ نے بھی آسٹریلیا کو 8وکٹوں سے شکست دے کر فائنل مقابلے میں حصہ لینے کا اپنے آپ کو حقدار بنا لیا۔ نیوزی لینڈ کے 239 رنز کے تعاقب میں بھارت کی پوری ٹیم 221رنز بنا کر آوٹ ہوگئی۔ بھارت کے سٹار بیٹسمین رویت شرما اور کپتان ویرات کوہلی صرف ایک ایک رنز بنا سکے۔ کوئی توقع نہیں کر رہا تھا کہ بھارت کو اس طرح شرمناک شکست سے دو چار ہونا پڑے گا۔ مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ کرکٹ گراونڈ میں پہلے دن کھیل مکمل نہ ہو سکا بارش کی وجہ سے کھیل روکنا پڑا تو نیوزی لینڈ کی ٹیم 46.1 اوورز میں 211رنز بنا سکی تھی۔ اگلے دن کھیل دوبارہ شروع ہوا تو نیوزی لینڈ کی ٹیم بقایا اوورز کے کھیل میں سکو ر کو بمشکل 239رنز تک لے جانے میں کامیاب ہوسکی۔ عام خیال یہی تھا کہ بھارت اس ٹوٹل کو بڑی آسانی سے حاصل کر لے گا۔ لیکن کرکٹ جسے چانسز کا کھیل کہا جاتا ہے اور جس میں جذبے ، ولولے اور کھلاڑیوں کی باڈی لیگنونج اور ذہنی مضبوطی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، بھارتی سُورما ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ میچ پر کوئی ماہرانہ تبصرہ یا اس کا کوئی تنقیدی جائزہ یا بھارتی کھلاڑیوں کی خامیوں اور کوتاہیوں اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کی مہارت اور مقابلتاً بہتر کارکردگی کے بارے میں رائے دینے کے اہل نہیں ہوں۔ میں اس کو ایک اورنقطہ نظر سے دیکھتا ہوں وہ ایک پاکستانی کا نقطہ نظر ہے جسے میں بُھلا نہیں سکتا کوئی اگر سپورٹ مین سپرٹ کا حوالہ دے کر مجھے اس سے باز رکھنے کی کوشش کرے تو شاید پھر بھی میں ایسا نہ کر سکوں۔

بھارت نے انگلینڈ کے خلاف اپنے لیگ میچ میں جو پاکستان کے لیے اہم تھا کہ بھارت اگر انگلینڈ کو اس میچ میں شکست سے دو چار کر دیتا تو پاکستان پوائنٹ ٹیبل پر انگلینڈ سے آگے ہوتا اور اس صورت میں پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے لیکن بھارت یہ میچ جس پھسپھسے انداز میں کھیلا او ر ایک فائٹنگ اور جنگجو ٹیم کا روپ دھار کر فتح حاصل کرنے کی بجائے ایک شکست خوردہ ٹیم کی کارکردگی دیکھاتے ہوئے اُس نے شکست کو سینے سے لگایا اور انگلینڈ کو فتح کی صورت میں دو پوائنٹ لینے کا موقع دیا، اس سے بھارت کے بارے میں یہ تاثر عام ہوا کہ چونکہ وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا روایتی حریف پاکستان سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرے لہذا اُس نے انگلینڈ کے خلاف جان توڑ مقابلہ کرنے کی بجائے شکست کو قبول کرنا زیادہ بہتر سمجھا۔ بھارت کو انگلینڈ سے شکست کی صورت میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ اُس کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی راہ مسدود ہوگی لہٰذا اُس کے سٹار بیٹسمین جو بالوں کو ہوا میں اُچھال کر رنز کے پہاڑ کھڑے کر رہے تھے وہ انگلینڈ کے خلاف ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے چوکے اور چھکے مارنے کے لیے زور دار شارٹ کھیلنے کی بجائے سنگل یا دو رنز لینے والے شارٹ کھیل رہے تھے۔ دھونی جیسا جارح بیٹسمین جس کے لیے بال کو ہوا میں اُچھال کر بونڈری کے پار پہنچانا اور چوکے چھکے کوئی مشکل امر نہیں ہو سکتا وہ بھی اتنا دب کر کھیلا کہ انگلینڈ کے مجموعے تک پہنچنا بھارت کے لیے لمحہ بہ لمحہ مشکل سے مشکل ہوتا گیا۔

بھارت نے انگلینڈ سے ہارنا قبول کر لیا اور پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات معدوم ضرور ہوئے لیکن اس کے منفی اثرات مابعد ضرور سامنے آئے ۔ بھارت نے اس کے بعد سری لنکا کے خلاف میچ میں کامیابی ضرور حاصل کی اور اس کے اوپنر نے سنچریاں بھی سکو ر کیں لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل کھیلتے ہوئے اُس کا وہ ٹیمپو برقرار نہ رہا۔ اس میں شاید پاکستانیوں کے جذبات و احساسات کابھی اثر تھا کہ بھارت کو اس کے غرور و تکبر کی سزا ملی اور اُسے ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کا خواب آنکھوں میں سمیٹے بے نیل و مرام واپس آنا پڑا۔ پاکستان کی ٹیم بلا شبہ ورلڈ کپ کے میچوں میں و ہ کارکردگی نہیں دکھا سکی جو اُسے دکھانی چاہیے تھی ۔ اُس نے اپنے 8لیگ میچز میں 5میچ جیت کر ایک میچ برابر رکھ کر اور 3میچز میں شکست کے بعد 11 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ نیوزی لینڈ کے مقابلے میں اگر پاکستان کا رن ریٹ کم نہ ہوتا تو سیمی فائنل کے لیے ضرور کوالیفائی کر لیتا ۔ سچی بات ہے پاکستان کی شروع کے میچوں میںجو کارکردگی رہی ، خاص طور پر ویسٹ انڈیز ، آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف اُسے جو شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور بارش کی وجہ سے سری لنکا کے خلاف اُس کا جو میچ نہ ہو سکا اُس کے بعد اُس کا پوائنٹ کی بنا پر اوپر کی چار ٹیموں میں شامل ہو کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنا اگر ناممکن نہیں تھا تو انتہائی مشکل ضرور تھا۔ پاکستان نے یقینا یہ کمال کر دکھایا کہ اپنے آخری چار لیگ میچوں میں اُس نے اپنے حریفوں جنوبی افریقہ ، نیوزی لینڈ ، افغانستان اور بنگلہ دیش کو شکست سے دو چار کیا۔ پاکستان سیمی فائنل تک تو نہ پہنچ سکا لیکن اُس نے یہ پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے یہ بھی اُس کے لیے اطمینان کا باعث ہے۔ پاکستان کے لیے یہ امر یقینا فخر کا باعث ہو سکتا ہے کہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیمیں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ لیگ مقابلوں میں اُس سے شکست سے دو چار ہوئے ہیں۔ گویا ہم پاکستانی اس بات پرمُسرت کا اظہار کر سکتے ہیں کہ ہماری ٹیم سے ہاری ہوئی ٹیمیں بڑے مقابلے میں شریک ہوئی ہیں۔

یہاں پاکستانی ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا اجمالی سا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ بابر اعظم بلا شبہ دن بدن ایک منجھے ہوئے بیٹسمین کا روپ اختیار کر رہے ہیں وہ کسی بھی بائولر کے کسی بھی مشکل سے مشکل بال کو گراونڈ کے کسی بھی حصے میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بابر اعظم اگر زیادہ دھیان اور دلجوئی سے مختلف میچوں میں اپنی اننگز کو آگے بڑھاتے تو ان کے رنز کا ٹوٹل اس سے کہیں زیادہ ہوتا جتنا اس وقت ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں بابر اعظم کا 96رنز پر آوٹ ہونایقینا مایوسی کا باعث بنا لیکن اس میں بابر اعظم کا اپنا بھی عمل دخل ہے کہ وہ جس آسانی مہارت اور خوب صورتی سے شارٹ کھیل رہے تھے اور بال کو چوکوں کے لیے بونڈری کے پار پہنچا رہے تھے وہ اس سے کہیں پہلے اپنی سنچری مکمل کر سکتے تھے ۔ اوپنر امام الحق کی کارکردگی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ تسلی بخش رہی۔ دوسرے اوپنر فخر زمان بد قسمتی کا شکار رہے اور کوئی بڑا سکو ر نہ کر سکے سینئر کھلاڑی محمد حفیظ اور شعیب ملک کا کیریر اب ختم ہوتا نظر آر ہا ہے انہیں چاہیے کہ وہ باعز ت طریقے سے ریٹائرمنٹ لے لیں۔ کپتان سرفراز احمد پر بہت اُنگلیاں اُٹھائی گئی ہیں وہ ایک سوبر اور سنجیدہ کھلاڑی ضرور ہیں لیکن اُن میں بعض اوقات لگتا ہے کہ جذبے اور فائٹنگ سپرٹ کی کمی ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں سرفراز احمد اگرزیادہ فائٹنگ سپرٹ کا مظاہرہ کرتے تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا ۔ جہاں تک بھارت کی ٹیم کا تعلق ہے اس میں بلا شبہ ایسے نامی گرامی کھلاڑی شامل ہیں جنھیں عالمی معیار کا کھلاڑی سمجھا جا سکتا ہے۔ بھارت کی کرکٹ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اسمیں ہر دور میں ایسے کھلاڑی موجود رہے ہیں کہ جن کے پایہ کے کھلاڑی دوسری ٹیموں میں کم ہی پائے جاتے تھے۔ پچھلے صدی کے اسی اور نوے کی دہائیوں میں سُنیل گواسکر ، کپیل دیو، روی شاستری ،ٹنڈولکر اور بعد میں وریندر سہواگ ، اور اب دھونی روہت شرما اور ویرات کوہلی وغیرہ کا شمار بلاشبہ عالمی پائے کے کھلاڑیوں میں کیا جا سکتا ہے لیکن کرکٹ کو چانسز کا کھیل بھی کہا جاتا ہے اس بار بھارت کے لیے یہ چانس نہیں تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچے لہذا اُسے سیمی فائنل میں اپنے سے کم تر ٹیم کے مقابلے میں شکست سے دو چار ہونا پڑا۔


ای پیپر