قومی سلامتی کا تقاضا: معاشی دہشت گردوں کی سرکوبی
13 جولائی 2018 2018-07-13

تین روز قبل پاکستانیوں کی بیرون ملک غیر قانونی جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’’لوٹے ہوئے اربوں روپے سوئٹزرلینڈ، دبئی سے واپس لانے ہوں گے، پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا اصل مقصد ، وائٹ کالر کرائم خاتمہ کیلئے کچھ ضرورہونا چاہئے، قانونی رکاوٹیں دور کر نے کا راستہ نکالنا پڑے گا،غیر ملکی اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنیوالوں کا پتہ چلنا چاہئے، بتایاجائے کتنے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس ہیں؟، دوران سماعت ایف آئی اے نے رپورٹ جمع کرائی جس میں بتایا گیا کہ’ کچھ پیسہ قانونی، کچھ کرپشن اور ٹیکس چوری کا بھی باہر گیا ہے ، 1992 کے قانون کے تحت وہ پیسہ بیرون ملک لے کر گئے، کچھ لوگ قانونی طریقہ سے پیسہ باہر لیکر گئے،واپسی کا اختیار نہیں ہے‘۔ ڈی جی ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ’ عرب امارات میں 4221 لوگوں کے اثاثے اور اکاؤنٹس ہیں‘‘۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ’ پیسہ لوٹ کر لوگ باہر چلے گئے،اربوں روپے سوئٹزرلینڈ اور دبئی میں پڑے ہیں،پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا اصل مقصد ہے ، وائٹ کالر کرائم ختم کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرورہونا چاہئے، قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کا راستہ نکالنا پڑے گا، یہی میکنزم بنانا ہے کہ پیسے کو باہر جانے سے روکا جائے‘۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ’جن لوگوں نے غیر ملکی اکاؤنٹس ظاہر نہیں کئے ان کا پتہ چلنا چاہئے‘۔ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں اس حوالے سے رپورٹ بھی پیش کی جس میں بتایاگیا ’ ملک سے با ہر پیسہ لے جاکر یورپ، امریکا اور کینیڈا منتقل کیا گیا ہے، واپس لانے کیلئے کوئی راستہ نکالنا ہوگا ہمارے پاس میوچل لیگل معاونت کا اختیار نہیں ہے‘۔اسی روز چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ’’کرپشن دیمک نہیں کینسر ہے اور زوال کی بنیادی وجہ بھی کرپشن ہے، ذاتی یا سیاسی انتقام کے پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں، اربوں کی کرپشن میں ملوث لوگوں پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں، جن کے پاس 6 مرلے کا مکان نہیں تھا آج دبئی میں ان کے ٹاور ہیں، کیا ان سے پوچھا نہ جائے کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا، نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، عوام جس کو چاہیں اقتدار میں لے آئیں، نیب کا کوئی لینا دینا نہیں، تاہم ہمارے ملک میں کرپشن اور کرپٹ لوگوں کی کوئی جگہ نہیں، کوئی کسی بھی عہدے پر رہا ہو اس کا احتساب کیا جائے گا، پانچ لاکھ کی جگہ پانچ کروڑ خرچ ہوں گے تو نیب سوال پوچھے گا، کرپشن کرنے والوں پر پھول نچھاور کرنا یا ان کا استقبال کرنا ملک کی توہین ہے، جو لہر اٹھی ہے طوفان بنے گی، ارباب اختیار نے سوچھا بھی نہ تھا کہ حساب لیا جائے گا، بیرون ملک ٹاور کا پوچھنا انتقام کیسے ہوگیا؟، پانچ لاکھ کا کام پانچ کروڑ میں کیوں ہوا؟، پوچھنا گستاخی کیوں؟۔ بدعنوان عناصر برباد ہوں گے یا ملک چھوڑ دیں گے؟۔
مقام حیرت ہے کہ وطن عزیز میں کروڑوں کی مالیت کے بنگلوں ، پلازوں، مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کی تعداد کسی بھی طور دس ملین سے کم نہیں لیکن ٹیکس دہندگان کی تعداد دو ملین سے بھی کہیں کم ہے ۔یہ تعداد ایک مدت تک 17لاکھ کے قریب بتائی جاتی رہی۔ ان 17لاکھ ٹیکس دہندگان میں سے 10لاکھ ٹیکس دہندگان وہ سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین تھے جن کی تنخواہوں میں سے انکم ٹیکس حسب قواعد و ضوابط خودکارانہ نظام کے تحت از خود منہا ہو جاتا ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع اور مربوط پالیسی کے تحت پورے ملک میں ایک دیانت دارانہ
سروے کروایا جائے اور اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سرکاری محکموں کے عداد و شمار کے مطابق ٹیکس دہندگان کی تعداد کل آبادی کے سوا فیصد سے بھی کم ہے۔ اگر کوئی ادارہ اس قسم کا دیانت دارانہ سروے کر کے حقیقی ٹیکس دہندگان کا کھوج لگائے تو چشم کشا حقائق سامنے آئیں گے۔ ٹیکس دہندگان کی موجودہ تعداد میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ محصولات کی وصولی کے ذمہ دار اداروں کے افسران و اہلکاران اپنے فرائض دیانت داری، حب الوطنی اور فرض شناسی کے جذبات سے سرشار ہو کر ادا کرنے کا حلف اٹھائیں۔ اس حلف کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ارباب حکومت بجٹ میں محصولات کی وصولی کے مقرر کردہ ہدف تک رسائی حاصل کرنے میں ایک تسلسل و تواتر کے ساتھ ناکام رہے ہیں۔ بنا بریں بین الاقوامی نشریاتی ادارے وطن عزیز کے حوالے سے اس قسم کے تبصرے کرتے نظر آئے کہ ’’پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں حکومت غریب ہے اور شہری امیر ہیں‘‘ یہ الگ بات کہ یہ تبصرے بھی قدرے مغالطہ انگیز اور مبالغہ خیز ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وطن عزیز کے شہریوں کی 95فیصد تعداد بمشکل دو وقت کی روٹی حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے جبکہ 5فیصد مقتدر اور حکمران طبقات کی ناجائزدولت ہر سرحد کو پھلانگ چکی ہے۔ ان میں سے بیسیوں ایسے ہیں جو بیرونِ ممالک ملین ڈالرز کلب اور بلین ڈالرز کلب کے ’’خفیہ اراکین‘‘ ہیں۔نواز شریف ایسے سیاستدانوں کے لندن کے ایسے مہنگے ترین علاقوں میں محلات نما فلیٹس ہیں، جن میں رہائش کی خواہش برطانیہ کے جدی پشتی رئیس بھی رکھتے ہیں لیکن وہ محض ان کا تصور ہی کر سکتے ہیں۔ 450 پاکستانیوں کی بیرون ملک آف شور کمپنیاں بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ان تمام کو عدالت کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کرنا 2018ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔
گزشتہ ایک ہفتے سے کے پی کے اور کل شام مستونگ بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض قوتیں پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کے سامنے بند باندھنے کیلئے سر گرم ہو چکی ہیں۔ وہ بر وقت انتخابات کے انعقاد کے حکومتی ، الیکشن کمیشن اور افواج پاکستان کے منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے ’’را‘‘ کے گماشتوں کا ہاتھ ہو، جو ایک حساس موقع پر یہ تأثر دینا چاہتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے باوجود ٹی ٹی پی کے امن دشمن اور وطن دشمن عناصر کی مکمل سر کوبی نہیں کی جاسکی۔ اس ڈس انفارمیشن کا بنیادی مقصد افواج پاکستان کی کارکردگی اور بیش بہا قربانیوں کا تمسخر اڑانا ہے۔ ایک طرف ریاستی و حکومتی ادارے عدالت عظمیٰ ، نیب، ایف آئی اے معاشی دہشت گردوں کے خلاف جرأت مندانہ اقدامات کرکے انہیں پسِ دیوارِزنداں بھیج رہے ہیں اور عوام اس پر ان اداروں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شکرانے کے نوافل ادا کر رہے ہیں اور دوسری طرف بد عنوانی اور کرپشن کی حامی قوتیں یکجا ہوچکی ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے ماخوذ بدعنوان سیاستدانوں کا سرمایہ بھی کارفرما ہو سکتا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ نام نہاد دانشور جو بدعنوان سیاستدانوں پے رول پر ہیں ، ریاستی و آئینی اداروں کے قانونی اقدامات کو سیاسی انتقام سے تعبیر کرکے ایک تو خلط مبحث کر رہے ہیں اور دوسرے ریاستی اداروں کے خلاف خاص طور پر سپریم کورٹ اور افواج پاکستان کے خلاف بے جا سوالات اُٹھا رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شکوہ ہے کہ انہیں اظہارِ رائے (یعنی عدلیہ اور افواج پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی ) آزادی نہیں۔ واضح رہے کہ اگر سیاستدان سیاست، حکومت، جمہوریت ، پارلیمان کو ڈھال بنا کر قومی خزانہ لوٹیں گے تو ان سے نہ صرف لوٹی ہوئی قومی دولت کی بازیابی کرائی جائے گی بلکہ انہیں حسبِ قوانین و ضوابط کٹہرے میں بھی کھڑا ہونا پڑے گا۔ اور جیل بھی جانا پڑے گا۔ وہ بدعنوانی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے جرم میں جیل جا رہے ہیں، ناں کہ بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی جنگ لڑنے کی پاداش میں کوئی ڈکٹیٹر انہیں انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ انتہائی غلط روش ہے کہ بدعنوان سیاستدانوں کو ہیرو کے طور پر پورٹرے کیا جا رہا ہے۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی ، غیر سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقے انسداد بد عنوانی کیلئے متحدہو جائیں۔ انسداد بد عنوانی اور کرپٹ عناصر کی سرکوبی ،ی قومی سلامتی کی ضامن ہے۔ 21کروڑ پاکستانیوں کو عدالتی سزایافتہ بد عنوان افراد نہیں ملک اور ادارے عزیز ہیں۔ یہ پاکستان ہے ، یہاں کسی کو اس نظریے کے پرچار کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ ’’فلاں از پاکستان اینڈ پاکستان از فلاں‘‘۔ سب کوملکی بقاء اور استحکام کیلئے کام کرنا چاہیے۔درست تو یہ ہے کہ کوئی شخص خواہ وہ کتنے ہی بڑے سیاسی یا حکومتی منصب پر فائز کیوں نہ رہا ہو وہ احتساب سے بالا نہیں۔ سب کا احتساب ہونا چاہئے۔احتساب کے عمل سے عوام خوش ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام کرپٹ عناصر ان کا تعلق خواہ سیاست سے ہو یا کسی بھی نوع کی بیوروکریسی سے ، ان سے بازپرس کی جائے اور لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کرائی جائے۔ اسی طرح پاکستان کو معاشی دہشت گردوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔


ای پیپر