ہم پاپی تو ایسے جلے....
13 جنوری 2021 2021-01-13

کچھ دنوں سے میرے ذہن میں طوطے اورطوطی کی کہانی مسلسل یاد آرہی ہے ہوسکتا ہے، آپ نے بھی یہ کہانی سنی ہو، اگر یاد نہیں توکوئی بات نہیں میں دہرائے دیتا ہوں۔ ایک باغ میں طوطا اور طوطی اکٹھے رہتے تھے، دونوں بڑے امن اور چین سے رہ رہے تھے، اُنہیں کسی قسم کی فکر نہیں تھی، کھانے پینے کو سب کچھ وافر مقدار میں موجود تھا، ایک دن دونوں نے فیصلہ کیا کہ موسم خزاں کے آنے سے پہلے ہمیں کسی دوسرے باغ میں چلے جانا چاہیے انہوں نے ایک باغ کے بارے میں کافی تعریفیں سن رکھی تھیں۔ لہٰذا ایک دن دونوں بادل نخواستہ وہاں سے کوچ کر گئے، وہاں پہنچ کر انہیں اندازہ ہوا، کہ وہ بالکل غلط فیصلہ کرچکے ہیں، کیونکہ اس سے تو کہیں بہتر پرانی جگہ تھی، جہاں وہ مدتوں سے آباد تھے، کیونکہ یہ جگہ تو بالکل ویران لگتی تھی اور جہاں امن و سکون تھا، وہ دونوں اس صورت حال پر بحث ومباحثے میں مصروف تھے طوطا بولا کہ میرا خیال ہے، کہ اس باغ کی بربادی کی وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ اس جگہ اُلو رہتے ہوں گے۔ 

اتفاق سے درخت کی اُونچی شاخ پہ الو بیٹھا تمام باتیں سن رہا تھا، جب طوطا اور طوطی بولے کہ شام کو تم جانے لگو گے تو تمہارے سوال کا جواب دوں گا، شام کو جب وہ جانے لگے تو الو ان کے پاس آیا، اور بولا کہ تم کہاں جارہے ہو، طوطا بولا کہ ہم اب اپنے پہلے والے باغ میں جارہے ہیں، تو اُلو بولا، کہ تم بے شک چلے جاﺅ، لیکن میری بیوی کو یہاں چھوڑ جاﺅ، یہ سن کر طوطا بہت ہی پریشان ہوا، اور بولا یہ تو میری بیوی ہے، لیکن اُلو نے نہایت رعب دار انداز اختیار کرتے ہوئے کہا، کہ تمہارا دماغ درست ہے، دیکھتے نہیں کہ اُس کی چونچ میرے جیسی ہے اور اس کے پر بھی میرے پر جیسے ہیں، طوطا ان کی بات سن کر ڈرگیا، اور وہ اس وقت مصلحتاً خاموش ہوگیا، اور ڈرگیا اُلو بولا اگر تم چاہو، تو اس بات کا فیصلہ منصف اعلیٰ ”عقاب“ سے کرالیتے ہیں، لہٰذا وہ تینوں عقاب کے پاس پہنچ گئے، تو عقاب نے دونوں پارٹیوں کے دلائل سنے اور پھرایک لمحے کی خاموشی اختیار کرکے اُلو کے حق میں فیصلہ کردیا اور بولا، کہ حقائق کی روسے تو اُلو اور طوطی کے پر اور چونچ میں بے حد مشابہت پائی جاتی ہے، لہٰذا جنگل کے قانون کی روسے طوطی اُلو کی بیوی ثابت ہوگئی ہے، یہ سن کر طوطا بے چارہ بہت پریشان غمگین اور اداس ہوگیا، اور سردآہ بھرتے ہوئے بقول نیر بولا کہ 

میں بے چارہ مفلس روگی

میرے پاس نہیں ہے کچھ بھی!

ظالم نے سب لُوٹ لیا ہے!

میراحق پامال ہوا ہے!

آخر طوطے نے یہ سوچا، کہ مجھے بھاگ کر اپنی جان بچانی چاہیے ،یہ نہ ہو کہ اُلو مجھے مارڈالے، مجھے یہاں سے فوراً کوچ کرجانا چاہیے جب طوطا جانے لگا، تو اُلو بولا ٹھہرو، اپنی بیوی کو بھی ساتھ لیتے جاﺅ میں نے تو محض تمہارے سوال کا جواب دینا تھا۔ یہ باغ اور یہ گلستان ہماری وجہ سے نہیں اُجڑا، جس جگہ انصاف کا یہ حال ہو جائے، تو وہ جنگل یا شہر بلکہ وہ ملک اسی طرح تباہ ہوجاتا ہے ۔

کیونکہ ہمارے اسلاف کا فرمان ہے، کہ کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے، لیکن ظلم اور ناانصافی سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، اور آفات ارضی و سماوی اسی طرح کبھی زلزلوں اور کبھی سیلابوں، اور کبھی قحط سالی، کبھی سانحہ والمیہ مچھ، جہاں بڑی عیاری ومکاری سے، شیعہ سنی فسادات ملک بھر میں شروع کرنے کی سوچی، سمجھی سکیم کے ساتھ بار بار اعادہ کیا جاتا ہے، اس حوالے سے کبھی بھی اس زمینی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، کہ بھارت کی ”را“ ہمیں بڑی خوش اسلوبی سے ٹوٹ بٹوٹ بناجاتی ہے، کیونکہ دہشت گردی کی یہ لہر کرونا کی دوسری لہر جیسی ہے ۔ 

سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اگر ہم نے بھی ہندوستان کی طرح ملک کو فرقہ واریت اور عصبیت اور مذہبی تفادت میں تقسیم کرنا تھا، توپھر آزادی حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ تاہم وطن عزیز کے بیس کروڑ سے زیادہ عوام، یہ جاننے کے لیے یقیناً حق بجانب ہیں، کہ عوام کے جان ومال حتیٰ کہ اقلیتوں کی بھی جان اور مال کی عزت، اور جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے؟لیکن ہم یہ زمینی حقیقت بھی فراموش نہ کریں کہ عوام کے حقوق کی حفاظت خود عملاً حکمران تو نہیں کرسکتے، اوریہ فرائض ہماری سیکورٹی ایجنسیز ادا کرتی ہیں، خصوصاً ایف سی کی یہ ذمہ داری ہے، ہماری ملکی بجٹ کا بڑا حصہ اس ادارے کو دیاجاتا ہے، تو پھر حکمرانوں کو براہ راست اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شہداءمچھ کے متاثرین کے ساتھ معاہدہ کرلینا، اور ان کے مطالبات مان لینا بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہے، کہ آئندہ اس قسم کی حرکات اور دہشت گردی نہیں ہوگی؟ مدتوں پہلے اگر ایک خاتون جو بظاہر علم ودانش سے عاری تھی لیکن اس کا حقوق وفرائض کے عروج وکمال کا اندازہ لگائیے کہ اس وقت یعنی مدتوں پہلے ایک ان پڑھ خاتون نے حکمران کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ اگر میرے گھر میں چوری نہیں روک سکتے، تو اتنے دورحکمرانی کی کیا ضرورت تھی، اب قارئین ، اس زمانہ جاہلیت کے سوال کا جواب کون دے گا، حکمران یا ایجنسیز ۔


ای پیپر