وقت منصف ہے فیصلہ دے گا
13 جولائی 2018 2018-07-13

گزشتہ 24 گھنٹے سے پورا پاکستان سانس روکے کھڑا ہے کہ ملک کے تین بار وزیراعظم میاں نواز شریف احتساب عدالت سے سنائی جانے والی 10 سال قید با مشقت بھگتنے کے لیے وطن واپس آ رہے ہیں۔ میاں صاحب کی جب غیر جانبدار سیاسی سوانح حیات لکھی جائے گی تو ان مصنفین کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت کٹھن ہو گا کہ وہ پاکستانی سیاست کے خوش بخت ترین کردار ہیں یا پھر بدقسمت ہیں۔ ان کی خوشی قسمتی ہے ہے کہ وہ تین بار ملک کے وزیراعظم بنے یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جس کا ٹوٹنا اگلی نصف صدی میں نظر نہیں آٹا لیکن ان کے مخالفین کا خیال ہے کہ وہ اس لحاظ سے بدقسمت ہیں کہ عوام ہر بار ان سے امیدیں وابستہ کر کے انہیں تخت نشین کرتے تھے مگر وہ ہر بار ڈلیور کرنے میں ناکام رہتے اور انہیں اپنی مدت پوری کیے بغیر ہی سبکدوش ہونا پڑتا۔ تاریخ کا یہ عمل چونکہ ابھی جاری ہے اور میاں صاحب ابھی سیاست سے کنارہ کش نہیں ہوئے لہٰذا اس سوال کا جواب آنے میں ابھی مزید کم از کم ایک دھائی در کار ہے ۔
یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ میاں صاحب کو جب بھی ہٹایا گیا وہ پھر واپس آ گئے۔ انہیں اقتدار کے ایک دروازے سے رخصت کیا جاتا ہے مگر وہ جلد یا بہ دیر دوسرے دروازے سے واپس آجاتے ہیں۔ یہ واپسی اگر سیدھے طریقے سے یعنی عوامی امنگوں سے مطابق ہوتی تو وہ آج ایک Icon یا ہیرو کا درجہ حاصل کر لیتے مگر چونکہ وہ اس عمل میں عوام سے الگ تھلگ عالمی طاقتوں کے ساتھ خفیہ معاہدوں اور فوجی حکمرانوں کے ساتھ لین دین کر کے خود ساختہ جلا وطنی اور واپسی کے ذمہ دار ہیں لہٰذا اس وجہ سے ان کے پرستاروں کے لیے ان کے مخالفین کو جواب دینا آسان نہیں ہوتا بلکہ اس موڑ پر آ کر میاں صاحب کے ہم نواؤں کو معذرت خواہی یا خاموشی اختیار کرنا پڑتی ہے ۔ BBC نے میاں نواز شریف کو Revolving door prime minister قرار دیا ہے یہ ایک طرح کا گردشی دروازہ ہوتا ہے جو دائرے کی شکل میں گھومتے ہوئے باہر سے آنے والے کو اندر اور اندر سے جانے والے کو گھما کر باہر بھیجتا ہے ۔ اس دروازے کے اندر گھسنے کی دیر ہوتی ہے مگر آپ اندر سے گھسیں گے تو ایک لمحے کے بعد آپ باہر ہوں گے اور اس کے برعکس اگر آپ باہر سے گھسیں گے تو اگلے ہی لمحے آپ اندر پہنچ چکے ہوں گے اور آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا ۔ میاں نواز شریف اقتدار کے اس Revolving door کو اپنی مرضی کے مطابق گھمانے کا گر جانتے ہیں اس لیے اقتدار سے عارضی محرومیاں ان کا کچھ نہیں بگاڑتیں۔
میاں نواز شریف جب 2001ء میں اٹک جیل سے نکلے تو پاکستان کی سرزمین ان کے نقش کف پا سے یکسر محروم رہی کیونکہ وہ جیل سے باہر ہونے کے ساتھ ہی ملک سے باہر بھیج دیئے گئے اور جیل سے باہر ان کا پہلا قدم وہ تھا جو جدہ کی سرزمین کو نصیب ہوا اس تاریخی سفر میں کہا جاتا ہے کہ ان کے اہل خانہ کے ہمراہ 70 سوٹ کیس بھی ان کے ساتھ گئے تھے اور یہی وہ فلائٹ تھی جس کی کھڑکی سے باہر انہوں نے جاوید ہاشمی کو پارٹی کا صدر بنانے والی پرچی پھینکی تھی جس کے ردعمل میں پاکستان مسلم لیگ ق نے جنم لیا اور تقریباً دس سال تک اقتدار کے مزلے لوٹے۔ اس ساری Episode کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کے جدہ میں قیام کے دوران پاکستان کے عوام اور ان کی پارٹی کے سینئر ممبرا تک جو انہیں چھوڑ کر مخالفین سے جا ملے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ میاں صاحب کو اننگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا اور وہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اقتدار میں واپس آ گئے۔ 2013ء کے الیکشن جسے ان کے مخالفین Fixed Match قرار دیتے ہیں میاں صاحب نے عوامی طاقت اور مقبولیت کے سارے ریکار توڑ دیئے۔ اس موقع پر جو سیاستدان مشکل وقت میں انہیں چھوڑ گئے تھے وہ منت سماجت اور پاؤں پکڑ کر دوبارہ پارٹی میں واپس آ گئے۔
پاکستانی جمہوریت ایک ٹھیکیداری نظام ہے جو پورے ملک میں انتخابی حلقہ در حلقہ پھیلا ہوا ہے اس حلقے کا پارلیمانی نمائندہ اپنے حلقے میں ایک ٹھیکیدار کی طرح معاملات کو انجام دیتا ہے ۔ جہاں حکومت کی حمایت کے عوض اسے علاقے کے سیاسہ و سفید کا مالک تسلیم کیا جاتا ہے حلقے کے تمام تھانے تمام پٹوار خانے اور ریاستی اختیار کے مراکز پر اس کا حق تسلیم کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ حکمران جماعت کے لیے ہر طرح کی وہسلت کاری فراہم کرتا ہے اور ہر الیکشن کے موقع پر پارٹی اس کے ساتھ ڈیل کرتی ہے اسے ہماری سیاسی لغت میں Electable لکھا اور پکارا جاتا ہے اور جس پارٹی کے پاس جتنے زیادہ ٹھیکیدار یا Electable ہوتے ہیں اقتدار کا ورج اسی کی اجازت سے نکلتا اور ڈوبتا ہے ۔
اس پس منظر میں میاں نواز شریف کی واپسی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ قید کاٹنے آ رہے ہیں تو وہ اس کو سادگی ہے ۔ درحقیقت میاں صاحب جن کے لیے جیل کے دروازے کھلے ہیں وہ اس لیے آ رہے ہیں کہ ان کے لیے عدالتوں کے دروازے بند نہ ہو جائیں ۔ چونکہ آئین و قانون کی رو سے کسی سزا یافتہ مجرم کے لیے عدالت کا راستہ جیل کے دروازوں سے ہو کر گزرتا ہے لہٰذا یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ وہ ابھی تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اور اپنے سیاسی سفر کی بقاء کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کی یہ ساری Struggle اس لیے ہے کہ وہ جیل جا کر دو کام کریں گے ایک تو وہ فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے کیونکہ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر وہ خود نہیں حاضر ہوتے تو اپیل کا حق ضائع ہو جائے گا اور وہ تسلیم شدہ مجرم یا convict سمجھے جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں وہ ضمانت کی درخواست دائر کر دیں گے اور معمول کے مطابق یہ ضمانت انہیں مل جانی چاہیے ان کی ضمانت کے راستے میں اگر کوئی قانونی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ نیب کے کیس کی سماعت کے دوران عدالت سے تعاون نہ کرنے پر انہیں ایک سال کی اضافی سزا سنائی گئی ہے ۔ یہ سزا مدت کے لحاظ سے معنی نہیں رکھتی کیونکہ یہ ان کی اصل سزا کے ساتھ ہی شروع ہو جائے گی لیکن ضمانت کی درخواست کے معاملے میں یہ ان کے خالف استعمال ہو گی کہ مجرم کا عدالتوں کے ساتھ تعاون کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے ۔
میاں صاحب نے ضمانت کے لیے بڑی مضبوط بیک گراؤنڈ بنا رکھی ہے جو ان کی اہلیہ کی بیماری ہے لہٰذا کسی عدالت کے لیے ایک ایسے شخص کی ضمانت خارج کرنا غیر انسانی فعل ہو گا جو اپنی جاں بہ لب شریک حیات کی نگہداشت کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتا ہو۔
تازہ ترین صور ت حال یہ ہے کہ اس وقت پورے ملک کے اعصاب پر میاں نواز شریف کی واپسی سوار ہے ۔ ان کے حمایتی اور مخالفین اور حکومتی ادارے سب کے سب ہیجان کی کیفیت میں ہیں کہ کیا ہو گا ۔ اس موقع پر حکومت اور (ن) لیگ دونوں کی جانب سے حدود سے تجاوز نظر آ رہا ہے مثلاً اگر مریم نواز اور میاں نواز شریف جیل کاٹنے آ رہے ہیں یا اپیل کے لیے پیش ہونا چاہ رہے ہیں تو انہیں اسلام آباد اترنا چاہیے تھا مگر وہ حکومت کو اپنی مقبولیت باور کرانے کے لیے اپنے آبائی علاقے لاہور اترنا چاہتے ہیں تا کہ زیادہ مجمع اکٹھا کیا جا سکے یہ ان کی طرف سے فاؤل ہے ۔ نگران حکومت نے بھی فاؤل کا جواب فاؤل سے دیتے ہوئے لاہور میں (ن) لیگیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور کنٹینر لگا کر سڑکیں بلاک کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تا کہ عوام کو ایئر پورٹ جانے سے روکا جا سکے۔ میاں صاحب کے مشینروں نے ان سے لاہور اترنے کی سیاسی غلطی کروائی ہے ورنہ یہی Crowd وہ اسلام آباد اکٹھا کر سکتے تھے۔ جب (ن) لیگ کے ٹکٹ ہولڈر کو 2000 آدمی فی امیدوار کا ٹاسک دیا گیا ہے تو یہ کام اسلام آباد میں بھی ہو سکتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں لیگی قیادت بے روزگار اور مزدور طبقے کو 1500 روپے مفت کھانا ٹرانسپورٹ اور موبائل فون کا رڈز مہیا کر رہی ہے ۔ خواتین کا پیکیج ڈبل رکھا گیا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ پریشر ڈالا جا سکے۔ نگران حکومت اور (ن) لیگ ایسے اقدامات سے جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز کی واپسی تخت و تاج کی جنگ میں فیصلہ کن اہمیت کی حامل ہے جو میاں صاحب کے سیاسی رول اور مریم نواز کی جانشینی کا فیصلہ کر دے گی ۔ مگر کے اندر اور ملک سے باہر ہر طرح پر حالات کی نہایت خاموشی مگر باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے ۔
وقت منصف ہے فیصلہ دے گا


ای پیپر