اپنا نہیں کراچی کا حق مانگ رہے ہیں :خالد مقبول صدیقی
13 جنوری 2020 (17:42) 2020-01-13

کراچی: پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات میں خالد مقبول نے اپنے استعفے پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بات چیت نہیں نتیجہ چاہیے،یک ارب دینے کے لیے کتنی منت سماجت کرنا پڑے گی، ہم اپنے لیے نہیں بلکہ کراچی کا حق مانگ رہے ہیں۔

پیر کو حکومت کی سب سے اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کا وفد بہادرآباد میں واقع پارٹی کے عارضی مرکز پہنچا۔ مذاکرات کے دوران اسد عمر نے خالد مقبول صدیقی سے کہا کہ آپ کیوں ناراض ہوگئے، اب ناراضگی ختم کریں، ایم کیو ایم کے مطالبات درست ہیں انہیں ہمیشہ تسلیم کیا ہے، معاملات الگ ہونے سے نہیں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے۔ جس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں بات چیت نہیں نتیجہ چاہیے۔ ایک ارب دینے کے لیے کتنی منت سماجت کرنا پڑے گی اور ہم اپنے لیے نہیں بلکہ کراچی کا حق مانگ رہے ہیں۔

 اسد عمر نے کہا کہ ہمیں اپنے تمام وعدے یاد ہیں کل کی پریس کانفرنس میں کوئی سنسنی خیزی نہیں تھی،ہم نے پہلے بھی کہا تھا حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے جبکہ اسد عمر نے کہا ایم کیو ایم کے مطالبات درست ہیں انہیں ہمیشہ تسلیم کیا ہے، معاملات الگ ہونے سے نہیں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے، کراچی کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر جلد کام شروع ہوگا، کراچی کے لیے162 ارب سے زیادہ کے منصوبے ہوں گے، وزیراعظم کراچی آکر مختلف منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔کبھی کبھی انسان کا دل کرتا ہے کابینہ میں نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، 7 ماہ میں بھی کابینہ کے باہر گزار کر آیا ہوں، خالد مقبول صدیقی وزارت چھوڑنے کے فیصلے پرقائم ہیں، ہماری خواہش ہے کہ خالد مقبول صدیقی کابینہ کا حصہ رہیں۔


ای پیپر