سرکاری ملازمین کی مذہبی شناخت کیوں ضروری ہے؟
13 جولائی 2018 2018-07-13

4جولائی 2018ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت حلف نامے کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ دیا۔جس میں فاضل جج نے حکومت اور دیگر سیاست دانوں کو تجاویز دیں کہ وہ پاکستان کے آئین کے تناظر میں ختم نبوتؐ اور دیگر مقدس عقائد کی حفاظت کرے۔منکرین ختم نبوت قادیانی جو آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم ہیں ان کے حوالے سے فاضل جج نے کہا کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر پاکستان کے اہم اداروں اور اہم پوسٹوں پر براجمان رہتے ہیں۔جس سے مسلمان اکثریت کے حقوق غصب ہوتے ہیں۔اس کے لیے جسٹس صدیقی نے کہا قادیانیوں کی پاکستان میں تعداد ابھی تک واضح نہیں۔محکمہ شماریات کی تعداد اور نادرا کی تعداد میں بہت بڑا تفاوت ہے۔جسٹس صدیقی نے کہا کہ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اور نادرا ہر پاکستانی شہری کی مذہبی شناخت معلوم کرے۔ سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والے افراد سے خصوصی طور پر مذہبی شناخت کا حلف نامہ لیا جائے۔پاکستان کے ہرشہری کا یہ حق ہے کہ اس پر حکومت کرنے والے شخص اور افسر کا کیا مذہب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کے تحت کسی کو مذہبی شناخت چھپانے کا حق نہیں۔
پاکستان میں مذہبی شناخت چھپانے کا معاملہ قیام پاکستان سے سامنے آیا جب قادیانی اپنے مذہب کو چھپا کر پاکستان کے اہم اداروں میں اعلی عہدوں تک پہنچتے رہے۔جس کا اندازہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سرظفراللہ قادیانی سے لگایا جاسکتاہے جس نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ اس لیے نہیں پڑھا کہ ان کے ہاں قائد اعظم مسلمان نہیں تھے۔آئین پاکستان کے تحت قادیانیوں 7ستمبر1974ء کے تحت پاکستان کی اسمبلی نے متفقہ طور پرغیرمسلم ڈیکلئیر کر رکھا ہے۔ بعدازاں 26اپریل 1984ء میں صدر ضیاء الحق نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو مسلمانوں کے شعائر اسلام استعمال کرنے سے روک دیا۔ قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں کا اختلاف سرور دوعالمؐ کی ختم نبوت پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے ہے۔ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو معاذاللہ نبی کہتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کو عقیدہ ہے جو اللہ تعالی اور اس کے محبوبؐ نے بھی بیان کردیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا آپؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ 1974ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں جس وقت قادیانی مسئلہ زیر بحث تھا تو قادیانیوں کے نمائندے نے قومی اسمبلی کے سامنے اقرارکیاکہ جو مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا ہم اسے مسلمان نہیں سمجھتے جس پر ایوان ہکا بکا رہ گیا۔ قادیانیوں کو غیرمسلم قراردینے کے باوجو د پاکستان دیگر اقلیتوں کی طرح آئین کے تحت دیے گئے قادیانیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتاہے۔ان کی جان ومال کی حفاظت ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے۔لیکن دوسری طرف قادیانیوں کی جانب سے ہمیشہ آئین پاکستان کی خلاف ورزیاں کی جاتی رہیں۔چنانچہ آئین کے تحت قادیانی خود کو مسلمان
نہیں کہہ سکتے ،اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہہ سکتے،کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ کا استعمال نہیں کرسکتے،پاکستان کے سرکاری اداروں میں اعلیٰ عہدوں تک نہیں جاسکتے۔دیگر اقلیتوں کی طرح سرکاری ملازمتوں میں صر ف اقلیتی مخصوص کوٹے پر جاسکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے قادیانی ان تمام قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمتیں بھی حاصل کرتے ہیں اور اعلی عہدوں تک بھی پہنچتے ہیں۔اسلام آبادہائی کورٹ ہی میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ سرکاری ملازمتوں سے ریٹائر منٹ کے بعد بہت سے لوگوں نے اپنے پاسپورٹ میں خود کو قادیانی لکھوایا جب کہ اس سے پہلے وہ مسلمان تھے۔جسٹس صدیقی کے حالیہ فیصلے میں بھی لکھا گیا ہے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے سابق پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز قادیانی تھے۔جسٹس صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے کتنے لوگوں کو معلوم تھا کہ اسلامی ملک کے صدر کا سیکرٹری قادیانی ہے۔
حیرت اس بات پر ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ اراکین کے لیے ختم نبوت حلف نامہ ضروری ہوتاہے،مگر دیگر سرکاری اداروں کے لیے نہیں۔ جب کہ 1993ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے"ظہیرالدین بنام سرکار " نامی فیصلے میں بھی کہا ہے کہ قادیانی شناخت نہیں چھپا سکتے،مسلمانوں کی مذہبی شعائر استعمال نہیں کرسکتے۔یہی بات اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس صدیقی نے لکھی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔جس کی وجہ سے قادیانیوں کی جانب سے مسلسل آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اعلیٰ عہدو ں پر قادیانی براجمان ہیں۔جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قادیانی سرکاری عہدوں کو اپنے مذہب کی ترویج واشاعت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔حالاں کہ یہی قادیانی آئین پاکستان کو بھی نہیں مانتے۔ان کے مطابق 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قراردینے کا فیصلہ غلط ہے۔اسی بات کو لے کر قادیانی بیرونی دنیا میں پاکستان کے خلاف منفی باتیں اور پروپیگنڈہ کرتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان میں کئی اقلیتیں رہتی ہیں،ان میں سے آج تک کسی اقلیت نے اپنی شناخت چھپائی اور نہ خود کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں والے فوائد سمیٹے۔صرف قادیانی ہیں جو خود کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں والے فوائد حاصل کرتے ہیں۔اس لیے نہ صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کاحالیہ فیصلہ بلکہ اس سے قبل سپریم کورٹ کا فیصلہ"ظہیر الدین بنام سرکار"عین قانون کے مطابق ہیں۔جن پر عملدرآمدکرانا حکومت وقت کا کام ہے۔مگر افسوس پاکستان کی موجودہ نگران حکومت کے وزیر اطلاعات ونشریات بیرسٹر علی ظفر نے 10جولائی 2018ء کو اسلام آباد میں اقلیتوں کے ایک سمینار میں خطاب کے دوران کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ سرکاری ملازمین کے لیے شناخت بتانا ضروری ہے یہ خلاف قانون ہے،حکومت اسے چیلنج کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو شہریوں میں مذہب کے اعتبار سے فرق نہیں کرنا چاہیے۔نگران حکومت کے وفاقی وزیر کی یہ باتیں دراصل خود خلاف آئین ہیں۔آئین میں جب لکھا ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں،وہ اپنی مذہبی شناخت نہیں چھپا سکتے۔مسلمانوں والے شعائر استعمال نہیں کرسکتے توپھر کیسے کہا جاسکتاکہ سرکاری ملازمین کے لیے مذہبی شناخت بتانا کوئی ضروری نہیں۔اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پھرتو مبینہ طور پرمذہبی شناخت چھپا کر پاکستان کا وزیر اعظم یا صدر غیر مسلم بن سکتاہے،جو یقیناًخلاف آئین ہے۔اراکین اسمبلی اور سینٹ کے لیے ختم نبوت حلف نامہ بھی ضروری نہیں ہوناچاہیے، کیوں کہ ختم نبوت حلف نامہ بھی دراصل مذہبی شناخت بتانا ہوتا ہے۔ مذہبی شناخت چھپانے سے سب سے بڑا نقصان پاکستان کی اکثریتی آبادی کو ہوتاہے جو مسلمان ہیں کہ ان کے حقوق پرغیر مسلم مذہبی شناخت چھپا کر قابض ہوجاتے ہیں۔اس لیے بیرسٹر علی ظفر کے اس بیان سے براہ راست فائدہ قادیانیوں کو پہنچتا ہے کہ پاکستان میں صرف یہی وہ اقلیت ہے جو اپنی شناخت چافرتی ہے۔مسلمانوں کا روپ دھار کر عام لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔پھر مذہبی شناخت اگر ضروری نہ ہوتو اس سے نظریہ پاکستان پر بھی زد پڑتی ہے۔کون نہیں جانتا کہ دوقومی نظریہ بھی تو مذہبی شناخت ہی تھا،جس کی بنیاد پر پاکستان بنایاگیا۔اگر آج ہم پاکستان میں مذہبی شناخت کو ختم کردیں تو پھر نظریہ پاکستان ہی گویا معطل ہوجاتاہے۔پھردوسری طرف جب اراکین اسمبلی کے لیے مذہبی شناخت بتانا ضروری ہے تو پھر دیگر سرکاری اداروں میں کیوں ضروری نہیں ہونا چاہیے۔اس لیے سیاست دانوں کو مل کر یہ قانون سازی کرنی چاہیے کہ ہر سرکاری ملازم سے مذہبی شناخت کا حلف نامہ لیا جائے اور ریاست کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ وہ ہر شہری کی مذہبی شناخت سے واقف ہو۔دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں پر مذہبی شناخت چھپائی جاتی ہو۔ہر ملک اپنے شہریوں کی مذہبی شناخت کو رجسٹر کرتاہے توپاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ سرکاری اداروں سمیت دیگر شہریوں کی مذہبی شناخت کو رجسٹر کرے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے اقلیتوں کے حقوق پر کوئی زد پڑی گی۔بلکہ اقلیتوں کو آئین کے تحت ان کے بنیادی حقوق آج بھی دیے جارہے ہیں۔
بہرحال نگران حکومت کے وزیر اطلاعات ونشریات کو بھی چاہیے کہ انہوں نے جو متنازع بات کہی اس سے رجوع کریں۔اگر موصوف وزیر واقعی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چینلج کرتے ہیں تو عوام کو اپنا دباؤ ڈالنا چاہیے۔پھر نگران حکومت کو آخر کیا ضرورت پیش آگئی کہ وہ مختصر وقت میں آئین اور قانون کے خلاف عدالتوں میں جانے لگیں۔قانون سازی کا حق پارلیمنٹ کو ہے۔یادرہے کہ بیرسٹر علی ظفر نے اس سے پہلے رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے گزشتہ رمضان سے پہلے دیے گئے جسٹس صدیقی کے فیصلے کو چیلنج کرکے معطل کروایا تھا۔حالاں کہ جسٹس صدیقی کا فیصلہ آئین پاکستان اور پاکستان کی تہذیبی وثقافتی امنگوں کے عین مطابق تھا۔بہرحال پاکستانی قوم کو اس معاملے میں احتجاج کرنا چاہیے اور نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کی حفاظت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔


ای پیپر