خواہشوں کے غلاموں کے لئے ایک کالم
13 جولائی 2018 2018-07-13

انسان جب دنیا میں شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو وہ دنیا کی حقیقت سے بے خبراس کی رنگ رلیوں میں مست ہونے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔دنیاوی لذّتوں کے حصول میں شب و روز غرق رہتا ہے گویا ہر شخص اپنی اپنی توفیق کے مطابق ان لذائذ سے لطف و اندوز ہوتا ہے۔جوانی میں دنیا خوبصورت لگتی ہے ۔انسان پر شباب کیا آتا ہے وہ طاقت اور مستی میں کسی کو خاطرمیں نہیں لاتا، وہ دولت ،عزت، شہرت کے لئے سب کچھ کر گزرتا ہے۔حسن اور دولت کی چمک سے اس کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔وہ دنیا میں ا پنے سے پہلے لوگوں پر ، ان کے انجام پر،توجہ دینے کی کوشش نہیں کرتا، وہ دنیا کی حقیقت جانتے بوجھتے بھی اس کی حرص وہوس میں گر دن تک دھنسا رہتا ہے ، تا وقتےکہ اس کی جوانی اور طاقت ختم نہ ہو جائے ´´´´ ۔پھر بڑھاپا مختلف بیماریوں کے تخفے کے ساتھ دہلیز پر آن کھڑا ہوتا ہے ،اب اسے اس کی دولت بھی بڑھاپے اور بیماریوں کی تلخیوں سے نہیں بچا سکتی ۔۔وہ چار پائی پر کُڑھتا رہتا ہے۔۔اس کے اپنے ،عزیز ترین رشتے داراسکی بیماری ،نقاہت ،کمزوری ،اوراسکے چڑ چڑے پن سے بیزا ر ہو جاتے ہیں۔ بیماریوں سے جسم نڈھال ہو جاتا ہے۔محتا جی کی زندگی اسے جوانی کے ایاّم ےاد دلاتی ہے مگر وقت گزر چکا ہوتا ہے اب اسے آگے کی منزل نظر آ رہی ہوتی ہے ۔۔کئی روز تک اس کی آنکھیںچھت پر لگی رہتی ہیں کہا جا تا ہے مریض ”کامے“ میں چلا گیا ہے ۔۔کئی کئی روز تک وہ زندگی اور موت کے درمیان ’پینڈولم‘ کی طرح لٹکتا رہتا ہے۔۔قریبی ہستیاں، عزیز ،رشتے دا راور پیارے بھی اس کی ا س حالت سے تنگ آ جاتے ہیں اور اسکے مرنے کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔بعض اوقات تو ایسے مریضوں کے قریب موت کی آ سانی کے لئے قرآن حکیم( سورہِ یسینٰ) کی کثرت سے تلاوت ہونے لگتی ہے اور تب کہیں جاکر اِس دنیا سے اگلی منزل کو روانگی ہوتی ہے۔۔
حالاں کہ دنیا کی حقیقت کے بارے میں ہمیں کہاں کہاں نہیں بتا یا جا تا ۔۔۔قرآن اورا حادیث سے لے کر صوفیا، بزرگوں اور دانشوروںکے اقوال تک میں، یہ سب کچھ بیان کیا گیا ہے ۔۔لیکن نوجوانی میں ایسی سنجیدہ کر دینے والی باتیں دل کو بھا تی کب ہیں ؟دنیا کے بارے میں کچھ سچی باتیں ملاحظہ کیجئے۔
حضورﷺ فرماتے ہیں:
دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے
دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے
حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں:
”جس نے دنیا کو جس قدر پہچانا اسی قدر ُاس سے بے رغبت ہوا “
حضرت شفیق بلخی ؒکہتے ہیں :
”دل کی صفائی چاہتا ہے تو آنکھ دنیا سے بند کر لے کیوں کہ یہی وہ رختہ ہے جہاں سے غبار آتا ہے ۔“
حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ فرماتے ہیں:
”وہی دل حکمت و دانش کا مخزن بن سکتا ہے جو دنیا کی محبت سے خالی ہو“۔
حضرت ابو الحسن خرقانی ؒکا قول ہے :
” جب تک تم دنیا کے طالب رہو گے وہ تم پر غالب رہے گی جب اس سے منہ پھیر لو گے وہ تمہارے ماتحت ہو جائے گی ©©©©“
حکیم افلا طون کا خیال ہے کہ:
دنیا کو چوروں کی کمین گا ہ تصور کر کے ہوشیاری اور آگاہی کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہئے“۔۔
بقراط کہتا ہے:
”دنیا کو سرائے، خود کو مہمان اورقضا کو میزبان شمار کرو، اگر کھانے کو کچھ دیا جائے تو کھا لو اگر واپس لیا جائے تو طلب نہ کرو۔وارث شاہ ؒ فرماتے ہیں:
وارث شاہ سراں دی رات وا نگوں
دنیا خو اب خیال ای جانیا جے
( یعنی سرائے کی رات کی طرح دنیا کو خواب خیا ل سمجھا جائے )
دنیائے عرب کا عظیم شاعر ابو العلا معرّی کہتا ہے:
ایک بار ہمارے ساتھ کوئی بد سلو کی کرتا ہے تو ہمیشہ کے لئے وہ ہمارامبغوض بن جاتا ہے لیکن یہ دنیا ہی ہے کہ مسلسل ایذار سانی کے باوجود، اِس سے پیار کیا جاتا ہے۔۔۔بوڑھا ادھیڑعمر ،جوان سب نادانی کی وجہ سے اپنے دلوں میں دنیا کی خواہش چھپا ئے ہوئے ہیں
سنسکرت کے عظیم شاعر اور مفکر بھرتری ہری فرماتے ہیں:
” دنیا کے عیش و آرام کے اسباب ختم نہیں ہوتے ہم ہی ختم ہو جاتے ہیں ،ہم نے انھیں نہیں کھایا بلکہ خود ہم ہی ان کا نوالہ بن گئے ،وقت ختم نہیں ہوا ہمارا عرصہ ءحیات ختم ہو گیا ،خواہشات کبھی بو ڑھی (کمزور) نہیں ہوتیں ہم ہی بوڑھے ہوگئے اور مرگئے“۔
میر تقی میر کہتے ہیں:
آفاق کی منزل سے گیا کو ن سلامت
اسباب لُٹارا ہمیں یاں ہر سفری کا
یعنی دنیا کی منزل سے کوئی شخص بھی سلامت نہیں پلٹا ہر شخص کا سامان و اسباب راستے میں لٹ گیا ۔گویا انسان کی واپسی پر اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ۔
قرآن کہتا ہے : ” بے شک انسان خسارے میں ہے۔“
بندہ دنیا میں آتا ہے تو اسکے پاس سب کچھ ہوتا ہے۔ بچہ اپنا مقدر ، اپنی صلاحیتیں کما ل وہنر ساتھ لاتا ہے انسان کے حواس ہی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں انہی کے دم سے وہ علم و ہنر سے مالا مال ہو تا ہے۔۔جو اپنے حواس کا خیال نہیں رکھتا ۔۔دھیرے دھیرے دنیا کی گرد سے اٹ جاتا ہے۔
دنیا محض حرص و ہوس کا نام نہیں ۔۔نہ ہی دنیا کھانے کی ہے یہ تو دیکھنے کی چیز ہے ۔۔اسے کھانے والے خود لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور ظالم بڑھاپے اور بیماریوں کے ہاتھوں ،ہاتھ ملتے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ۔ بڑ ھاپے میں ان کے پاس حواس کی وہ دولت جو پیدا ہوتے وقت وہ ساتھ لائے تھے چھن جا تی ہے ۔۔آنکھوں کی روشنی ،سننے ،سونگھنے ،چکھنے اور چھوُنے کی طاقتیں، سب کچھ ماندپڑ جاتا ہے گویاعقل و دانش کا فور ہو جاتی ہے ۔
حضرت سہل بن عبدا للہ تستری ؒ فرماتے ہیں:
”اپنے اعضا کی نگہداشت بھی حقوقِ خداوندی میں شامل ہے“۔
لہٰذا اپنے حواس کی نگہداشت ضروری ہے ،سیر ت و کردار کے ساتھ اپنی صحت تندرستی کا دھیان رکھنا لازم ہے۔۔۔یہ بھی تصوف کی ایک صورت ہے ۔
ایک بزرگ کہتے ہیں:
”جو جس حال میں مرے گا اُسی حال میں اُٹھایا جائے گا“۔
یعنی دنیامیں اگر کسی نے حقیقت کا رخِ روشن نہیں دیکھا تو وہ روزِ حشر بھی اندھا ہی اٹھایا جائے گا“۔
کہتے ہیں: صوفی جس حال میں دنیا میں آتا ہے اسی حال میں واپس چلا جاتا ہے وہ دنیا کی آلودگیوں سے آلودہ نہیںہوتا ۔۔ مگر ہم ہیں کہ ایک لقمہء رزق کے لئے یہاں کیا کیا کرتے پھرتے ہیں ،دوسروں کے حقوق غصب کر کے ،دوسروں پر ظلم و تشدد کر کے ،ملاوٹ سے ،اپنے آپ کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دیتے ہیںاور یہ سب کچھ اس عارضی قیام کے لئے کرتے ہیں اور بعض اوقات تو جمہوریت کے نام بھی عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے ۔
فانی دنیا کے لئے اتنے پا پڑ بیلنا یاجھوٹ فریب کی سیاست ،اور عزت تک کو داﺅ پر لگانا کہاں کی دانا ئی ہے ۔


ای پیپر