ایران کا امریکی فوج اَڈوں پر بلاسٹک میزائلوں کا انتقامی حملہ
13 جنوری 2020 (17:19) 2020-01-13

فریقین کو تحمل مزاجی سے سوچنا چاہئے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ خود ایک مسئلہ ہے

نعیم سلہری

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی میزائل حملے میں جاں بحق ہونے کے بعد امریکہ ایران کشیدگی نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 17 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے عراق میں ایربل اور عین الاسد کے مقام پر 2 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی، اتحادی افواج کے اہلکار موجود تھے جبکہ مذکورہ حملے میں ایران نے اپنی سرزمین سے ایک درجن سے زائد میزائل فائر کیے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق میزائل حملے میں ’80 امریکی دہشت گرد‘ ہلاک ہوئے اور کوئی میزائل روکا نہیں جاسکا۔سرکاری ٹی وی نے پاسداران انقلاب کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اگر امریکا نے جوابی کارروائی کی تو ایران کی نظر خطے میں موجود 100 اہداف پر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی ہیلی کاپٹرز اور فوجی سازو سامان کو بھی ’سخت نقصان‘ پہنچا ہے۔واضح رہے کہ 1979 میں تہران میں موجود امریکی سفارتخانے کا محاصرہ کرنے کے بعد سے اب تک کا یہ ایران کا امریکا کے خلاف سب سے بڑا براہ راست حملہ ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویڑن کے مطابق ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں امریکا کو مزید اموات سے بچنے کے لیے خطے سے اپنے فوجی اہلکار واپس بلانے کی تجویز بھی دی اور امریکی اتحادیوں بشمول اسرائیل کو خبردار کیا کہ حملوں کے لیے اپنی سرزمین نہ استعمال ہونے دے۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے ایرانی حملے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے ایک بیان میں کہا کہ عراق میں عین الاسد فضائی اڈے اور ایربیل میں ایک اور اڈے کو نشانہ بنایا گیا، ہم لڑائی سے ہونے والے نقصانات کے ابتدائی جائزے پر کام کررہے ہیں‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’جیسے ہی ہم صورتحال اور اپنے ردِ عمل کا اندازہ لگالیں گے خطے میں موجود امریکی اہلکاروں، اتحادیوں اور شراکت داروں کا دفاع اور حفاظت کرنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے‘۔

عراقی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ میزائل حملوں میں 2 اڈوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس میں کوئی عراقی شہری ہلاک نہیں ہوا۔بیان کے مطابق رات ایک بج کر 45 منٹ سے 2 بج کر 15 منٹ کے دوران عراق میں 22 میزائل داغے گئے جس میں سے 17 میزائلوں نے عین الاسد بیس جبکہ 5 نے ایربل شہر میں فوجی اڈے کا نشانہ بنایا۔بیان میں غیر ملکی افواج کے جانی نقصان کی کوئی تفصیلات فراہم کیے بغیر صرف اتنا بتایا گیا کہ حملے سے متاثرہ افراد میں عراقی فوج کا کوئی اہلکار شامل نہیں۔

ادھر عراقی فوج کو داعش کے خلاف لڑنے کی ٹریننگ دینے والی اتحادی افواج نیٹو کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اپنے فوجیوں کو عراق سے واپس نکالنا شروع کردیا ہے۔نیٹو کی جانب سے یہ فیصلہ ایران اور امریکا کے درمیان ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹین برگ نے اعلان کیا ہے کہ مقامی فوجی کی تربیت کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔نیٹو اہلکاروں کی سیکیورٹی کے لیے ادارے کا کہنا تھا کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے جن میں چند اہلکاروں کو عارضی طور پر عراق کے اندر اور باہر مختلف مقامات پر منتقل کریں گے'۔

ایران کے اس حملے کے بعد امریکہ کیا ، کب اور کیسے جواب دیتا ہے، یہ کہنا تاحال ممکن نہیں۔ اس تنازعہ کی ابتدا جب شروع ہوئی جب امریکہ نے ڈرون حملہ سے ایران کی پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو دیگر فوجی اعلیٰ حکام کو ہمراہ شہید کیا گیا، جنرل سلیمانی اپنے ملک کی ایک انتہائی اہم شخصیت تھے جو 1980ءسے لے کر 1988ءتک عراق، ایران جنگ میں ایک نوجوان آفیسر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے۔ پھر وہ 1998ء میں پاسداران انقلاب کے اہم ترین ونگ قدس فورس کے سربراہ مقرر کئے گئے۔ جنرل سلیمانی ایرانی قیادت کی نگاہ میں ہیرو ہیں جبکہ امریکی صدر کے نزدیک وہ ولن تھے۔ 62 سالہ جنرل قاسم سلیمانی نے حزب اللہ کی اسرائیل کے ساتھ 30 دن تک جاری رہنے والی جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور ان کے فوجی ایرانی مفادات کے تحفظ کے لئے پیش پیش تھے۔ وہ اکثر عراق، لبنان اور شام سفر کرتے رہتے تھے۔ وہ امریکی اور اسرائیلیوں کے خلاف ایرانیوں کے لیے مزاحمت کی علامت تھے۔

قاسم سلیمانی ایک مو¿ثر دفاعی اور سیاسی شخصیت تھے۔ اس حوالے سے ایک فرانسیسی میگزین نے قاسم سلیمانی کا دفاعی اور سیاست کی سرفہرست پانچ شخصیات اور مفکرین کے طور پر ذکر کیا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’قاسم سلیمانی 20 سال سے زیادہ عرصے سے ایران کے فوجی آپریشن کے مرکزی رہنما رہے ہیں۔ لیکن اس سارے وقت میں، ان کی حیثیت اتنی نمایاں نہیں تھی جتنی آج ہے۔۔۔ اس ایرانی کمانڈر کی موجودگی کے نشانات ان ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں جہاں ایران کا اثر و رسوخ ہے۔ یمن اور عراق سے شام تک یہ موجودگی ہے۔ اب قاسم سلیمانی درحقیقت ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کا ردعمل ہے۔‘

قاسم سلیمانی نے متعدد مواقعوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اپنے مشہور ترین ریمارکس میں انہوں نے امریکی صدر سے کہا: ’مسٹر ٹرمپ، میں آپ کو کہتا ہوں ہم آپ کے سوچنے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ کوئی رات ایسی نہیں ہے جب ہم آپ کے بارے میں نہیں سوچتے ہیں۔‘لیکن نئے سال کے موقع پر قاسم سلیمانی امریکی صدر کے حکم پر اور ایک ایسے ملک کی سرزمین پر مارے گئے جو خود جنگ و ہنگامے سے متاثر ہے۔اپنی انتہائی اہم شخصیت کی یوں ڈرون حملے میں ہلاکت اہل ایران کے نزدیک بہت بڑا صدمہ ہے۔ اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا ایک طبقہ تیسری عالمی جنگ چھڑنے کی باتیں کر رہا ہے جب کہ سابق امریکی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا امکان نہیں تاہم محدود جنگ ہو سکتی ہے۔

فی الوقت جنرل قاسم سلیمانی کے جاں بحق ہونے کے بعد فریقین کے درمیان لفظی جنگ عروج پر ہے، ایران اس بات کا باربار اعادہ کر رہا ہے کہ جنرل کی موت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، اس حوالے سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اب پراکسی وار نہیں ہو گی، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ سرِعام لیں گے۔ دوسری طرف امریکہ باربار خبردار کر رہا ہے کہ اگر ایسا کوئی اقدام ہوا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

اگر بات کی جائے ایران امریکہ کشیدگی کی تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی مرتبہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے سائے گہرے ہوتے اور چھٹتے رہے ہیں۔ امریکہ کی مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میںموجودگی کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ امریکہ کی فوجیں کئی دہائیوں سے عرب ممالک میں موجود ہیں۔ نام نہاد اسرائیل سے کبھی عرب ممالک کی بقاءکو خطرہ کی پھول جڑی چھوڑی جاتی تو کبھی ایران کے میزائل دکھاکر وہاں فوجوں کی موجودگی کا جواز مضبوط کیا جاتا ہے۔ خیال رہے اس خطے میں ایران کی میزائل طاقت کا کسی ملک سے موازنہ نہیں۔ یہی میزائل لبنان کی ایران نواز حزب اللہ کے پاس بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں، بات صرف یہ ہے کہ ایران امریکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں، اور یہ ایسی حقیقت ہے جسے امریکہ ہمیشہ سے تلخ سمجھتا آیا ہے۔ اسی لئے 1979ءکے انقلاب ایران کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ چار عشروں پر محیط یہ عرصہ زیادہ تر کشیدگی، تناﺅ، دھمکیوں اور پابندیوں کی شکل میں گزرا ہے۔ دوطرفہ کشیدگی کی اس تاریخ میں عالمی برادری نے سابقہ امریکی دور حکومت میں امریکہ ایران جوہری سمجھوتے کو عالمی امن کے لئے خوش آئند قرار دیا تھا لیکن افسوس کہ موجودہ امریکی قیادت کی جانب سے اسے بھی جنگی جنون کی نذر کرتے فراموش کر دیا گیا۔یوں اس اصول کی نفی کی گئی کہ حصولِ توانائی اور پرامن مقاصد کے لئے جوہری طاقت کا استعمال ہر ملک کا حق ہے۔

حالات کا جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ اب اگر ایران امریکہ جنگ چھڑ جاتی ہے تو نقصان دو ممالک کا نہیں، پورے خطے بلکہ پوری دنیا کا ہو گا، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اس کا اندازہ امریکہ کو ویتنام، عراق اور افغانستان کی جنگوں سے خوب ہو چکا ہے، اس لئے فریقین کو تحمل مزاجی سے کام لے کر معاملات نمٹانے ہوں گے۔ کیونکہ جنگ کوئی بھی نہیں چاہتا یہاں تک امریکہ خود بھی اب کسی حربی ٹاکرے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جس کے چند شواہد یوں ہیں: امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر شدید تنقید کی ہے۔

اسی طرح ٹرمپ مخالف ڈیمو کریٹ پارٹی کے ممتاز رہنما برنی سینڈر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑنے دیں گے۔ امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ میں معاشی صورت حال بھی بہت دگرگوں ہے۔ امریکی ووٹروں کی ایک معمولی تعداد ٹرمپ سٹائل کو پسند کرتی ہے مگر ووٹروں کی اکثریت کسی نئی جنگ کے خلاف ہے۔ امریکہ میں کوئی بھی شخص چاہے وہ سیاست دان ہو یا معیشت دان یا قانون دان یا عام شہری، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کی حمایت پر ہرگز آمادہ نہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کے لئے کوئی جنگی صورت حال ہماری تزویراتی سیاست اور ڈولتی معیشت کے لئے انتہائی مہلک ہو گی۔

پاکستان کے لئے دہشت گردی کے خلاف لڑی گئی طویل جنگ کے بعد یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ کسی نئے تنازع کا حصہ بنے۔ پاکستان اپنی تباہ حال معیشت کو راہ راست پر لانے کے لئے امن کو ایک موقع کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ایران نے کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کی اس لئے برادر ہمسایہ ملک کے طور پر ہمیں صورت حال میں گھلی کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں تقریر کے دوران ایران امریکہ کشیدگی پر تفصیلی بات کی۔ انہوں نے ان گیارہ نکات کی نشاندہی بھی کی جو اس صورت حال میں سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت صورت حال کو سفارتی کوششوں سے معمول پر لانے کی حمایت کرنا ہے۔

اس حوالے سے مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی کے دوران ہم کو دانشمندی سے اپناراستہ نکالناچاہئے۔ ہم بہت اہم ملک ہیں اور امریکہ کو ہماری ضرورت ہے، ہمیں موجودہ صورتحال میں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں ایسا معاملہ کرناچاہئے کہ ایران کے خلاف بھی استعمال ہونے کا تاثر نہ جائے اور امریکہ کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات برقرار رہیں۔ ہمارے سامنے ترکی کی مثال موجود ہے، ترکی نیٹو کا ممبر بھی اور امریکہ کا دوست ملک بھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ روس سے بھی اسلحہ لے رہا ہے۔ پاکستان کی ایک اپنی اہمیت ہے اور ہمیں اس کا فائدہ اٹھاناچاہئے۔

سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کا محور اس نکتہ پر ہے کہ ہماری پاک سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو لیکن اب ہمیں صرف غیرجانبداری یا لاتعلقی کی پالیسی پر ہی تکیہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ جنگ شروع ہونے سے قبل ہی سفارتی محاذ پر نہایت متحرک ہونا ہوگا چاہے ہمیں ثالثی کا کردار ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔


ای پیپر