سر !ایسا کب تک چلے گا؟
13 جولائی 2018 2018-07-13

مرزا صاحب نے چائے کی چسکی لی اور پہلو بدلتے ہوئے گویا ہوئے’’آپ کو پتا ہے ہمارا اصل مسئلہ ہے کیا؟‘‘میں نے جواب طلب نظروں سے ان کی طرف دیکھا ‘وہ سگریٹ کا کش لگا تے ہوئے بولے۔’’بھائی جان ہمارا اصل مسئلہ کرپشن نہیں‘ ادارے ہیں‘‘۔میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا کہ جناب یہ تو سچ ہے کہ ہمارا اصل ایشو ملکی ادارے ہیں‘کیونکہ ہم پچھلے ستر سالوں میں اپنے ادارے نہیں بنا سکے‘آپ کسی بھی ادارے کو اٹھا کر دیکھ لیں‘آپ اس کے انفراسٹرکچر کو دیکھیں‘آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ آپ آج بھی کسی حد تک کالونیل ازم کا حصہ ہیں۔مرزا صاحب میری بات سن کر مزید جذباتی ہوئے ’’آپ کے ستر فیصد ادارے آج بھی وہ پالیسیاں ماننے پر مجبور ہیں جو انگریز نے جاتے ہوئے ہمارے گود میں ڈالی تھیں‘‘۔مجھے ان کی بات میں وزن لگا‘میں نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ’’مگرحضرت ہماری اس بحث کا نواز شریف کی کرپشن سے کیا تعلق؟‘‘۔مرزا صاحب بولے’’بہت گہرا تعلق ہے‘آپ بتائیں ہمارے ملک میں کرپشن کب شروع ہوتی ہے‘جب ادارے ٹھیک کام نہیں کرتے‘آپ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ہی لے لیں‘جب پولیس ڈیپارٹمنٹ 302کی ایف آئی آر کاٹنے کے لیے بھی پیسوں کی ڈیمانڈ کرے گا‘جب ایک حوالدار ریب کیس میں بھی لڑکی والوں سے رشوت مانگے گا‘جب چوری کے کیس میں پولیس والے ملز م اور مدعی دونوں سے پیسہ لے کر کیس ٹھپ کر دیں گے یا صلح کروا دیں گے تو بتائیں کیسے کرپشن رکے گی؟‘‘۔مجھے ان کی بات سو فیصد ٹھیک لگی‘مرزا صاحب نے سگریٹ کی ایش چائے کے خالی کپ میں گراتے ہوئے دوبارہ گفتگو شروع کی۔’’دیکھیں سرآپ ایک نائب قاصد کی مثال لے لیں‘کیا وہ کرپشن نہیں کرتا ؟‘آپ کو ایک ٹھیک کام کروانے کے لیے بھی کلرک‘نائب قاصد‘پٹواری اورچپڑاسی کو پیسے دینے پڑتے ہیں‘کیوں؟کیوں کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ دیے بغیر آپ کا سو فیصد ٹھیک کام بھی نہیں ہوگالہٰذا آپ کو کرپشن کا سہارا لینا پڑتا ہے‘‘۔مرزا صاحب نے نیا سگریٹ جلاتے ہوئے مجھے سگریٹ کی آفر کی‘میں نے انکار میں سر ہلا دیا‘وہ سگریٹ کا کش لیتے ہوئے پھر بولے’’ سر جی خدا کے لیے اداروں کو مضبوط کریں‘اداروں کو خود مختاری دیں‘اداروں میں چینک اینڈ بیلنس کریں‘ان کے کام پر کڑی نظر رکھیں‘ان سے پوچھ گچھ کریں‘میں دیکھتا ہوں کون سا ادارہ کرپشن کرتا ہے‘‘۔یہ سچ ہے کہ پچھلے ستر سالوں میں ہم اپنا کوئی ادارہ ریفائن نہیں کر سکے‘ہم نے ستر سالوں میں ملکی اداروں کی فنشنگ نہیں کی‘کسی ادارے میں ہم نے کوئی نئے اصول و ضوابط نہیں بنائے اور نہ ہی نیا سسٹم دیا تو کیسے ہم مان لیں کہ اس ملک کا اصل مسئلہ کیا ہے۔مرزا صاحب ویٹر کو بلایا‘ایک اور چائے کا آرڈر دیتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئے’’ سر دیکھیں ہم نے اس ملک میں کرپشن کی ہوا بنا دی ہے‘ہم نے اس ملک کے عوام کو کرپشن کرپشن کا راگ سناتے ہوئے نفسیاتی مریض بنا دیا ہے‘آپ اندازہ کریں ہمارا سات سال کا بچہ جسے کرپشن کے معانی تک نہیں آتے وہ بھی کہتا ہے کہ نواز شریف ایک کرپٹ لیڈر ہے‘کیوں؟کیوں کہ ہمارے پاس اپنے پاپ چھپانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘‘۔انہوں نے پہلو بدلا‘قمیض کی آستین سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولے’’ سر آپ عدالت کو ہی لیں‘آپ دنیا کا کوئی بھی ملک بتائیں جہاں چیف جسٹس ہسپتالوں کے واش رومز‘گلیوں کی صفائی‘ٹریفک کے مسائل یا ڈیم کے مسائل کے لیے گلیوں میں نکلا ہو مگر پاکستان میں ایسا ہوا‘‘۔میں نے مرزا صاحب کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’جناب یہ تو عوامی فلاح کے کام ہیں‘یہ تو ان کا اچھا کارنامہ ہے‘‘۔مرزا صاحب قہقہہ لگا کر ہنسے’’آغر بھائی اوکے‘آپ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو دیکھیں‘اس وقت سپریم کورٹ میں بے تحاشا کیس پینڈنگ ہیں‘ہائیکورٹ اور سیشن کورٹ کا حساب الگ ہے‘یہ کس کا کام ہے؟‘جناب مسئلہ تب بنتا ہے جب لوگ اور ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں‘چیف جسٹس کا کام عوامی احساسات و جذبات دیکھ کر نہیں آئین اور قانون کو سامنے رکھ کے فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ عدالت میں ہی ممکن ہے‘‘۔میں نے اس بات پر نفی میں سر ہلایا اور سوال کیا‘آپ کولگتا ہے کہ نواز شریف کو سزا ہونے سے الیکشن متاثر ہوگا‘مرزا صاحب نے تیسرا سگریٹ جلایا اور دوبارہ بولے’’بالکل‘اگر الیکشن سے پہلے نواز شریف پاکستان آتے ہیں تو پاکستان تحریک انصاف کے لیے مشکل ہو جائے گا‘کیوں کہ عوام نواز شریف کے آنسو نہیں دیکھ سکیں گے لہٰذا عوام دوبارہ اسے منتخب کریں گے ۔‘‘مجھے ان کی یہ رائے بھی کمزور لگی۔مرزا صاحب دوبارہ بولے’’ سر اندازہ کریں‘اس وقت نیب میں دو بڑے کیسز چل رہے ہیں‘ایک طرف آرٹیکل چھے کا مقدمہ ہے جسے غداری کہتے ہیں‘یہ مشرف پر چلایا جا رہا ہے‘ جس کی کم سے کم سزا موت ہے‘آپ دیکھیں عدالت اسے عزت اور احترام سے بلاتی ہے‘اسے الیکشن لڑنے کی اجازت تک دیتی ہے مگر اس کے باوجود وہ آئین اور عدالت کو کوئی ویلیو نہیں دیتا ‘ دوسری طرف نواز شریف پہ آرٹیکل باسٹھ‘تریسٹھ کا مقدمہ ہے جو بد عنوانی پر ہے مگر اسے عدالت کہتی ہے کہ نواز شریف حاضر ہو‘آپ بتائیں یہ کون سا انصاف ہے؟غداری کا ،مقدمہ بڑا ہے یا بدعنوانی کا؟‘‘مرزا صاحب نے آدھا سگریٹ غصے میں زمین پر پھینکا‘میز پر مکا مارتے ہوئے بولے’’ سر ایسا تو نہیں چلے گا‘آپ جب چاہیں جو چاہیں کرتے رہیں اور پھر یہ بھی کہیں کہ یہ پری پلان نہیں‘‘۔میں خاموش بیٹھا ان کے چہرے پر غصہ دیکھ رہا تھا’’ سر پچھلے ستر سالوں میں نہ آپ کے الیکشن فیئر ہوئے‘نہ آپ کے ادارے خود مختار ہوئے‘نہ آپ کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی لیڈروں کو خود مختاری ملی ‘نہ ہی آپ نے جمہوریت کو پنپنے دیا‘آپ نے جب چاہا مارشل لاء لگا دیا‘جب چاہا جمہوری دور لے آئے اور جب چاہا وزیر اعظم اتار پھینکا‘ سر ایسا کیسا چلے گا‘‘۔ مجھے ان کی یہ بات واقعی درست لگی‘میں جانتا تھا کہ خواجہ ناظم الدین‘محمد خان جونیجو‘بے نظیر بھٹو‘نواز شریف(پہلے دور) اور یوسف رضا گیلانی کو ہم نے برطرف کیا تھا‘میں جانتا تھا کہ ہم نے محمد علی بوگرہ‘چودھری محمد علی اور ظفر اللہ جمالی سے ذبردستی استعفے لیے تھے‘میں یہ بھی جانتا تھا کہ ہم نے فیروز خان نون‘ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف(دوسری دفعہ)کاذبردستی تختہ الٹا تھا اور مجھے یہ بھی علم تھا کہ لیاقت علی خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کوبعد ازاں قتل کیا گیا تھا لہٰذا میں مرزا صاحب کی اس بات پر متفق تھا کہ’’ ایسا تو نہیں چل سکتا کہ جب چاہا جو مرضی کر دیا‘ہمیں حکومتوں‘ اداروں اور حکمرانوں کواپنی مرضی کے تسلط سے آزاد کرنا ہوگا‘یہی اس ملک و قوم کے لیے بہتر ہے اور یہی کرپشن ختم کرنے کا آخری حل کیونکہ کرپشن تب ہوتی ہے جب ادارے کمزور ہوں۔


ای پیپر