سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف فیصلے کالعدم قرار
13 جنوری 2020 (16:40) 2020-01-13

لاہور : سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے قیام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیصلہ کو غیر آئینی قرار دیا ہے ۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس چوہدری مسعود پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پرویز مشرف کی سزا معطلی کے لیے متفرق درخواستوں پر سماعت کی،فیصلہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سنایا جس میں پرویز مشرف کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ اشتغاثہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

فیصلے کے مطابق آرٹیکل چھ کے تحت ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا، صرف وزیراعظم کے حکم پر کارروائی آئین کی خلاف ورزی ہے،سماعت کے دوران عدالت نے کرمنل لاء اسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976 دفعہ 4 کو کالعدم قرار دیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے سماعت کے دوران بتایا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے حوالے سے کابینہ نے فیصلہ نہیں کیا، اس حوالےسے ریکارڈ بھی موجود نہیں یہی حقیقت ہے،اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ہوگیا کہ عدالت کی تشکیل پانچ برس بعد ہوئی۔


ای پیپر