میں عمران خان کو حکومت دِلانے کی پُوری کوشش کرونگا
13 جولائی 2018 2018-07-13

میرے خیال میں موجودہ الیکشن اِس لحاظ سے تاریخی ہیں، کہ اِن کو خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے، اگر پاکستان کا کوئی ادارہ اِس میں ملوث ہے ، تو پھر اُس کو وضاحتیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے، غالباً یہ بھی پہلی دفعہ ہے کہ مُلک کے مضبوط اور محترم ادارے کو پریس کانفرنس کرنی پڑی، اور ایک اور مضبوط ادارے نے بھی بڑے و ثوق اور یقین کے ساتھ الیکشن کے انعقاد کی ضمانت دی ہے، جبکہ میرا ذاتی موقف کچھ اُس طرح سے ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اقلیت صلاحیت ، کارکردگی، معیار اور پول کچھ اس طرح سے کھلا، کہ مُلک کو آزاد ہوئے تو تقریباً پون صدی گزر گئی ہے، میں جب یہ سطر لکھ رہا تھا، تو انتہائی افسوس ناک بلکہ دلخراش خبر ٹیلیوژن پہ چل رہی ہے، کہ اے ، این ، پی کے پشاور میں ہارون بلور اپنے ساتھیوں سمیت ایک دھماکے میں شہید کر دیئے گئے ہیں۔ قارئین کرام، ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، میں نے اپنی زندگی کا پہلا کالم بھی ” دیوانوں کو جو سمجھائے دیوانہ کہلائے“ اے این پی کے شدید خلاف لکھا تھا، میں اُن کی بلندی درجات کیلئے دُعا گو ہوں حالانکہ اے این پی کے جناب اجمل خٹک صاحب کے ساتھ میرا نہایت عزت و احترام کا رشتہ تھا، اور وہ میرے گھر بھی تشریف لاتے تھے، مگر اختلافات اپنی جگہ مگر احترام اپنی جگہ .... میرا کالم لکھنے کو دِل نہیں کر رہا، میرے ذہن میں سورة فاتحہ آرہی ہے، انشاءاللہ اب میں لکھنا بند کر رہا ہوں، کل پرسوں ملاقات ہوگی، آرمی چیف نے شہید کیلئے پشاور جا کر فاتحہ خوانی کی ، شاید چیف جسٹس بھی اب فاتحہ خوانی کریں۔ سورة الفاتحہ، میں ہم سب اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگتے ہیں، کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا یعنی زندگی کے ہر شعبے میں خیال اور عمل اور اس کے ساتھ برتاﺅ کا وہ طریقہ ہمیں بتا کر جو بالکل صحیح ہو، جس میں غلط بینی، غلط کاری اور بدانجامی کا خطرہ نہ ہو، جس پر چل کر ہم سچی، فلاح و سعادت حاصل کر سکیں کیونکہ، زمانہ قدیم سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اِس راستے پر چلا ، وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا، اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہوا،
ہماری تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سیاستدانوں اور پاکستانیوں سمیت پاکستان کے اداروں کو صِراط مستقیم دکھائے، اور خصوصاً الیکشن کمیشن کے لیے دعا مانگنی اس لئے زیادہ ضروری ہے کہ وہ بینرز اور فلیکسز پہ ساری توجہ مرکوز کر کے بیٹھا ہے ہر ہر چینلز پر ہر بڑی جماعتوں کے کروڑوں روپے کے اشتہارات رات دِن چل رہے ہیں، اور عوام پریشان ہو رہے ہیں کہ اب جو یہ دعوےٰ کئے جا رہے ہیں کہ پاکستان میں پچاس لاکھ گھر بنائیں گے، اور ایک کروڑ افراد کو نوکریاں دیں گے اِن کے پاس یہ کروڑوں روپے اشتہارات کیلئے کہاں سے آئے ہیں؟ نیب اور الیکشن کمیشنر کیوں زبان بہ لب ہیں؟ جبکہ اُس کے مقابلے میں ایک نسوانی آواز، جیسے شاید انجکشن لگا کر ، یا پھر آپریشن کروا کر مروا مردانہ بنایا جاسکے، دعوت مبارکہ دیتی ہے، جیسا کہ میں نے ابتداءمیں بات کی تھی، کہ ملک کو آزاد ہوئے، اتنا عرصہ گزر گیا ہے، مگر کوئی جماعت بھی مُلک گیر مقام کیوں حاصل نہ کر سکی۔ اس میں بالکل شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ پنجاب جیسے ” ن“ لیگ کا گڑھ ہے، اور اِس ” پانی پت“ کے قلعے کو سوائے محمود غزنوی کے کوئی اور فتح کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، بالکل اسی طرح کی سیاسی صورت حال کچھ صوبہ سندھ کی ہے، اور اُسے ” سر“ کرنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے، کسی حد تک متحدہ نے ، اِس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ،مگر چونکہ اُن کا طریقہ واردات ، گسٹاپو، اور نازی ازم والا ہے، اور انسانی جسموں اور وہ بھی حساس لوگوں کے ، جن کے بارے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو پہلے ہی فرما دیا تھا، کہ ظلم کی حکومت کبھی نہیں چل سکتی۔
یہ تو حال ہے، دو صوبوں کا ، اور باقی صوبوں کی سیاست بھی ، عصبیت اور لسانیت کے گرد گھومتی ہے، اِس کا جو نتیجہ نکلے گا، وہ عین توقع کے مطابق ہو گا تو پھر کیا فائدہ ہوا، اتنی درد سر لینے کا اور خود CAMOUFLAGE کر کے ریت میں سر دے دینا، تو ہم ہمیشہ سے دیکھتے آئے ہیں، سیاست میں بھی اور صحافت میں بھی ، اور یہ بھی کوئی ” نئی بات “ نہیں کہ کسی کو یونیفارم اور گاڑیاں بھی تو ” کیمو فلاح “ کی ہوتی ہیں، یہ ایک زمینی حقیقت ہے، جیسے ” خلائی مخلوق “ تو دیکھ ہی نہیں سکتی، صرف زمین پہ رہنے والے جانتے ہیں۔
قارئین، اس وقت تو کچھ لوگوں کو میری بات ہضم نہیں ہوگی، اگلے الیکشن میں یا ساڑھے تین ، چار سال بعد بھی انشاءاللہ انہیں میری بات کی سچائی کا ثبوت مل جائیگا ” کفران نعمت“ صِرف جنرل اسلم بیگ ، جنرل کرامت وغیرہ نے نہیں کی ، اور واقعی وہ صاحبِ کرامت تھے، کرامت صاحب شیخ تھے، مگر نجانے کس طرح ” شیخ رشید “ کے ” نعرہ وطینت “ سے محفوظ رہے، شاید اُن میں حوصلے اور جرا¿ت کی کمی تھی۔
مگر اب تو شیخ رشید اعلانیہ اور ” سر می رقصم“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، کہ میں عمران خان کو حکومت دلانے کی پوری کوشش کروں گا، وہ بھی ایک وقت تھا کہ عمران خان جب کہتے تھے، اور وہ بھی شیخ صاحب کے مُنہ پر ، کہ میں تو انہیںچپڑاسی رکھنا بھی پسند نہیں کروں گا.... مگر وقت نے ثابت کیا، کہ شیخ رشید صاحب ، کی اُڑان بھاری بھرکم ہونے کے باوجود پاکستان ایئر لائنز کے بیڑے میں شامل ہونے والی بھاری بھرکم ایئر بس ، جو ساڑھے چھ سو ، سواریوں کو دوبئی سے لے کر پاکستان لائی ہے، اور جو آسمان کی وسعتوں میں کھو جاتی ہے، مگر شیخ رشید کی اڑان تو اُس سے بھی اونچی ہے، جو آسمان کی وسعتوں میں کھو نہیں جاتی، آسمان کی خبروں کی سُن گُن لینے کیلئے آسمان کو چھو لیتی ہے، تو پھر آسمانی مخلوق ” مخبر“ کو ہٹانے کیلئے حرکت میں آجاتی ہے، تاہم ہمارے شیخ رشید تو آسمانی اور زمینی حقائق سے باخبر ہونے کے دعوے دار ہیں۔
مگر ہم تو تب مطمئن ہوں گے، جب خیبرپختونخواہ میں پانچ سال مکمل کرنے والے یہ جواب دیں ، کہ اب جو پچاس لاکھ گھر بنانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ صوبے میں اپنی حکمرانی کے وقت ، اُنہوں نے پانچ ، دس لاکھ نہ سہی صرف پانچ ہزار گھر کیوں نہیں بنائے؟ اور ایک کروڑ افراد کو نوکری دینے والے نے اپنے صوبے میں صرف ایک لاکھ افراد کے لئے ملازمت کے دروازے کیوں نہیں کُھولے؟
اب 20 ، مئی کا اخبار دِن میرے سامنے پڑا ہے، جس میں بطور وزیر اعظم پاکستان خاقان عباسی صاحب کا ” نزاعی بیان “ قومی اسمبلی میں سنایا جانیوالے آپ بھی سُن لیں اور ایمان تازہ کریں، منتخب نمائندگوں کو چُور کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ سمیت اور دیگر فورسز پر ججوں کے طرز عمل پر بحث کی جائے، اور ہر اِدارہ اپنی آئینی حدود میں رہے، یہاں حکومتی فیصلوں کو رَد کیا جاتا ہے، جو اپنی روایت نہیں، پارلیمنٹ کے وقار کو محفوظ کرنا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور حکومتی نمائندوں کو عدالتوں میں بے عزت کیا جاتا ہے، اور جو قانون اسمبلی پاس کرتی ہے، اُسے بھی ختم کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ کیا قومی اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں؟ کیا اس کے لیے ہمیں پہلے کسی سے اجازت لینی ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ
اب میرا خیال ہے کہ 25 ارب روپے کے ڈھول کی بات کرلیتے ہیں، جس پر عدالت نے آصف زرداری اور فریال کو نوٹس بھجوائے تھے، مگر نوٹس صرف ڈھیڑ کروڑ کا بھجوایا گیا تھا، اتنے دن ” انصاف“ کا ڈھول بھی خوب پیٹا گیا، نیب کے چیئرمین کے بھی بیانات آئے، مگر حیرت ہے کہ ایک چینل کے میزبان وجاہت سعید خان نے آصف زرداری کا انٹرویو لیا، اور اُس میں پہنچے ہوئے سیاستدان نے مستقبل قریب ، اور بعید کی جو تصویر کھینچی ، اور آج کا جو فیصلہ آیا، کہ ہم نے تو ملزمان کو نوٹس بھجوائے تھے، زرداری اور فریال کو نہیں بھیجے گئے تھے، اللہ اللہ خیر صلہ ، اعتزار کہتے ہیں کہ قانون دانوں، اور صحافیوں نے تشریح ، صحیح نہیں کی ۔ میرا میاں نواز شریف کو ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ایک مشورہ ہے کہ وہ اپنا وکیل تبدیل کریں، اور ثاقب نثار صاحب، کے بچوں کے چچا اعتزاز احسن کو وکیل کرلیں، اُن کو فیس سے غرض ہے، چاہے زرداری ہوں، چاہے نواز شریف ، جیسے اُنہیں اپنی ملازمت سے غرض تھی، چاہے سکھوں کی فہرست ، راجیو گاندھی کو دینی ہو، چاہے بھارتی وزیر اعظم کی آمد پر ، مسئلہ کشمیر کے حق میں دیواروں پر لگے اور لکھے بینرز ، اور پوسٹرز ہٹانے ہوں، پورے پاکستان میں آندھی اور طوفان کا راج ہے، اور اِس اندھیر نگری، اور مون سون کے موسم میں سو کلو میٹر کے طوفان میں انصاف کا ترانہ ہل جائے، یا ترازو کی رسی ٹوٹ جائے، تو کسی کو کیا الزام دینا، جب بندے فوت ہو جاتے ہیں، تو پھر بھی یہی کہا جاتا ہے نہ کہ اللہ کی مرضی .... ویسے بھی عزت کِس کو پیاری نہیں ہوتی،
جہاں چیف جسٹس کو ٹھڈے پڑ جاتے ہوں.... سچ ہے کہ سارے ”میناں“ اور سارے رانے ایک جیسے نہیں ہوتے!! ساڑھے آٹھ کروڑ ” سوشل میڈیا “ پر چلنے والے پیغامات کو مٹا دیا گیا۔ مگر فیصل رضا عابدی کا سوشل میڈیا پہ چلا انٹریو سُن کر میرا خون کھول اُٹھتا ہے، کہ ثاقب نثار کے خلاف اتنی بے باکی اس لئے زرداری نے اُسے پیپلز پارٹی سے نکال دیا۔ آج پتہ چلا کہ زرداری کا فیصلہ صحیح تھا، سارے منصور حلاج بنے پھرتے ہیں۔


ای پیپر