الیکشن 2018، پنجاب کی نگران حکومت اور تیاریاں
13 جولائی 2018 2018-07-13



13 مئی 2018 ء کو حکومت کے مقرر پانچ سال مکمل ہوئے۔ حکومت اور اپوزیشن پارٹی میں ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا تھا کہ نگران وزیراعلیٰ کون بنے گا۔ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس گیا۔ اور 7 جون 2018ء ڈاکڑ حسن عسکری نگران وزیراعلیٰ منتخب ہوے۔یکم جون کو انہوں نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں سب کو برابر موقع ملے گا کہ وہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا سکیں, اور میں پوری کوشش کروں گاکہ یہ انتخابات شفاف ہوں اور امن وامان کی صورتحال قائم رہے۔ اْن کے اس جذبے اور عہد کو دیکھ کر لگا کہ نگران وزیراعلیٰ کچھ مختلف ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر حسن عسکری صاحب سے متاثر ہوکر میں ان کے بار ے میں پڑھنے لگی اور پتہ یہ چلا کہ ڈاکٹر
صاحب ایک نہایت قابل استادہی نہیں بلکہ یوایس ایڈ کے پروگرام فل برائٹ کے ذریعے سکالرشپ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے. مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نگران وزیراعلی ایک استاد ہیں، اور جانتے ہیں کہ ملک کے نوجوانوں کے لیے کیا ضروری ہے اور کیسے ان کے روشن مستقبل کو باآسانی تشکیل دے سکتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حسن عسکری صاحب وزارت عظمیٰ کے لئے درست حقدار ٹھہراتا ہے۔
نگران وزیراعلی پنجاب نے نہ صرف پرامن ماحول قائم کیا بلکہ فلاح انسانی کے کاموں میں بھی اپنا کردار ادا کیا، سیلاب، ڈینگی اور پولیو سے بچاؤ کے لے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے۔ملک میں الیکشن کے باعث پیدا ہونے والے تنازعات سے بچنے کیلیے 2 لاکھ 59 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کو یقینی بنایا، تاکہ الیکشن کے دنوں میں کسی قسم کی کشیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے. اس کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی شخصیات کو لاحق خطرات کے پیش نظر فول پروف سکیورٹی دینے کیلیے اقدامات کیے. اہم سیاسی شخصیات کے لئے ہی نہیں بلکہ امیدواروں، جلسے اور ریلیوں کے لیے بھی سکیورٹی کو یقینی بنایاگیا ہے۔ پنجاب کی عوام کی سہولت کے پیش نظر 141 قومی اور 297 صوبائی نششتوں پر انتخابات کے لیے 47473 پولنگ سٹیشن قائم کیے اور ہر پولنگ سٹیشن پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاہے۔یہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ امن و امان اور ووٹنگ کے عمل کو پر امن بنائیں بلکہ ہر ذمہ دار شہری کو اس بارے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام بخوبی سر انجام دینے کے لئے مستعد ہیں۔
پاکستان آرمی رینجر اور دیگر سکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ امن عامہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کی فلاح و بہبود کے خواہش مند ہیں۔
ڈاکٹر حسن عسکری کے اس عمل سے یہ بات واضح ہے کہ نگران حکومت غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہے. اس کا مقصد صرف صاف، شفاف اور غیر جانبدارنہ انتخابات اور پاکستان کی خوشحالی ہے۔ان کی زیرنگرانی میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ نگران حکومت امن عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کررہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب اس حکومت کو پایہ تکمیل تک کس انداز میں پہنچائیں گے.،کیونکہ حکومت مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ بجٹ سے بھی خالی ہے۔ آغاز میں ایسا لگ رہا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرح پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر یا ناجائز ٹیکس لگا کر اپنی مدت اور ضروریات پوری کر کے جان
چھڑائیں گے تاکہ آنے والی حکومت چاہے جو بھی بجٹ پیش کرے اور اس ملک کا کاندھا بنے یا کاندھا دے لیکن ڈاکٹر حسن عسکری نے اس کے بر عکس کر کے دکھایا۔ انہوں نے غیرضروری اخراجات کو ختم کر کے وزیرعلیٰ دفتر سے ان تمام افسران کو ان کے شعبہ جات میں بجھوایا جو ضرورت سے زیادہ تھے۔ انہوں نے اپنے اس عمل سے ثابت کیا کہ حکمرانوں کو شہنشاہی کے لئے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لئے عہدے ملتے ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ ان کی قیادت میں آئندہ انتخابات اتنے شفاف ہوں گے کہ جتنے پچھلے70 سالوں میں نہ ہو سکے اور وہ ثابت کریں گے کہ وہ اس عہدے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔


ای پیپر