’’کار۔و۔بار‘‘
13 جولائی 2019 2019-07-13

دوستو، ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔۔خالی شاپریاخالی دماغ کا مناسب استعمال نہ کیا جائے تو وہ ہواؤں میں اڑنے لگتے ہیں۔۔باباجی کا یہ فرمانا ہے کہ ۔۔عمران خان پاکستان کی تاریخ کے واحد وزیراعظم ہیں جن کا اپنا کوئی کاروبار نہیں اور نہ کسی اور کا رہنے دیں گے۔۔کاروبار کا مطلب تو ۔۔تجارت، سوداگری،لین دین وغیرہ بنتا ہے جو بھی کاروبار کرتے ہیں،لازمی نہیں وہ بڑے تاجر ہوں یا مل اونر، چھوٹا سا پتھارا لگانے ،ٹھیلہ پر چیزیں فروخت کرنے والا بھی کاروبار ہی کررہا ہے۔۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے آج کاروبار والے بہت بری طرح رورہے ہیں، چیخ و پکار کررہے ہیں۔۔کاروبار کو الگ الگ پڑھا جائے تو یہ بنتا ہے۔۔’’ کار ۔ و ۔ بار ‘‘ ۔۔ کار یعنی کام ۔۔ بار یعنی بوجھ۔۔ فی زمانہ یوں سمجھ لیں کہ۔۔اب کاروبار کرنا بوجھ بن چکا ہے۔۔ارے یاد آیا، آج تو سنڈے یعنی اتوار ہے اور آپ لوگوں کی اکثریت چھٹی منارہی ہوگی۔۔گورے امریکی چھٹی والے دن آٹھ دس کلومیٹر جاگنگ، پندرہ بیس کلومیٹر ہائکنگ یا پھر ستر اسی کلومیٹر سائیکلنگ کر کے طمانیت محسوس کرتے ہیں جبکہ پاکستانی چھٹی سے اگلے دن فخریہ بتا رہے ہوتے ہیں۔۔یار بٹ کولوں دو کلو کڑائی لوا کے کھادی، کی سواد آیا۔۔

ہمیں آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ۔۔چینی پر اگر دو فیصد ٹیکس لگتا ہے تو تاجروں نے چینی کی قیمت میں ازخود چونتیس فیصد اضافہ کیسے کردیا؟؟چینی پر ٹیکس 2 فیصد لگایا مگر تاجروں نے بجٹ پیش ہونے پر ہی قیمت پر ازخود 34 فیصد اضافہ کر کے فروخت کر کے اربوں کمائے اور گالیاں حکومت کو پڑیں ، حکومت نے سیمنٹ کی بوری پر صرف 7 روپے ٹیکس لگایا اور تاجروں نے 120 روپے اضافہ کر دیا, بجٹ منظور ہوا تو اضافہ 2فیصد ہوا جبکہ قیمت میں 34فیصد اضافہ کھلے عام منافع خوری جاری ہے۔۔ گھی پر کوئی ٹیکس نہیں لگا ریٹ تاجروں نے ازخود بڑھائے۔۔ آٹا پر ٹیکس نہیں لگا تاجروں نے ریٹ بڑھا لئے،بلکہ ملک بھر میں تو تندوری روٹی اور نان کے قیمتوں میں بھی ٹھیک ٹھاک اضافہ کردیاگیا۔۔بجٹ مئی میں آیا،جس پر عمل درآمد یکم جولائی سے آنا تھا لیکن قیمتوں میں اضافہ مئی سے ہی کردیاگیا، حدتویہ ہے کہ حکومت ہر ماہ کے آخری دن پٹرول کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتی ہے۔۔ جب پٹرول سستا ہونے کا امکان ہوتا ہے تو پٹرول پمپ مالکان شام سے ہی اپنے پمپ بند کردیتے ہیں،مہنگا ہونے کا امکان ہوتا ہے تو نئی قیمتوں کا اعلان ہوتے ہی اس پر عمل درآمد فوری کردیاجاتا ہے۔۔ تاجروں کی اس لوٹ مار،حرام خوری پر حکومت کی خاموشی نااہلی اور سوالیہ نشان ہے۔۔ اگر ہر شہر میں پانچ پانچ تاجر نشان عبرت سرعام بنادئیے جائیں تو ساری مصنوعی مہنگائی ختم ہو جائے گی۔۔

ایک بہت ہی پرانا قصہ ہے۔۔بینک ڈکیتی کے دوران ڈکیت نے چیخ کر سب سے کہا۔۔کوئی بھی ہلے مت۔چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں۔۔رقم لوگوں کی ہے اور جان آپ کی اپنی ہے۔۔۔سب چپ چاپ زمین پر لیٹ گئے۔۔۔کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا،اسے کہتے ہیں مائند چینج کانسیپٹ(سوچ بدلنے والا تصور)۔۔۔ایک خاتون کچھ واہیات انداز میں زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ایک ڈاکو اس سے بولا۔۔تمیز سے لیٹو یہاں ڈکیتی ہو رہی ہے ، ریپ نہیں ہو رہا۔۔۔اسے کہتے ہیں "فوکس " بس وہی کام کریں جس کے لیے آپ کو ٹرینڈ کیا گیا ہے۔۔ڈکیتی کے بعد گھر واپس آئے تو نوجوان ڈکیت( جو کہ ایم بی اے پاس تھا )نے بوڑھے ڈکیت(جو کہ صرف پرائمری پاس تھا ) سے کہا،چلو رقم گنتے ہیں۔۔بوڑھے ڈاکو نے جواب دیا،تم تو پاگل ہو گئے ہو اتنے زیادہ نوٹ کون گنے۔ رات کو خبروں میں سن لینا کہ ہم کتنا مال لوٹ کر لائے ہیں۔۔اسے کہتے ہیں تجربہ جو کہ آج کل ڈگریوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔۔جب ڈاکو بنک سے چلے گئے تو منیجر نے سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو فون کرو۔۔سپروائز نے جواب دیا،رک جائیں سر ! پہلے بنک سے ہم دونوں اپنے لیے دس لاکھ ڈالرز نکال لیتے ہیں اور ہاں وہ چالیس لاکھ ڈالرز کا گھپلا جو ہم نے حالیہ دنوں میں کیا ہے وہ بھی ڈاکووں پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ لوٹ کر لے گئے۔۔ اسے کہتے ہیں وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا۔مشکل حالات کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کر لینا۔۔منیجر ہنس کر بولا۔۔ہر مہینے ایک ڈکیتی ہونی چاہیے۔۔ اسے کہتے ہیں بوریت ختم کرنا۔۔۔ ذاتی مفاد اور خوشی جاب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔اگلے دن اخبارات اور ٹی وی پر خبریں تھیں کہ ڈاکو بنک سے سو ملین ڈالرز لوٹ کر فرار۔۔۔ڈاکووں نے بار بار رقم گنی لیکن پچاس ملین ڈالرز سے زیادہ نہ نکلی۔۔۔بوڑھا ڈاکو غصے میں آ گیا اور چیخا۔۔ہم نے اسلحہ اٹھایا۔اپنی جانیں رسک پر لگائیں اور پچاس ملین ڈالرز لوٹ سکے اور بنک منیجر نے بیٹھے بیٹھے چند انگلیاں ہلا کر پچاس ملین ڈالرز لوٹ لیا۔۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔۔ ہم کو چور نہیں پڑھا لکھا ہونا چاہیے تھا۔۔اسے کہتے ہیں علم کی قیمت سونے کے برابر ہوتی ہے۔۔بنک منیجر خوش تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اسے جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب ان پیسوں سے پورا ہو گا۔۔اسے کہتے ہیں موقع پرستی۔۔آخر میں بس ایک سوال۔۔کون ہے اصل ڈکیت؟؟

ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ، جس دن رات کو رکھی ہوئی آئس کریم اگلے روز فریج میں محفوظ ملے گی،اس دن میں یقین کرلوں گا کہ یہ ملک کرپشن اور چوری سے محفوظ ہوگیا ہے۔۔سعودی عرب میں جس تیزی سے سینما ’’کیسینوز‘‘ میں تبدیل ہورہے ہیں،وہ وقت بھی شاید جلد آجائے گا جب حاجی صاحبان واپسی پر صفائیاں پیش کیا کریں گے کہ قسم سے میں نے صرف حج ہی کیا تھا۔۔باباجی فرماتے ہیں، لڑکیوں کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا،بس راستے میں گول گپے کی ریڑھی نہ ہو۔۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ ۔۔تاریخ گواہ ہے کپڑے دھلتے وقت شوہر کی جیب سے نکلنے والے پیسے بیویاں کبھی شوہروں کو واپس نہیں کرتیں۔۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں شکوہ کررہی ہیں کہ ۔۔آخرت کے سوالات دنیا میں پوچھے جا رہے ہیں کہ’’مال کہاں سے کمایا اور خرچ کہاں کیا‘‘۔۔۔ایک نوجوان اپنی گرل فرینڈ کو واٹس ایپ پر پیغام بھیج رہا تھا کہ۔۔سنوجاناں، سیمنٹ بہت مہنگاہوگیا ہے اس لئے میں تمہاری تعریفوں کے پل نہیں باندھ سکتا۔۔شنید ہے کہ دلہا کو گھونگٹ اٹھانے سے پہلے انٹرٹینمنٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ لعنت بھی کیا غضب کی چیز ہے، ایڈریس بھی نہ لکھو پھر بھی مستحق تک پہنچ جاتی ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر