فیصلہ پنجاب کو کرنا ہے
13 جولائی 2018 2018-07-13

احتساب عدالت سے سزا کے فیصلے کے بعد نواز شریف کی وطن واپسی سیاسی حلقوں میں خواہ مخواہ میڈیا میں سب سے زیادہ اور مقبول موضوع بن گیا ہے ۔باقی تمام مسائل اور معاملات ’’غیر اہم‘‘ بن گئے ہیں۔ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کی ایف آئی اور عدالت میں طلبی پر اتنے مضامین شایع نہیں ہوئے جتنے نواز شریف کی آمد اور اس کے ممکنہ اثرات پر ہوئے۔ کیا ہوگا؟ مختلف پہلوؤں ، اور اثرات پر بحث کی جارہی ہے ۔ نواز شریف کے بیانیے اور سیاست کے بارے میں سندھ کیا سوچتا ہے ، اس کا اندازہ سندھی اخبارات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اس موضوع پر اداریے، کالم، تجزیے شایع ہو رہے ہیں۔ اخبارات نے مختلف جماعتوں کے منشور اور عوام سے نئے وعدوں پر بھی تبصرے اور تنقید کے ساتھ ساتھ گزشتہ حکومتی میعاد میں بدترین کارکردگی پر جواب طلبی کو بھی موضوع بنایا ہے ۔
روزنامہ عبرت اداریے میں لکھتا ہے کہ میاں نواز شریف صاحبزادی کے ساتھ وطن لوٹ رہے ہیں۔ ایک طرف نیب کے اہلکار فکرمند ہیں کہ وہ انہیں ہر صورت میں گرفتار کرنا چاہتے ہیں دوسری طرف کارکنان ہیں جنہیں پارٹی قیادت نے اپنے لیڈر کا استقبال کرنے ایئرپورٹ پہنچنے کے لئے کہا ہے ۔جس کے بعد خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے ۔ پولیس نے لیگی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے ۔
’’روزنامہ سندھ ایکسپریس‘‘ میں عاجز جمالی لکھتے ہیں کہ ’’نواز شریف کے روپ میں پنجاب بغاوت کے دروازے پر کھڑا ہے ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے ضیاء الحق سے بغاوت کی اور جلاوطنی اختیار کی تھی۔وطن واپسی پر نہوں نے بھی لاہور کا انتخاب کیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں ضیاء آمریت کے سیاہ دور کی پیداوار ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بینظیر بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھی جو بھگت سنگھ کا پیروکار تھا۔ نواز شریف ضیا ء الحق کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے تھے۔ لیکن یہ تین دہائی پرانی بات ہے ۔ اب نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ہم بالغ ہو گئے ہیں۔ اپنی مرضی پر چلیں گے۔ بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ بھی پنجاب نے دیا تھا۔ آج نواز شریف اور عمران خان بھی خود کو پنجاب کا نمائندہ مانتے ہیں۔سچ یہی ہے کہ پنجاب کا مقابلہ پنجاب ہی کرسکتا ہے ۔ آج اگر پنجاب کی اسٹبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ ہے تو اس کا مقابلہ پنجاب کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔ اب پنجاب کا امتحان شروع ہے ۔ نواز شریف کے پاس اب درست وقت آگیا ہے ۔ اگر وہ پنجاب کے عوام کو جگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آمریت کے اتحادی کا داغ دھو ڈالیں گے۔ لاہور کی سرزمین اگر میدان جنگ بنتی ہے ، اسٹبلشمنٹ کو پنجاب کے عوام سے لڑنا مشکل میں ڈال دے گا۔ جس طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں اس کے نیتجے میں’’ کنٹرولڈ پولنگ‘‘ ہوگی اور ڈر ہے کہ نتائج بھی ’’ انجینئرڈ ‘‘ہوں۔اگر پولنگ ایجنٹ کو دیئے گئے اور حتمی نتائج میں فرق ہوا۔ ممکن ہے کہ ووٹرز خاموش بیٹھ جائیں لیکن نواز لیگ کے کارکن اس صورتحال پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ تصادم ہو یا نہ ہو، انتخاب کے نتائج متنازع بن جائیں گے۔ اس خطرے کے پیش نظر شفاف انتخابات کرانا، عوام کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق دینا، نتائج کو انجنیئرڈ بنانے کے بجائے جیسے ہوں ویسے قبول کرنا ضروری ہے ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عوام کی رائے کے سامنے تمام پیش گوئیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔ ممکن ہے کہ 26 جولائی کا دن بہت افراد کے خواب چکنا چور کر دے۔ بہر حال اسکا تمام تر انحصار پنجاب پر ہے ۔ ۔۔۔ پنجاب کا فیصلہ جمہوریت کو مضبوط بھی کر سکتا ہے اور کمزور بھی۔
ارباب چانڈیو لکھتے ہیں نواز شریف اور ان کی نواز شریف جو مطالبات سے سے کوئی ذی شعور پاکستانی اختلاف نہیں کر سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو چلنے دیا جائے،انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہئیں۔ منتخب حکومت کو خارجہ اور دفاعی پالیسی بنانے کا حق دیا جائے۔ یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ ان مطالبات پر عمل کس طرح سے ممکن ہے ؟ پاکستان میں جمہوری آزادیاں کس طرح سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ تب ممکن ہو سکے گا جب جمہوری قوتیں جمہوری نظام کے لئے تمام اختلافات بھول کر متحد ہو جائیں اور کسی بھی غیر جمہوری قوت کو موقعہ نہ دیں کہ وہ جمہوریت کو پٹری سے اتار سکے۔ ممکن ہے کہ حکومتی اقدامات کارکنوں کو فقید المثال استقبال کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ لیگی کارکنان اور پنجاب کے عوام اس کا بدلہ 25 جولائی کو لے لیں گے۔
’’روزنامہ کاوش ‘‘ میں رابراہیم کمبھر لکھتے ہیں کہ نواز شریف سزا یافتہ ’’مجرم‘‘ ہے ریاست کو اپنی عملداری دکھانے کے لئے گرفتار کر کے جیل بھیجنا ہے ۔ اگر یہ کام اتنا ہی آسان ہے تو پھر خوف کیوں چھایا ہوا ہے ؟ نواز شریف کی گرفتاری کے لئے حکومت نے تمام انتظامات کئے، صوبائی نگراں حکومت نے ہدایات پر مکمل عمل درآمد رکانے کی یقین دہانی کرئی ہے ۔ اس کے باوجود ہر ادارے اور وہاں بیٹھے ہوئے ہر شخص کے اندر سے خوف جھانک رہا ہے ۔۔۔ نگراں حکومت غیر جانبدار ہوتی ہے ، لیکن نواز شریف کے استقبال کی تیاریوں میں رکاوتیں دیکھ کر جنرل مشرف کا دور یاد آرہا ہے ۔ نواز شریف سعودی عرب سے جلاوطنی ختم کر کے اسلام آباد ایئر پورٹ پر اترنے والے تھے، تب دونوں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں کرفیو کا عالم تھا۔ ۔۔ اب جمہوریت کے ساتھ سیاست کو بھی کنٹرول کردیا ہے ۔ ایسے میں مریم نواز کا جملہ ملین ڈالر کا ہے ’’ ملک کو آزاد کرانا ہے ۔۔ نوازز شریف کی آمد پر جن حلقوں کو خوف ہے وہ دراصل عوام کا خوف ہے ۔ عوام ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے تو انہیں بھٹو سے ڈر لگتا تھا، پھر عوام جب بینظیر کے ساتھ کھڑے ہوئے تو ان
سے بھی خوف لگتا تھا، اور اب عوام نواز شریف کے ساتھ ہیں تو انہیں نواز شریف کا خوف کھائے جارہا ہے ۔ ایک اور خوف نواز شریف کے بیانیئے سے بھی ہے ۔


ای پیپر