World, Pakistan, reality, things, witness, beauty
13 جنوری 2021 (12:17) 2021-01-13

 کل سہ پہر ملک شفقت محمود اعوان کے ہاں عصرانے پر مدعو تھے، عصرانہ کیا تھا‘ قریب قریب عشائیہ ہی تھا، گرم گرم سوپ، بون لیس فش اور پھر ہوم میڈ پزا کے ساتھ گلاب جامن اور چائے… اسے عصرانہ کہنا کہاں تک جائز ہے، فتویٰ لے لیں‘ میرا دعویٰ ہے کوئی خوش خوراک مفتی اِسے عصرانے کا نام نہیں دے گا۔ دعو ت کے باب میں جہاں آدابِ میزبانی معین ہیں‘ وہاں آدابِ مہمانان بھی متعین ہیں۔ مہمانوں پر جن آداب کا احترام لازم ہے‘ ان میں کھانے کی تعریف سے لے کر کھانا پکانے والوں کی تعریف بھی شامل ہے، اور ہاں‘ یہ بھی آداب کا حصہ ہے کہ میزبان دسترخوان سے کوئی خوان آپ کی طرف بڑھائے تو اسے انکار نہ کریں۔ خدا گواہ ہے! ہم نے اِن آداب کا بھرپور اظہار کیا۔ یہ دعوت خور ونوش کیا تھی‘ ایک دعوتِ خیال بھی تھی کہ اہلِ خیال جمع تھے۔ وہاں مدعو ایک مہمان کہ جن کے ساتھ تعلق واصفی فکر کے حوالے سے ہے، یعنی تعلق کا سبب یہ کہ… دوستوں کے درمیاں وجہ دوستی ہے تُو… انہوں نے ایک دیرینہ وعدہ یاد دلایا۔ہوا یوں کہ انہوں نے چند ہفتے قبل ایک حدیث ِ پاک کی تشریح پوچھی تھی، اور میں نے جواب میں کہا تھا کہ تفصیل سے بتائیں گے۔ اچھا شاگرد وہی ہوتا ہے جسے اپنا سوال نہ بھولے۔ تفصیل سے بتانے کا مطلب یہ تھا کہ اس پر لکھ کر بتانے کی کوشش کریں گے، ان شاء اللہ! چنانچہ حسب ِ  وعدہ اس حدیث ِ پاک کی تشریح حسب ِ ظرف بتانے کا وقت آن پہنچا، ایک وعدہ بچانے کے لیے ایک اور وعدہ کرنا پڑا کہ کل ہی اس پرلکھیں گے … یعنی جس طرح یہ بات خود سمجھ میں آئی‘ اسی طرح سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ سورج تو سورج ہے… اصل سورج ‘دیکھنے والے کے سورج سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ با ایں ہمہ ‘ سورج کی چاروں اور پھیلی ہوئی کرنوں سے لطف اندوز ضرور ہونا چاہیے۔ حدیث پاک میں ایک معروف دعا ہے جو اُمت کو تعلیم دی گئی ہے، اس دعا کے الفاظ ہیں:’’ اللھم ارنا الاشیاء کما ھیی‘‘… اے اللہ ہمیں اشیا کو دکھا جیسی کہ وہ حقیقت میں ہیں۔ 

شہرِعلمؐ میں ہر تفصیل کا اجمال موجود ہے۔ صرف تسلیم کی راہ سے داخل ہونا شرط ہے اور مقررشدہ دروازے سے!! اشیا درحقیقت یشاء سے ہیں۔ ہر شے موجود اپنے خالق کی یشاء کا اظہار ہے۔ 

مخلوق اپنے خالق کی مشیت کا ظہور ہے… یعنی اشیا کی اصل حقیقت ‘یشاء ہے۔ یشاء کا تعلق ذات سے ہے۔ یہ ذات کی ذاتی منشا ہے ، کس کو، کیا بنانا ہے، کب ، کہاں اور کتنی دیر کے لیے عالم ِ شہود میں مشہود کرنا ہے۔  یہ وقت اور وجود بنانے والے کی ازلی حکمت ہے، اس نے جس کو جہاں رکھا ‘ خوب رکھا، جب تک رکھا ‘اس وقت تک ہی رکھنا خوب تھا۔ اس کی بنائی ہوئی کائنات میں کوئی چیز عبث ہے ‘نہ بے ربط اور بے ترتیب! بنانے والے کا دعویٰ ہے‘ تم ذرا افلاک کی طرف نظر اٹھا کر دیکھو ، تمہیں کسی چیز میں تفاوت نظر نہیں آئے گا، تمہاری نظر تھک کر واپس لوٹ آئے گی۔ اُس نے اِس کائنات میں سوائے حسن کے کوئی اور چیز پیدا ہی نہیں کی۔ یہ سراسر ہماری نظر کا قصور ہے‘ جو ہمیں کہیں حسن میں کوئی کمی یا کجی نظر آتی ہے۔ یہ قصور سرسری دیکھنے کا ہے، وگرنہ ہر جا اِک جہانِ دگر ہے۔ ہماری کج فہمی ہمیں تحقیق کے نام پر تنقید اور پھر تنقیص پر مجبور کرتی ہے۔ ہماری کج فہمی اور کج نظری یہاں جو کجی دیکھتی ہے‘ وہ کسی اور جہان کی خوبی ہوسکتی ہے۔ ہماری نظر میں کھٹکنے والا کانٹا کسی اور کی نظرکا گلاب ہو سکتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ  کا شعر ہے: 

 وہ بھی ہو گا کسی کا نورِ نظر 

جو کھٹکتا ہے خار آنکھوں میں

ذات کی یشاء کی خبر مخلوق تک بذریعہ رسالت پہنچتی ہے، رسالت کا سلسلہ ختم ہو چکا، خاتم النبیبن رسول اول و آخریںﷺ تک رسالت کا دائرہ مکمل ہو گیا۔ ولایت نیابت ہے۔ ولایت کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ درِ علم  ؑ پر دستک دینے والے ولی آج بھی علی  ؑکی وساطت سے شہرِ علمؐ میں آسودہ حال و خیال پھرتے ہیں، خوشہ چینی کرتے ہیں۔ حکمت و علم کتاب میں منجمد ہو کر نہیں رہ گیا بلکہ اِن کی وساطت سے رواں پانیوں کے طرح جاری و ساری ہے۔ وحی کا باب بند ہو گیا… رویائے صادقہ، کشف ، القا والہام کی خیرات  درِ اقدسؐ  سے جاری ہے۔ قلندر لاہوری اقبالؒ صاحب ِ حال اپنے خطبات میں مذہب کو تجربہ بنانے کی بات کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں: 

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد   

 فی الواقع ایمان ایک ذائقہ ہے ‘جو چکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ 

آمدم برسر مطلب ‘ اشیا کی حقیقت واضح نہ ہو تو عین ممکن ہے‘ انسان وہ چیز پسند کرے جو اُس کے لیے شر ہو، اور اُس چیز سے اعراض کرے ‘جس کا وجود اُس کے لیے خیر ہو۔ خیر اور شر کی حقیقت صرف نفع و نقصان کی نہیں بلکہ اس سے بلند تر ہے۔ انسان صرف جسم نہیں کہ اس کا خیر اور شر صرف فایدے اور نقصان تک محدود کر دیا جائے۔ انسان نے جسم کے بعد بھی عین عقل و شعور کی حالت میں کئی زمانے بسر کرنے ہیں… یہاں کی خوشیوں کا اثاثہ کہیں اس کے گلے واجب الادا قرض کی طرح سر پر نہ چڑھ جائے، آج کا حاصل کل کی محرومی میں نہ بدل جائے… اِس کے لیے اُسے ایسے شعور کی راہنمائی درکار ہے‘ جو غیب میں غوطہ زن ہو سکے۔ 

شے کی حقیقت سمجھنے کیلئے ہمیں اُس شے کو خلق کرنے والی ذات سے رابطہ درکار ہے۔ جس طرح بچے کا حسن اُس کی ماں کی آنکھ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے ‘ اس طرح مخلوق کا حسن دیکھنے کے لیے قربِ الہٰی کا وہ درجہ درکار ہے‘ جس کا اعلان خود خالق کرتا ہے … کہ میرا بندہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل ادا کرتا ہوا ( یعنی وہ کام بھی کرتا ہے جو اس کے فرائض میں شامل نہیں کیے گئے) قرب کے اُس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ میں اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں‘ جس سے وہ دیکھتا ہے‘ اس کا کان بن جاتا ہوں ‘جس سے وہ سنتا ہے…درجۂ احسان کے متعلق ایک معروف حدیث کا مفہوم ہے۔ 

کسی شے کی اصل حقیقت کو سمجھے بغیر ہم اپنی زندگی سے انصاف نہیں کر سکتے… اشیا کے متعلق رویوں سے انصاف کرسکتے ‘ نہ اشیا کی نسبت انسانوں کے ساتھ انصاف کرسکتے ہیں۔ جب کوئی انصاف نہ کرے تو پھر وہ ظلم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اشیا کی حقیقت جان لینے کے بعد ہی ہم ان میں پنہاں حسن کے شاہد ہوتے ہیں، اور اس کے بعد ہی اس میں پوشیدہ خیرو شر سے آگاہ ہوتے… اور اس کے بعد ہی اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ انسان محض شئے نہیں۔ انسان کا ظاہر گرچہ شئے ہو لیکن اس کا باطن لاشئے ہے، یہ اسی باطن کی معرفت لاشے کی معرفت کا طالب ہوتا ہے۔ باب العلم حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کے ایک معروف  قول کا مفہوم یوں ہے کہ اشیا انسانوں کے لیے ہوتی ہے‘ انسان اشیا کے لیے نہیں ہوتے، اشیا کو خرچ کیا جاتا ہے اور انسانوں کو بچایا جاتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اشیا کو بچانے میں مصروف ہو جاؤ اور انسان ضائع کر بیٹھو!! اشیا کی حقیقت جاننے والا ہی درحقیقت خلیفۃ اللہ کے منصب کا اہل ہوتا ہے۔


ای پیپر