Corruption, sectarianism, vested interests, terrorism, political chaos, Pakistan
13 جنوری 2021 (12:33) 2021-01-13

مریض کی بیماری کا ٹھیک ٹھیک پتہ چل جائے اور اُس کا صحیح صحیح علاج شروع ہو جائے تو صحت یابی کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ یہ بات ملکوں کی ترقی پر بھی پورا اترتی ہے۔ دنیا میں اس وقت جو ملک ترقی کے راکٹ پر سوار ہیں اور معزز بنے ہوئے ہیں انہوں نے بھی پہلے اپنی بیماریوں کو سمجھا پھر اُن کی دوا کی۔ ہم بھی ہر وقت پاکستان کی بیماریوں کا ذکر کرتے ہوئے کرپشن، فرقہ واریت، مفاد پرستی، دہشت گردی اور غیرملکی ایجنڈوں وغیرہ کا بہت ذکر کرتے ہیں۔ اگر غور کریں تو ہماری تمام بیماریوں کی جڑ غیرملکی مفادات ہی ہیں۔ اس دلیل کو ثابت کرنے کے لیے مختصراً جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاں عموماً حکمران غیرملکی طاقتوں کو ناراض کرکے حکمران نہیں بن سکتے اور اگر بن جائیں تو رہ نہیں سکتے۔ غیرملکی طاقتیں اپنے بنائے ہوئے حکمرانوں کے ذریعے براہِ راست اور بالواسطہ اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں۔ اسی لیے حکمران بے خوف ہوکر کرپشن کرتے ہیں۔ فرقہ واریت کا معاملہ مذہبی مسلکوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مذہبی مسلک کی ڈوری بھی غیرملکوں تک جاپہنچتی ہے۔ دہشت گردی کا سلسلہ بھی سرحدوں کے پار دور نزدیک سے شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک ایک بیماری کو لیں تو بالآخر ہر ایک کا کُھرا غیرملکی طاقتوں تک ہی پہنچتا ہے۔ یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر ہمارے حکمران چاہیں تو ان غیرملکی طاقتوں سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ یہ بات مخالفین کے لیے سیاسی نعروں کے طور پر بھی کہی جاتی ہے لیکن یہ سب کچھ نہ تو اتنا آسان ہے اور نہ ہی درست ہے۔ اگر یہ ممکن ہوتا تو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے باعث ہم اتنے بیباک ہو چکے ہیں کہ حکمرانوں کو اس گھٹیا حرکت سے مکمل طور پر باز رکھ سکتے لیکن ایسا ہو نہیں پارہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیرملکی طاقتوں سے جان چھڑانے کے لیے اب جذباتیت سے زیادہ مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اب کوئی ملک غیرملکی پنجوں سے دن رات میں آزاد نہیں ہوسکتا بلکہ اُسے آزادی کے راستے کی بتدریج منزلیں طے کرنا پڑتی ہیں۔ پاکستان میں بھی وقفے وقفے سے غیرملکی طاقتوں سے آزاد ہونے کی کوششیں کی جاتی رہیں لیکن جونہی یہ سوچ چند حکمرانوں میں پیدا ہوئی انہیں تہس نہس کردیا گیا۔ اس کی دو بڑی مثالیں ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل محمد ضیاء الحق ہیں۔ بیشک تاریخ انہیں ایک دوسرے کا بدترین دشمن کہے گی لیکن دیکھا جائے تو دونوں کے ایک جیسے انجام کی وجہ ان دونوں کے ذہنوں میں غیرملکی طاقتوں کے آگے کھڑے ہو جانے کا صرف خیال آنا ہی تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو امریکہ کے لیے چیلنج بنتے جارہے تھے جبکہ جنرل محمد ضیاء الحق بھی ’’افغان جنگ‘‘ جیتنے کے بعد امریکہ کے لیے نئے خطرے کے طور پر ابھر رہے تھے۔ کوئی مانے یا نہ مانے ذوالفقار علی بھٹو یا جنرل محمد ضیاء الحق کچھ عرصے تک اپنے اپنے اقتداروں میں زندہ رہ جاتے تو پاکستان غیرملکی طاقتوں کے جال سے بہت حد تک آزاد ہوجاتا لیکن شکاری اپنے شکار کو کیسے جانے دیتا؟ غیرملکی شکنجے کی ایک اور قسم سرمایہ دار بھی ہیں۔ اگر ان کی پراڈکٹس کومظلوم ملک میں خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ بپھرے ہوئے بھیڑیے بن جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال بینظیر بھٹو کا دوسرا دورِ حکومت تھا۔ جب انہوں نے کراچی میں بدامنی کو روکنے کے لیے موبائل فونز پر پابندی لگائی تو انہیں غیرملکی دبائو کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے اور موبائل فونز کو آن کردیا گیا۔ انٹرنیشنل این جی اوز بھی غیرملکی شکنجے کی ایک نئی ایجاد ہیں جس کا مظاہرہ اُس وقت دیکھنے کو ملا جب غیرمناسب سرگرمیوں کے باعث ’’سیو دی چلڈرن‘‘ پر پاکستان میں پابندی لگائی گئی تو فوراً ہی وائٹ ہائوس بول پڑا اور پاکستان کو اِس این جی او کے حوالے سے اپنا لہجہ دھیما کرنا پڑا۔ پاکستان میں اِس وقت ایک مرتبہ پھر مختلف قسم کے غیرملکی 

مفادات سے نکلنے کے لیے ارادہ باندھا گیا ہے۔ اس مرتبہ یہ کام بہت ہی باریک بینی سے تیار کی گئی پالیسیوں کے تحت کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلے ہماری سکیورٹی کو لاحق براہِ راست خطرات سے نمٹا جارہا ہے۔ یہ خطرات بیرونی سے زیادہ اندرونی ہیں اور اندرونی خطرات کسی ملک کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس حوالے سے شروع ہونے والے آپریشن ردالفساد نے پاکستان کے اندر دشمنوں کو نہ صرف مارا بلکہ ان کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔ وہ دشمن ماضی کی طرح توقع کر رہے تھے کہ چھوٹی موٹی کارروائیوں کے بعد آپریشن ردالفساد بھی تاریخ کا حصہ بن جائے گا لیکن آپریشن ردالفساد نے دشمنوں کو جہنم کا حصہ بنا دیا۔ بظاہر آپریشن ردالفساد پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف ہے مگر دراصل آپریشن ردالفساد کے ہاتھوں مارے جانے والے دہشت گرد اوپر بتائی گئی تمام مختلف صورتوں میں مختلف غیرملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ اب اگر تصور کریں کہ پاکستان کی اندرونی سکیورٹی دشمنوں سے مکمل طور پر کلیئر ہو جاتی ہے تو بیرونی سکیورٹی کو نمٹنا کتنا آسان ہوگا؟ پاکستان کے خلاف خوفزدہ مودی کی بوکھلاہٹ کی بھی یہی وجہ ہے۔ پاکستان نے اپنی پالیسیوں میں کچھ سٹرٹیجک تبدیل کی ہے۔ یعنی پہلے ہم ہر کام میں مدد کے لیے امریکہ اور کچھ خلیجی ممالک کی طرف دیکھتے تھے مگر اب خودانحصاری اور چین سے سٹریٹجک تعلقات پر کام ہو رہا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ پاکستان روس سے بھی سلام دعا بڑھا رہا ہے۔ چین نے پاکستان کے علاوہ جن ایشیائی ملکوں میں اقتصادی تعاون شروع کیا ہے اُن میں بنگلہ دیش، برما اور نیپال وغیرہ بھی شامل ہیں۔ بھارت اِن ملکوں میں بھی جاکر اپنی جارحانہ گندگی پھیلاتا ہے۔ اِس وقت خطے میں بھارت امریکہ کا پالتو بنا رہنا چاہتا ہے۔ غیرملکی طاقتیں پاکستانی معاشرے میں افراتفری پیدا کرکے پاکستان کی خودانحصاری اور حقیقی آزادی کو روکنا چاہتی ہیں۔ ان میں سیاسی افراتفری سب سے اہم ہے۔ سیاسی افراتفری کے باعث سیاست دانوں اور فوج کے تعلقات میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے جس کا فائدہ پاکستان مخالف قوتوں کو ہوتا ہے۔ 


ای پیپر