تیری دیوار پر احسان کیا ہے میں نے
13 جولائی 2018 2018-07-13



ایک میراثی جب بھی اپنے پیر سے ملنے جاتا تو صرف یہی گزارش کرتا کہ اے پیر صاحب کبھی اس غریب کے گھر بھی تشریف لائیے۔ ایک دن میراثی کی دیرینہ خواہش بار آور ثابت ہوئی۔ پیر صاحب نے دس بارہ مرید ہم رکاب کیے اور مراثی کے گھر کی راہ لی۔ میراثی کو پیر صاحب کی آمد کی خبر ہوئی تو مراثی خوشی سے بھولے نہیں سما رہا تھا ( بالکل ایسے ہی صورت حال تھی جیسے آج کل کوئی لیڈر کسی غریب ووٹر کے گھر تشریف لے جائے اور اس کی خوشی کو چار چاند لگ جائیں) میراثی کی بیوی نے اپنی بساط سے بڑھ کر خدمت کی اور رنگارنگ کے پکوان تیار کیے ۔ رات رنگین چار پائی اور خوب صورت بستر صحن میں لگا دیے۔ صبح ناشتہ بھی پر تکلف دیا۔ دوپہر کے وقت دادا ( میراثی) کی بیوی نے کہا کہ پیر صاحب سے پوچھو کوچ ہے یا قیام ہے ۔ مراثی بیوی کے پاس آیا اور بولا کہ پیر صاحب ابھی قیام کریں گے۔ بیوی نے
ادھار وغیرہ لیا اس شام پھر خاطر تواضع کی۔ صبح ایسے تیسے کر کے ناشتہ بھی دیا۔ دادا کی بیوی نے پھر اپنے سرتاج سے کہا کہ پیر صاحب سے پوچھیے ! قیام ہے یا کوچ ہے ۔ دادا پھر پیر صاحب اور ان کے مریدین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے پیر صاحب کوچ ہے یا پھر آج بھی قیام ہے ۔ پیر صاحب جو اپنے مریدین سے ٹانگیں اور بازو دبوا رہے تھے اپنی نیم وا آنکھیں کر کے بولے بالک ابھی چار پانچ دن قیام ہے ۔ مراثی بولا مولا خوش رکھے جے تہاڈا قیام اے تے فیر ساڈا کوچ اے ( اگر آپ کا قیام ہے تو پھر ہمارا کوچ ہے ) صرف پچھلے دس سالوں میں ملک 40.3 ارب ڈالر کا مقروض ہوا ہے ۔ اور یہ پچھلے دس سال نواز شریف اور آصف زرداری کی حکومت تھی۔ اس مختصر دور میں آصف زرداری نے ملک کو 20.6 اور نواز شریف نے 34.1 ارب ڈالر کا مقروض کیا ہے ۔
اب یہ لوگ جو یہ دعوے کرتے پھرتے ہیں کہ ہم نے پنجاب میں جنگلا بس چلا دی۔ ہم نے اورنج ٹرین جیسی سوغات ملک کو بخشی۔ ہم نے سڑکوں کا جال بچھا دیا۔ ہم نے ملک کو لوڈشیڈنگ کے چنگل سے آزاد کر کے روشنی بخش دی۔ (ان کی سڑکوں نے تو حالیہ بارشوں نے ہی ان کی ایمانداری کا پول کھول دیا ہے )۔ ہم نے ہسپتال بنا دیے۔ ہم نے بنیادی مرکز صحت بنا دیے۔ ہم نے سکول اپ گریڈ کر دیے۔ ہم نے کالج اور یونیورسٹیاں تعمیر کر دیں۔ کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ بیماری کیا ہے ؟ بے روزگاری کیا ہے ؟ بھوک کیا ہے ؟ پیاس کیا ہے ؟ عوام کیا ہے ؟ عوام کے مسائل کیا ہیں؟ کیوں نہیں پتا؟ اس لیے کہ ان کا علاج بیرون ملک ہوتا ہے ۔ اندرون ملک ہو تو ان کو مریضوں کی حالت اور ہسپتالوں کی حالت کا بخوبی علم ہو جائے۔ انہیں بیروزگاری کا علم تب ہو جب ان کے لاڈلے اندرون ملک ہوں اور ڈگریاں ان کے ہاتھ میں ہوں اور یہ دربدر ملازمت کے لیے اپلائی کرتے پھریں۔ انہیں پیاروں کی قدر کا اندازہ اس وقت ہو جب ان کا مسکن کراچی میں ہو اور یہ بوندھ بوندھ کو ترسیں۔ انہیں بھوکے کا علم تب ہو جب مراثی کو بیوی کی طرح ان کے گھر چند دنوں کا راشن ہو۔ انہیں عوام اور عوام کے مسائل کا علم تب ہو جب یہ اپنی زندگیاں عوام کی سطح پر آ کر گزاریں۔ انہیں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا کرنٹ تب لگے جب یہ اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوائیں۔ انہیں لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کی قیمتوں کا اندازہ تب ہو جب انہیں خود بل ادا کرنے پڑیں۔ انہیں یوٹیلیٹی بل کا خمیازہ تب بھگتنا پڑے جب انہیں خود آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو۔ ان کے لیے احد چیمہ ، فواد حسن فواد، ایان علی جو موجود ہیں جو ان کے لیے کرپشن بھی کریں اور منی لانڈرنگ بھی کریں۔ انہیں نہ تو ملک کے نظام تعلیم سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اداروں میں کوئی دلچسپی ہے ۔ ملک جہالت کی راہ پر گامزن ہے ۔ پیلی کالی ٹیکسیاں دینے اور رکشہ دینے سے بیروزگاری تو کسی حد تک ختم ہو سکتی ہے مگر ذہین قوم پیدا نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ملک میں ڈرائیور کی اخلاقیات اس حد تک غلیظ ترین ہے کہ ایک شریف شہری تصور نہیں کر سکتا۔ ادارے اخلاقی سطح سے نیچے گر چکے ہیں۔ عدم تعاون کی صورت کا گراف نقطہ چڑھاؤ سے بھی اوپر جا چکا ہے ۔ رشوت خوری اس حد تک پھیل گئی ہے کہ جائز کام بھی بغیر پیسوں کے نہیں ہوتا۔ یہ سب کس کی ذمہ داری ہے ؟ یہ سب حکومت
اور ان کے نمائندگان کی ذمہ داری ہے ۔ مگر کسی حکومتی نمائندے نے ملک میں اخلاقی اور سماجی قدروں کی طرف توجہ نہیں دی ہے ۔ ان تمام ملکی برائیوں اور سماجی خرابیوں کے باوجود اگر کوئی حکومت کہے کہ ہم نے جمہوریت کے بل بوتے پر بہت کام کیا ہے ؟ تو ملکی تاریخ میں اس سے بڑا جھوٹ اور دھوکہ نہیں ہو سکتا۔ اس بیس کروڑ عوام پر حکومت کا کوئی احسان نہیں ہے ؟ حکومت کانا کے لیے کوئی کارنامی نہیں ہے ؟ بلکہ حکومت پر اس عوام کی احسان ہے کہ چپ چپ منہ میں زبان ڈال کر جی رہی ہے ۔ اپنی زندگی بسر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ورنہ اس کو توحق تھا کہ وہ میراثی کی بیوی کی طرح کہتی کہ اگر آپ کا قیام ہے تو پھر ہمارا کوچ ہے ۔ بقول اردو کے خوبصورت شاعر کاشف مجید:
مجھ کو دکھ ہے میرے معبور تیرے ہوتے ہوئے
اپنی تنہائی کا اعلان کیا ہے میں نے
پیڑ کا سایہ مجھے اپنی طرف کھینچتا تھا
تیری دیوار پہ احسان کیا ہے میں نے


ای پیپر