حکومت مستحکم ہے؟
13 جولائی 2019 2019-07-13

مہنگائی کی بنا پر عوام میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور وہ حکومت کو ہر وقت ہر مقام پر کھری کھری سُنا رہے ہیں۔ خواتین جنہیں باورچی خانہ سنبھالنا ہوتا ہے حکومت مخالف گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ عمران خان کو ذرا بھر احساس نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ لوگوں کا جینا مشکل کیا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ مگر وہ ٹیکسوں پے ٹیکس لگا کر حکمرانی کے فرائض ادا کرنے میں مصروف ہیں۔جبکہ انہوں نے خوشحالی ، امن اور انصاف کے وعدے کیے تھے اب وہ سب کہاں ہے مگر حکومتی موقف یہ ہے کہ انہیں سخت فیصلے اس لیے کرنا پڑ رہے ہیں کہ معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا تھا جسے سنبھالا دینے کے لیے بھاری رقوم کی اشد ضرورت تھی اور وہ کسی ملک کے بس کی بات نہیں تھی کہ وہ پوری کرے لہٰذا مجبوراً آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا جو پوری دنیا کو قرضہ دیتا ہے۔ ہم نے بھی اس سے اس کے حصول کے لیے درخواست دی کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ایک بڑی رقم بطور قرض دے اس نے اپنی شرائط پر عمل در آمد کی یقین دہانی پر اسے قبول کر لیا۔ اب اگر حکومت ان شرائط سے رُو گردانی کرتی ہے تو وہ اگلی قسط دینے سے انکار کر دے گا اور معاشی حالا ت دوبارہ خراب ہو جائیں گے لہٰذا طوعاً و کرہاًاس کی ڈکٹیشن کے مطابق چلنا پڑ رہا ہے جس سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے مگر وہ اس بات کا بھی یقین دلاتی ہے کہ چند ماہ کے بعد صورت حال ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گی کہ لوگوں کو راحت وسکون میسر ہو گا اور وہ واقعتا ایک نئے پاکستان کو ابھرتا ہوا دیکھیں گے لہٰذا انہیں حوصلے اور صبر سے کام لینا چاہیے کسی کے کہنے پر شورنہیں مچانا چاہیے۔ اس سے مراد اس کی یہ ہے کہ حزب اختلاف جو کہہ رہی ہے وہ درست نہیں کیونکہ اسے عوام سے ہمدردی ہوتی تو وہ کھربوں ڈالرز کو ادھر سے ادھر نہ کرتی اور ہو شر با قرضے نہ لیتی کہ جس کی وجہ سے آج مہنگائی کا طوفان آیا ہے لہٰذا اچھے دنوں کا انتظار کرنا ہو گا جو بہت جلد آنے والے ہیں۔!

حزب اختلاف مگر حکومت کی کسی بھی بات کو سچ نہیں مان رہی اور عوام سے مخاطب ہے کہ یہ حکومت اگر مزید اقتدار میں رہتی ہے تو انہیں اپنے اعضاء بھی فروخت کرنے پڑ سکتے ہیں اب بھی وہ ایسا کر رہے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے مگر جب گرانی کے تابڑ توڑ حملے ہوتے ہیں تو پھر ہر غریب اعضاء کی منڈی کا رخ کرے گا لہٰذا جتنی جلد ممکن ہو سکے اس حکومت سے نجات حاصل کر لی جائے۔

اس مقصد کے لیے وہ جلسے بھی کرنے لگی ہے اور مظاہروں کے پروگرام کا بھی عندیہ دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس میں کامیاب ہو سکے گی عوام اگرچہ پس رہے ہیں مگر وہ فی الحال سڑکوں پر آنے کے لیے آمادہ و تیار نہیں کیونکہ انہیں یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ ان کے لیے ہمدردی کا پیدا ہونا مصنوعی ہے عارضی ہے اصل میں حزب اختلاف کے مقاصد ذاتی نوعیت کے ہیں کہ اس کے رہنمائوں پر قائم مقدمات ختم ہو جائیں اور جو سزائیں ہو چکی ہیں وہ بھی معاف کر دی جائیں لہٰذا وہ کیوں اپنا وقت ضائع کریں اور جو تھوڑا کھانے کو مل رہا ہے اس سے بھی محروم ہو جائیں۔

اس طرح کی صورت حال کے پیش نظر یہ کہنا کہ حزب اختلاف کوئی اہم کامیابی حاصل کرے گی ممکن نہیں، وہ احتجاج جس قدر بھی کر سکتی ہے کرے یہ اس کا حق ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ عدالتی کارروائیوں کا بھی حصہ بنے کیونکہ آخر کار عدالتوں ہی سے اسے کچھ حاصل ہونا ہے۔ لہٰذا اسے چاہیے کہ وہ اپنی پوری توجہ اس جانب مبذول کرے عوام کو بھی اس پوزیشن میں نہیں لا سکتی کہ وہ اپنی عوامی طاقت کے بل بوتے پر حکومت کو مجبور کر دیں کہ جو پکڑ دھکڑ وہ کر رہی ہے اس سے رُک جائے ایسا نہیں ہونے والا ۔ اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی صف میں موجود کالی بھیڑیں بھی قانون کی گرفت میں آنے والی ہیں مگر حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا عرض ہے تو اتنی کہ احتسابی عمل کو آگے بڑھنے دیا جائے کب تک ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کیے جائیں گے۔ جو قصور وار ہے اسے کٹہرے میں آنا چاہیے۔ عوام جب خود دیکھیں گے کہ انہیں حکومت خود کشیاں کرنے کی طرف لے جا رہی ہے تو وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اس وقت انہیں کسی بلاول اور مریم بی بی کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ کیونکہ وہ مروجہ سیاست کاری سے منزل مراد تک نہیں پہنچ سکے۔ کچھ روز پہلے جب پنجاب کے بیت المال کے چیئر مین اعظم ملک نے ’’ قلم دوست ‘‘ کے کالم نگاروں کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی جس میں صوبائی وزیر اطلاعات صمصام علی بخاری بھی مدعو تھے تو ان سے وہاں موجود خواتین و حضرات نے چند سوالات کیے۔ راقم الحرئوف نے مشیر اطلاعات سے یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ وہ بتائیں ان کی حکومت اپنے پروگرام و منشور پر عمل در آمد کرا سکے گی جبکہ آئی ایم ایف سے انہیں قرضہ لیکر معیشت کا پہیہ رواں رکھنا پڑ رہا ہے اور اس کی شرائط کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھنے کا وعدہ کیا گیا ہے اور اس کی شرائط میں عوامی فلاحی منصوبے کا کہیں کوئی ذکر نہیں یعنی انہیں اپنی اقساط بر وقت ملنی چاہیے خواہ عوام کی سانسیں رک رک کر ہی کیوں نہ چلیں۔؟

انہوں نے کہا ! ایسا نہیں حکومت کو آپ بے بس نہ سمجھیں وہ خود مختار ہے اسے اپنے وعدوں کو ہر صورت پورا کرنا ہے تعلیم ، صحت اور انصاف کے میدان میں وہ بہت کچھ کر رہی ہے ۔سات یونیورسٹیاں بنائی جا رہی ہیں حکومت اس پہلو پر بھی کام کر رہی ہے کہ انصاف سہل اور سستا فراہم کیا جائے۔ پولیس کے نظام کو بہتر کیا جارہا ہے لہٰذا جرائم کی شرح کم ہو رہی ہے ۔ ٹیکسیشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام ’’محسوس‘‘ کررہے ہیں کیونکہ اب انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت ٹیکس تو لے رہی ہے اس کی واپسی بھی ہو گی یا پھر یونہی معاملات چلائے جائیں گے اس کے جواب میں وہ کہنے لگے کہ نہیں عوام کو سو فیصد سہولتیں ملیں گی اور یہ پہلی حکومت ہو گی جو ٹیکسوں کا استعمال فلاحی منصوبوں پر خرچ کر کے عام آدمی کی زندگی میں انقلاب برپا کر دے گی۔ میرا ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا حکومت مستحکم ہے؟ وزیر اطلاعات نے مسکرا کر کہا کہ ہاں بہت مستحکم ، حزب اختلاف بس دُرفنطنیاں چھوڑ رہی ہے۔ جب اگلے پانچ چھے ماہ گزریں گے تو صاف دیکھا جا سکے گا کہ پاکستان بدل چکا ہے ۔ نظام معیشت سے لیکر نظام سیاست و معاشرت تک میں ایک نیا خوشگوار منظر دھیرے دھیرے ابھر رہا ہے۔

فی الحال تو لوگ سخت خفا ہیں اور ’’ تبدیلی ‘‘ کا مذاق اڑا رہے ہیں انہیں جو کوئی بھی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ سب ایسے ہی نہیں رہنا حکمرانوں اور بادشاہ گروں کو اس کا فہم و ادراک ہے لہٰذا وہ ضرور حالات کو ان کے موافق بنانے کی جدو جہد کریں گے ، کر رہے ہیں مستحق افراد کو ہیلتھ کارڈ دیئے جا رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے مگر انہیں پہلے روٹی چاہیے ، شاید اسی لیے کچھ لوگوں نے بقول چیئر مین بیت المال کہ ہیلتھ کارڈ کو پچاس ساٹھ ہزار میں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ بہر حال مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے تیسے ہمیں غیر ملکی قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے آگے آنا ہو گا۔ احتساب کا عمل بھی جاری رہے۔ جس سے یقینا ہمارے دن پھر یں گے ۔بہار کو معطر اور خوشنما رنگوں کے ساتھ جلوہ گر ہونا ہے!


ای پیپر