آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے تقاضے ۔۔۔!
13 جولائی 2018 2018-07-13

ملک میں عام انتخابات کے انعقاد میں دو ہفتے سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے ۔ 25 جولائی پولنگ ڈے ہے اور صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک بغیر کسی وقفے کے ووٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس بار ووٹ ڈالنے کے وقت میں ایک گھنٹے 5 بجے سے 6 بجے تک کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس سے پولنگ کی شرح میں اضافہ ہو گا یا نہیں اس کا اندازہ 25 جولائی کے بعد ہی ہو سکے گا تاہم 25 جولائی کی رات کو انتخابی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے اور یہ معلوم ہو سکے گا کہ پاکستانی عوام اگلے پانچ سال کے لیے حقِ حکمرانی کسی ایک جماعت کو یا ایک سے زیادہ جماعتوں کو تفویض کرتے ہیں خیر جو کچھ بھی ہو گا حتمی صورت میں سامنے آ جائے گا۔ فی الوقت انتخابی مہم پورے زور شور سے جاری ہے اور اس کے ساتھ الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کے لیے ضروری انتظامات، اقدامات اور فیصلوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور متعلقہ ریٹرنگ آفیسرز تک اُن کی ترسیل کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ضلعی ریٹرنگ افسران اور یٹرنگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دینے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو کسی بے ضابطگی کی صورت میں موقع پر سزا دے سکیں گے۔ اس کے ساتھ ملک بھر میں پولنگ سٹیشنوں پر فرائض سرانجام دینے کے لیے انتخابی عملے ، پریذائڈنگ افسران ، اسسٹنٹ پریذائڈنگ افسران اور پولنگ افسران کی تعیناتی کا عمل بھی مکمل نہیں ہو چکا ہے بلکہ اس انتخابی عملے کو پولنگ سٹیشنوں پر اپنے فرائض کی سرانجام دہی کے لیے رہنمائی اور ضروری تربیت کا مرحلہ بھی تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ بلا شبہ یہ سارے انتظامات اور ان کے ساتھ دیگر اقدامات جو آزادانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہیں وہ کسی تاخیر یا تعطل کے بغیر مکمل کیے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے چاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ کو خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کی ضابطہ اخلاق کی حدود میں جاری انتخابی مہم میں کوئی رخنہ نہ ڈالا جائے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر محمد یعقوب نے بھی اس یقین دہانی کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات شفاف ہونگے اور کوئی اُن پر انگلی نہیں اُٹھا سکے گا۔ انہوں نے پولنگ سٹیشنوں پر فوج کی تعیناتی کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ فوج کی تعیناتی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے اور فوجی جوانوں کا سکیورٹی کے علاوہ الیکشن (پولنگ) کے عمل میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔
آزادنہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی طرف سے کیے جانے والے یہ اقدامات اور انتظامات کس حد تک موثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں وقت کے ساتھ ہی ان کا اندازہ ہو سکے گا۔ تاہم اس طرح کے انتظامات اور اقدامات ماضی میں بھی ہر الیکشن کے موقع پر کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انتخابی نتائج جب بھی سامنے آئے تو انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکنے والی جماعتیں ، سیاسی رہنما اور ناکام اُمیدوار انتخابات کے منصفانہ اور شفاف نہ ہونے کے بارے میں اعتراضات کرتے رہے ہیں۔ مئی 2013ء کے انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین جناب آصف علی زرداری جو اُس وقت صدرِ مملکت کے عہدے پر بھی فائز تھے نے ان انتخابات کو آر اوز (ریٹرنگ آفیسرز) کا الیکشن قرار دیا کہ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ریٹرنگ آفیسرز نے اُس وقت کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی ایما پر ایک سیاسی جماعت (مسلم لیگ ن) کی کامیابی کو یقینی بنانے اور انتخابی نتائج کو اُس کے حق میں سامنے لانے کے لیے بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا۔ تحریکِ انصاف کے چےئرمین جناب عمران خان تو ان انتخابی نتائج پر اعتراضات کے حوالے سے آصف علی زرداری سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے ۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ پنجاب کے قومی اسمبلی کے 35 حلقوں میں تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کو ہرانے کے لیے نگران وزیرِ اعلیٰ (نجم سیٹھی) نے مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون کیاہے۔ اسے انہوں نے 35 پنکچروں کا نام دیا اور اُس کو بنیاد بنا کر جناب عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا جو کم و بیش چار ماہ جاری رہا۔ راقم نے ماضی میں اپنی سرکاری ملازمت کے دوران پولنگ سٹیشنوں پر کم و بیش 10 ،11 بار بطور پریذائڈنگ آفیسر ڈیوٹی دی ہو گی۔ اپنے فرائض پوری ذمہ داری ، مستعدی اور غیر جانبداری کے ساتھ سرانجام دینے کے باوجود راقم کو اس دوران کئی طرح کے تلخ تجربات اور مشاہدات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں اُن کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں تاہم راقم اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں کہہ سکتا ہے کہ اب پولنگ سٹیشنز پر انتخابات میں دھاندلی کرنے یا انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے یا ریٹرنگ آفیسرز کے دفاتر میں پولنگ سٹیشنزسے موصول انتخابی نتائج کو کا ریگری یا ہوشیاری سے کسی اُمیدوار کے حق میں تبدیل کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ پچھلی صدی کی ستر اور اسی کی دہائیوں میں ووٹرز کے لیے شناختی کارڈ کی پابندی لازمی نہیں تھی تو جعلی ووٹ پڑنے کے امکانات موجود تھے۔ بعد میں نوے کی دہائی میں اور اُس کے بعد ہونے والے انتخابات میں شناختی کارڈ کی پابندی لازمی کر دی گئی تو خواتین کے شناختی کارڈوں پراُن کی تصاویر نہیں ہوتی تھیں۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کی طرف سے پولنگ سٹیشنز پر جو ووٹر لسٹ مہیا کی جاتی تھی اُن پر ووٹرز کے شناختی کارڈز کے نمبر اور دیگر کوائف عام طور پر درج نہیں ہوتے تھے تو اُس وقت بھی کچھ خرابیاں ہو سکتی تھیں۔ اب تو ووٹر لسٹ پر ہر ووٹر کا شناختی کارڈ نمبر، اُس کے انگوٹھے کا نشان اور دیگر معلومات پوری تصریح کے ساتھ درج ہوتی ہیں ۔ اس صورت میں بغیر شناخت کے کسی فرد کا ووٹ پول کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ البتہ پولنگ سٹیشنز پر انتخابی عملے کی کچھ نادانستہ غلطیاں یا بے ضابطگیاں یا مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دینے کی عدم اہلیت کی وجہ سے کچھ مسائل ضرور پید ا ہوسکتے ہیں جیسے مئی 2013ء کے انتخابات میں سامنے آئے تھے۔ لیکن بحیثیت مجموعی ان کوتاہیوں اور بے ضابطگیوں کا پولنگ سٹیشنز کے انتخابی نتائج پر کوئی فیصلہ کن اثر مرتب نہیں ہوتا۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجود انتخابی عمل بڑی حد تک خامیوں اور نقائص سے مبرا ہے اور اس میں دھاندلی یا انتخابی نتائج کو مرضی کے مطابق ڈھالنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بعض حلقوں کی طرف سے ان انتخابات کے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف ہونے کے بارے میں گاہے گاہے تحفظات کا اظہار سامنے آتا رہتا ہے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے الیکشن کے دوران سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے فوج کی خدمات طلب کی گئی ہیں اور ایک خبر کے مطابق ساڑھے تین لاکھ فوجی اس مقصد کے لیے بلائے گئے ہیں یقیناًیہ بہت بڑی تعداد ہے ۔ فوجی جوانوں کو الیکشن ڈیوٹی کے دوران اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے ایک مفصل ہدایت نامہ بھی جاری کیا گیا ہے جس کے تحت پولنگ سٹیشن میں ڈیوٹی پر موجود فوجی جوان ووٹ ڈالنے کے عمل کی نگرانی یا مانیٹرنگ بھی کریں گے اور پولنگ مکمل ہونے کے بعد گنتی کے گوشوارے (فارم 45 ) کا عکس بھی اپنے نظام کے تحت اپنے مرکزی دفتر کو ارسال کریں گے یقیناًفوجی ارکان کی طرف سے سکیورٹی سے ہٹ کر ان فرائض کی سرانجام دہی کو بعض حلقوں کے نزدیک پولنگ کے عمل میں مداخلت کے مترادف سمجھا جا رہا ہے ۔ فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اگرچہ واضح لفظوں میں یہ کہا ہے کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے فوج صرف مدد فراہم کرے گی اس کے باوجود بھی اگر کچھ حلقوں کے تحفظات موجود ہیں تو الیکشن کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان تحفظات کا ازالہ کرے اور ایسے انتظامات اور اقدامات کو یقینی بنائے جن سے آزادنہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کا عمل خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے مکمل ہو سکے۔


ای پیپر