اخلاقیات! ....(دوسری قسط )
13 جولائی 2019 2019-07-13

گزشتہ سے پیوستہ ....

میں عرض کررہا تھا بداخلاقی کا ایسا ماحول ملک میں بن چکا ہے اور بڑی تیزی سے ہماری رگوں میں سرائیت کرتا جارہا ہے اِس سے نجات اب شاید مشکل سے ہی ملے گی، عدم برداشت خصوصاً منافقت اِس معاشرے کی بنیادی شناخت بنتے جارہے ہیں، رشتوں کی کوئی قدر ہی نہیں رہی، پہلے صرف خون کے نہیں احساس کے رشتے بھی ہوتے تھے، اب نہ خونی رشتوں کی کوئی اہمیت رہی ہے نہ احساس کے رشتے نظر آتے ہیں، اب صرف ذاتی مفادات کے رشتے ہیں۔ ہم تو قربانی کا گوشت تقسیم کرتے ہوئے بھی سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ”ران“ کسے بھیجنی ہے اور سری پائے واوجڑی وغیرہ کسے بھجوانی ہے، اِس کے باوجود ہر شخص خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش میں مبتلا ہے، اِس سے آدھی کوشش سے وہ انسان بن سکتا ہے، ہمیں اِس وقت ”انسانوں“ کی ضرورت ہے، جبکہ میرے سمیت ہر شخص یہ چاہتا ہے اُسے فرشتہ “ سمجھا جائے، .... میں اصل میں اِس وقت مریم نواز شریف کی اُس پریس کانفرنس پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں جِس میں احتساب عدالت کے ایک جج کی ایک مبینہ وےڈیوپیش کرکے اپنے والد کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی، اِس مبینہ ویڈیو میں جج صاحب فرمارہے ہیں اُنہوں نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ کسی دباﺅ کے تحت دیا، .... یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، اِس کی تحقیقات ہونی چاہیے، یہ ویڈیو کِسی انجام سے دوچار نہ ہوتی، اِس کی حقیقت منظر عام پر نہ آئی عدلیہ کے کردار پر سوالیہ نشانوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اِس معاملے میں عدلیہ کی ابھی تک خاموشی بہت معنی خیز ہے، اُن لوگوں کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو اپنی عدلیہ کو کسی اعلیٰ مقام پر دیکھنے کے ابھی صرف خواب ہی دیکھ رہے ہیں، .... جب سے نون لیگ اور شریف برادران اقتدار سے رخصت ہوئے ہیں میرے اخلاقیات مجھے اُن پر اُس جارحانہ انداز میں تنقید کرنے کی اجازت نہیں دیتے جس انداز میں اُن کے دور اقتدار میں اُن پر میں کرتا رہا ہوں، اُن کے اقتدار میں اُن کی ہربدعملی پر کُھل کر میں نے لکھا، اُن کے کئی ”پیارے اور ”پلے“ میرے پاس مختلف اقسام کی پیشکش لے کر آتے رہے، حتیٰ کہ ایک پیارے نے بڑی عجیب وغریب پیشکش کی کہ ہم آپ کو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بنادیتے ہیں، میں مسکرایا اور عرض کیا ”اِس سے تو آپ کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جائیں گے ....جب پیشکشوں سے بات نہ بنی انتقامی کارروائیوں پر اُتر آئے، جس کی لمبی چوڑی تفصیل ہے، کہ اپنے ایم ایس ایف کے غنڈوں کے ذریعے مجھ پر حملہ کروادیا، اُس وقت لاہور میں پرویز راٹھور سی سی پی او اور چودھری شفیق ایس ایس پی لاہور تھے، وہ جیتے جاگتے ہیں، اُنہوں نے فرمایا ” ہم اِس واقعے کی ایف آئی آر نہیں دے سکتے“، ظاہر ہے اُنہیں اُوپر سے یہی حکم تھا جس کے نتیجے میں اُنہوں نے میرے ساتھ ایک ذاتی تعلق اور میرٹ کو بھی نظر انداز کردیا، اُس کے بعد میرے سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کینسل کردی گئی، اِس طرح کے کئی اوچھے ہتھکنڈے اختیار کئے گئے۔جناب شہباز شریف ایک بار برادرمحترم شعیب بن عزیز اور دیگر شخصیات کے ہمراہ میرے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت کے لیے میرے گھر آئے، بوقت رخصت پوچھنے لگے ” ہم سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟“.... میں نے عرض کیا ”یہ وقت گلے شکوﺅں کا نہیں ہے، آپ کی مہربانی آپ میرے دُکھ میں شریک ہوئے، اظہارِ تعزیت کے لیے تشریف لائے، اِس موقع پر میں اور کوئی بات آپ سے نہیں کرنا چاہتا“.... اُنہوں نے ضِد کی کھڑے کھڑے میں نے عرض کیا، ”آپ لوگوں کو ”ذاتی غلام“ بناکررکھنا چاہتے ہیں، جو صحافی یا قلم کار آپ سے ”لفافہ“ مانگتا ہے اُسے لفافہ دیں، جو عزت مانگتا ہے اُسے عزت دیتے ہوئے آپ کویوں محسوس ہوتا ہے جیسے اپنی فیکٹری یا اقتدار میں

سے کسی کو حصہ دینا پڑ رہا ہے، ....آخری بات میں نے اُن سے یہ کہی ”آپ بادشاہ ہیں آپ بادشاہ نہیں رہیں گے، ہم فقیر ہیں ہم سدا فقیر رہیں گے، آپ کی بادشاہی چھن جائے گی، ہماری فقیری ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا“ ،....میری یہ باتیں بڑے تحمل سے اُنہوں نے سنیں، بڑی گرمجوشی سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور گلے ملے، کہنے لگے ”جلد ہی آپ سے تفصیلی ملاقات ہوگی“،.... اِس کی نوبت نہیں آئی، کیونکہ اُنہیں یقین ہوگیا تھا میں اُن کے پسندیدہ لوگوں میں کبھی شامل نہیں ہوسکتا، ظاہر ہے اُس لیول کی خوشامد کرہی نہیں سکتا جس لیول کی خوشامد کرکے بہت سے لوگ اُن کے قریب ہوئے تھے، .... ایک بار وہ بہت ہی ناراض ہو گئے، جب ازرہ مذاق اپنے ایک کالم میں، میں نے لکھ دیا ”ڈینگی کے اشتہاروں پر ایک طرف ڈینگی کی دوسری طرف خادم پنجاب کی تصویر ہوتی ہے، ہمیں شناخت کرنے میں اچھی خاصی مشکل پیش آتی ہے دونوں میں ”ڈینگی“ کون ہے ؟“....اس سے قبل بھی وہ ایک بار مجھ سے شدید ناراض ہو گئے تھے، تب میں نوائے وقت میں لکھتا تھا، مجید نظامی مرحوم سے فرمائش کرکے یا اُنہیں شاید حکم جاری کرکے میرے کالم پر تین ماہ کی اُنہوں نے پابندی لگوا دی تھی، تب مجھے پہلی بار احساس ہوا تھا یہ اخبار جناب مجید نظامی کا نہیں جناب شہباز شریف کا ہے، اِس ناراضگی کے دوران اُن کی طرف سے جو سخت پیغامات مجھے مِلتے رہے میں اُنہیں خاطر میں لاتا شاید ملک چھوڑ دیتا، سچ لکھنا مگر نہیں چھوڑا، کیونکہ میں سمجھتا ہوں اللہ نے میری اوقات سے ۔۔میری محنت سے بہت بڑھ کر لکھنے کی جو صلاحیت مجھے بخشی ہے اُس کا تھوڑا بہت حق یا شکر صرف اِسی صورت میں ادا ہوسکتا ہے میں صرف اورصرف سچ لکھنے کی کوشش کروں، اور بلاخوف وخطر کروں، سو یہ سلسلہ الحمد للہ جاری ہے، میں اِس موقع پر اپنے اخبار نئی بات میڈیا گروپ کے مالک چودھری عبدالرحمان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں مگرمیں چونکہ خوشامد کے فن سے زیادہ واقف نہیں ہوں اِس لیے بس اتنا عرض کروں گا ”نئی بات میڈیا گروپ“ سے جُڑے رہنے کی واحد وجہ یہ ہے لکھنے کی جتنی آزادی مجھے اس اخبار میں ملی شاید ہی اور کہیں ملی ہوگی۔ (جاری ہے)


ای پیپر