US Secretary, State, Mike Pompeo, President, Donald Trump, policies
13 جنوری 2021 (12:24) 2021-01-13

بڑے افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ ماہ آئیووہ میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ایک اجلاس کے دوران اپنی انتظامیہ کے ایسے تمام اقدامات پر فخر کا اظہار کیا جو کہ عالمی قانون کے نا صرف خلاف بلکہ ان کا مذاق اڑانے کے مترادف تھے۔ یروشلم کو اسرائیل دارالحکومت تسلیم کرنے پر فیصلے پر فخر کا اظہار کرتے وقت جناب پومپیو یہ بھول گئے کہ وہ دراصل سکیورٹی کونسل کی قراردادوں 242 اور 388 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جن کی تیاری اور انہیں پیش کرنے میں جناب پومپیو کے اپنے ملک امریکا نے اہم کردار ادا کیا تھا، ان قراردادوں میں واضح طور پر جنگ کے ذریعے علاقوں پر قبضے کرنے کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جون 1967ء کی جنگ کے دوران قبضے میں لئے گئے علاقوں سے اپنی فوج نکالے۔ انہی قراردادوں میں مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کا بھی ذکر موجود ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیاں امریکا کی ذاتی املاک نہیں کہ وہ جب چاہے اسرائیل کو تحفے میں دیدے۔ اس قسم کی سوچ کی حامل امریکی انتظامیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہانگ کانگ سے متعلق چین کے نئے سکیورٹی قوانین کی مخالفت کرے۔ حالانکہ مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں اور بیجنگ کے ہانگ کانگ سے متعلق فیصلے میں واضح فرق ہے۔ بیجنگ نے عربوں کے علاقے ایک غاصب طاقت کے حوالے نہیں کئے، ہانگ کانگ بہرحال چین کا ہی علاقہ ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ چین کو شہ ٹرمپ انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات سے ملی ہو۔

اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں جناب پومپیو نے یہ حیران کن انکشاف کیا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں شہری اور سیاسی آزادیوں کا حامل واحد ملک ہے۔ جناب پومپیو، آپ کی سادگی پر میں سخت حیران ہوں۔ آپ کو معلوم نہیں کہ اسرائیل طاقت کے زور پر فلسطینی علاقوں پر قبضے کر رہا ہے، اسرائیل کے عرب شہری بیشتر سیاسی آزادیوں سے محروم ہیں، جہاں ہزاروں فلسطینی جیلوں میں بند ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، انہیں کبھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی فورسز جب چاہیں مختلف بہانے بنا کر معصوم فلسطینیوں کے مکانات گرانا شروع کر دیتی ہیں، جس کا فلسطینیوں کو کبھی کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں کے رقبے ہتھیانے کیلئے ان کے زیتون کے باغات تک اجاڑ ے تاکہ وہاں نئی یہودی بستیاں آباد کی جا سکیں۔ زیتون جسے امن و آزادی کی علامت قرار دیا جاتا ہے، اسرائیل اسے بھی فلسطینیوں کی ملکیت میں دیکھنا نہیں چاہتا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو فلسطین کے مزید ایک تہائی علاقے کو اسی طرح یہودی نوآبادیاتی بنانا چاہتے ہیں، جیسے ماضی میں اسرائیل کی تمام حکومتیں کرتی رہی ہیں۔ فلسطینی علاقے ہتھیانے کی اس اسرائیلی کوشش کی مذمت کرنے کے بجائے امریکی انتظامیہ نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس کام کیلئے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ جناب پومپیو دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیل خطے کا ایک معاشی ماڈل ہے، مگر یہ وضاحت نہ کی کہ اگر اسرائیل کو امریکا سے اربوں ڈالر کی ٹیکس فری معاشی امداد نہ ملی ہوتی تو اس کی معیشت کا کوئی وجود ہی نہ ہوتا۔ عالمی قوانین کی نفی کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیاں بسانے کے عمل کی ستائش کر کے امریکی سیکرٹری خارجہ ایسے سیاسی عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو کہ غیروں کے علاقے ہتھیانے کو جائز اور انسانی حقوق پر کوئی یقین نہیں رکھتے۔

جناب پومپیو، افسوس آپ کی اس سوچ پر ہے جس میں آپ اسرائیل کو عالمی قوانین توڑنے کا نا صرف لائسنس دے رہے ہیں بلکہ آپ نے جمہوری اور شہری آزادیوں کے تصور کی تعریف بھی تبدیل کر دی ہے۔ حیرت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جو کہ ایران پر جارحیت کے الزام کو اصولی موقف قرار دیتی ہے، اسرائیل کے انہی اقدامات پر اس سے جواب دہی کیوں نہیں کرتی؟


ای پیپر